ٹیگ کے محفوظات: سلسلہ

اور بھید میں کائنات کا ہوں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 128
پانی یہ حباب سا اٹھا ہوں
اور بھید میں کائنات کا ہوں
خلوت میں وہ چاند دیکھنے کو
اشکوں میں کنول سا تیرتا ہوں
پانے کو فراز چاہتوں کا
مَیں دار پہ بارہا سجا ہوں
کیوں ہجر قبول کرکے اُس کا
پھر آگ میں کُودنے لگا ہوں
ہو کچھ بھی جو اختیار حاصل
خود وقت ہوں خود ہی مَیں خدا ہوں
کندن ہی مجھے کہو کہ لوگو!
مَیں دہر کی آگ میں جلا ہوں
رُکنے کا نہ ہو کہیں جو ماجدؔ
فریاد کا مَیں وہ سلسلہ ہوں
ماجد صدیقی

سحر نما ہے مجھے جو بھی کچھ کہا ہے مرا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 6
ہر ایک حرفِ غزل حرفِ مدّعا ہے مرا
سحر نما ہے مجھے جو بھی کچھ کہا ہے مرا
جو بعدِ قتل مرے، خوش ہے تُو، تو کیا کہنے
ترے لبوں کا تبسّم ہی خوں بہا ہے مرا
مرے سوال سے تیرا بھرم نہ کُھل جائے
ترے حضور بھی اب ہاتھ تو اُٹھا ہے مرا
بھلائی جب مرے ہاتھوں نہیں مرے حق میں
کہو گے جو بھی اُسی بات میں برا ہے مرا
کہیں تو خاک بسر ہوں،کہیں ہوں ماہ بدست
بڑا عجیب طلب کا یہ سلسلہ ہے مرا
ماجد صدیقی

اب تو بس معلوم کرنا ہے کہ کیا موجود ہے

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 84
یہ خبر ہے، مجھ میں کچھ میرے سِوا موجود ہے
اب تو بس معلوم کرنا ہے کہ کیا موجود ہے
ایک میں ہوں، جس کا ہونا ہو کے بھی ثابت نہیں
ایک وہ ہے جو نہ ہو کر جابجا موجود ہے
ہاں خدا ہے، اس میں کوئی شک کی گنجائش نہیں
اس سے تم یہ مت سمجھ لینا خدا موجود ہے
حل کبھی ہوتا نہیں یہ جسم سے چھوٹے بغیر
میں ابھی زندہ ہوں سو یہ مسئلہ موجود ہے
تاب آنکھیں لا سکیں اُس حسن کی، ممکن نہیں
میں تو حیراں ہوں کہ اب تک آئینہ موجود ہے
رات کٹتی ہے مزے میں چین سے ہوتی ہے صبح
چاندنی موجود ہے بادِ صبا موجود ہے
روشنی سی آرہی ہے اِس طرف چھنتی ہوئی
اور وہ حدۤت بھی جو زیرِ قبا موجود ہے
ایک پل فرصت کہاں دیتے ہیں مجھ کو میرے غم
ایک کو بہلا دیا تو دوسرا موجود ہے
درد کی شدۤت میں بھی چلتی ہے میرے دل کے ساتھ
اک دھڑکتی روشنی جو ہر جگہ موجود ہے
معتبر تو قیس کا قصہ بھی ہے اس ضمن میں
اس حوالے سے مرا بھی واقعہ موجود ہے
خواب میں اک زخم دیکھا تھا بدن پر جس جگہ
صبح دیکھا تو وہاں اک داغ سا موجود ہے
ایک ہی شعلہ سے جلتے آرہے ہیں یہ چراغ
میر سے مجھ تک وہی اک سلسلہ موجود ہے
یوں تو ہے عرفان ہر احساس ہی محدود سا
اک کسک سی ہے کہ جو بے انتہا موجود ہے
عرفان ستار

ابھی فرہاد و قیس آئے تھے کہنے مرحبا مجھ کو

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 23
جنوں کے دم سے آخر مرتبہ کیسا ملا مجھ کو
ابھی فرہاد و قیس آئے تھے کہنے مرحبا مجھ کو
کسی صورت بھی رد ہوتا نہیں یہ فیصلہ دل کا
نظر آتا نہیں کوئی بھی تجھ سا دوسرا مجھ کو
سرِ کنجِ تمنا پھر خوشی سے گنگنائوں گا
اگر وہ لوٹ کر آئے تو پھر تم دیکھنا مجھ کو
نہ جانے رشک سے، غصے سے، غم سے یا رقابت سے
یہ کس انداز سے تکتا ہے تیرا آئنہ مجھ کو
کھلے تو سب زمانوں کے خزانے ہاتھ آ جائیں
درِ اقلیمِ صد عالم ہے وہ بندِ قبا مجھ کو
گماں میں بھی گماں لگتی ہے اب تو زندگی میری
نظر آتا ہے اب وہ خواب میں بھی خواب سا مجھ کو
کثافت بار پا سکتی نہیں ایسی لطافت میں
کرم اُس کا کہ بخشا دل کے بدلے آئنہ مجھ کو
صبا میری قدم بوسی سے پہلے گُل نہ دیکھے گی
اگر وحشت نے کچھ دن باغ میں رہنے دیا مجھ کو
نہ نکلی آج گر کوئی یہاں یکجائی کی صورت
تو کل سے ڈھونڈتے پھرنا جہاں میں جا بہ جا مجھ کو
گزر گاہِ نفس میں ہوں مثالِ برگِ آوارہ
کوئی دم میں اڑا لے جائے گی بادِ فنا مجھ کو
وہ دل آویز آنکھیں، وہ لب و رخسار، وہ زلفیں
نہیں اب دیکھنا کچھ بھی نہیں اس کے سوا مجھ کو
ازل سے تا ابد، دنیا سے لے کر آسمانوں تک
نظر آتا ہے تیری ہی نظر کا سلسلہ مجھ کو
مرے ہونے سے ہی کچھ اعتبار اس کا بھی قائم ہے
جنوں تم سے نمٹ لے گا جو دیوانہ کہا مجھ کو
کوئی عرفانؔ مجھ میں سے مجھے آواز دیتا ہے
ارے تُو سوچتا کیا ہے کبھی کچھ تو بتا مجھ کو
عرفان ستار

ہزار زخم سہے، اور دل بڑا رکھا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 11
کبھی کسی سے نہ ہم نے کوئی گلہ رکھا
ہزار زخم سہے، اور دل بڑا رکھا
چراغ یوں تو سرِ طاقِ دل کئی تھے مگر
تمہاری لَو کو ہمیشہ ذرا جدا رکھا
خرد سے پوچھا، جنوں کا معاملہ کیا ہے؟
جنوں کے آگے خرد کا معاملہ رکھا
ہزار شکر ترا، اے مرے خدائے جنوں
کہ مجھ کو راہِ خرد سے گریزپا رکھا
خیال روح کے آرام سے ہٹایا نہیں
جو خاک تھا سو اُسے خاک میں ملا رکھا
چھپا ہُوا نہیں تجھ سے دلِ تباہ کا حال
یہ کم نہیں کہ ترے رنج کو بچا رکھا
وہ ایک زلف کہ لپٹی رہی رگِ جاں سے
وہ اک نظر کہ ہمیں جس نے مبتلا رکھا
بس ایک آن میں گزرا میں کس تغیّر سے
کسی نے سر پہ توجّہ سے ہاتھ کیا رکھا
سنائی اپنی کہانی بڑے قرینے سے
کہیں کہیں پہ فسانے میں واقعہ رکھا
سنا جو شور کہ وہ شیشہ گر کمال کا ہے
تو ہم لپک کے گئے اور قلب جا رکھا
میں جانتا تھا کہ دنیا جو ہے، وہ ہے ہی نہیں
سو خود کو خواہشِ دنیا سے ماورا رکھا
مرے جنوں نے کیے رد وجود اور عدم
الگ ہی طرح سے ہونے کا سلسلہ رکھا
خوشی سی کس نے ہمیشہ ملال میں رکھی؟
خوشی میں کس نے ہمیشہ ملال سا رکھا؟
یہ ٹھیک ہے کہ جو مجھ پاس تھا، وہ نذر کیا
مگر یہ دل کہ جو سینے میں رہ گیا رکھا؟
کبھی نہ ہونے دیا طاقِ غم کو بے رونق
چراغ ایک بجھا، اور دوسرا رکھا
نگاہ دار مرا تھا مرے سِوا نہ کوئی
سو اپنی ذات پہ پہرا بہت کڑا رکھا
تُو پاس تھا، تو رہے محو دیکھنے میں تجھے
وصال کو بھی ترے ہجر پر اٹھا رکھا
ترا جمال تو تجھ پر کبھی کھلے گا نہیں
ہمارے بعد بتا آئینے میں کیا رکھا؟
ہر ایک شب تھا یہی تیرے خوش گمان کا حال
دیا بجھایا نہیں اور در کھلا رکھا
ہمی پہ فاش کیے راز ہائے حرف و سخن
تو پھر ہمیں ہی تماشا سا کیوں بنا رکھا؟
ملا تھا ایک یہی دل ہمیں بھی آپ کو بھی
سو ہم نے عشق رکھا، آپ نے خدا رکھا
خزاں تھی، اور خزاں سی خزاں، خدا کی پناہ
ترا خیال تھا جس نے ہرا بھرا رکھا
جو ناگہاں کبھی اذنِ سفر ملا عرفان
تو فکر کیسی کہ سامان ہے بندھا رکھا
عرفان ستار

قسمت میں میری، صلہ نہیں ہے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 124
تجھ سے تو کوئی گلہ نہیں ہے
قسمت میں میری، صلہ نہیں ہے
بچھڑے تو حال نجانے کیا ہو
جو شخص ابھی ملا نہیں ہے
جینے کی تو آرزو ہی کب تھی
مرنے کا بھی حوصلہ نہیں ہے
جو زیست کو معتبر بنا دے
ایسا کوئی سلسلہ نہیں ہے
خوشبو کا حساب ہو چکا ہے
اور پھول ابھی کھلا نہیں ہے
سرشاری رہبری میں دیکھا
پیچھے میرا قافلہ نہیں ہے
اک ٹھیس پہ دل کا پھوٹ بہنا
چھونے میں تو آبلہ نہیں ہے !
پروین شاکر

وہ آئے تو مجھے اب بھی ہرا بھرا دیکھے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 114
اُسی طرح سے ہر اِک زخم خوشنما دیکھے
وہ آئے تو مجھے اب بھی ہرا بھرا دیکھے
گزر گئے ہیں بہت دن رفاقتِ شب میں
اب عُمر ہو گئی چہرہ وہ چاند سا دیکھے
مرے سکوت سے جس کو گِلے رہے کیا کیا
بچھڑتے وقت ان آنکھوں کا بولنا دیکھے
بس ایک ریت کا ذّرہ بچا تھا آنکھوں میں
ابھی تلک جو مسافر کا راستہ دیکھے
تیرے سوا بھی کئی رنگ خوش نظر تھے
جو تجھ کو دیکھ چکا ہو وہ اور کیا دیکھے
اُسی سے پوچھے کوئی دشت کی رفاقت جو
جب آنکھ کھولے، پہاڑوں کا سلسلہ دیکھے
تجھے عزیز تھا اور میں نے اُسے جیت لیا
مری طرف بھی تو اِک پل ترا خدا دیکھے
پروین شاکر

جو زخم ایک بار کھُلا پھر سلا کہاں

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 49
پھر چاکِ زندگی کو رفوگر ملا کہاں
جو زخم ایک بار کھُلا پھر سلا کہاں
کل رات ایک گھر میں بڑی روشنی رہی
تارا مرے نصیب کا تھا اور کھلا کہاں
اُتری ہے میری آنکھ میں خوابوں کی موتیا
ٹوٹے گا روشنی کا بھلا سلسلہ کہاں
بن عکس آئینے کا ہنر بھی نہ کھُل سکا
دُکھ کے بغیر قلب و نظر کو جِلا کہاں
ترکِ تعلقات کا کوئی سبب تو تھا
سننے کا میرے دل کو مگر حوصلہ کہاں
پروین شاکر

ہَوا کے ساتھ مسافر کا نقشِ پا بھی گیا

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 30
چراغِ راہ بُجھا کیا ، کہ رہنما بھی گیا
ہَوا کے ساتھ مسافر کا نقشِ پا بھی گیا
میں پُھول چنتی رہی اور مجھے خبر نہ ہُوئی
وہ شخص آکے مرے شہر سے چلا بھی گیا
بہت عزیز سہی اُس کو میری دلداری
مگر یہ ہے کہ کبھی دل مرا دُکھا بھی گیا
اب اُن دریچوں پہ گہرے دبیز پردے ہیں
وہ تاک جھانک کا معصوم سلسلہ بھی گیا
سب آئے میری عیادت کو، وہ بھی آیا
جو سب گئے تو مرا درد آشنا بھی گیا
یہ غربتیں مری آنکھوں میں کسی اُتری ہیں
کہ خواب بھی مرے رُخصت ہیں ،رتجگا بھی گیا
پروین شاکر

اب آ چکا ہے لبوں پر معاملہ دل کا

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 16
زباں ہلاؤ تو ہو جائے فیصلہ دل کا
اب آ چکا ہے لبوں پر معاملہ دل کا
خدا کے واسطے کر لو معاملہ دل کا
کہ گھر کے گھر ہی میں ہو جائے فیصلہ دل کا
تم اپنے ساتھ ہی تصویر اپنی لے جاؤ
نکال لیں گے کوئی اور مشغلہ دل کا
قصور تیری نگہ کا ہے کیا خطا اس کی
لگاوٹوں نے بڑھا یا ہے حوصلہ دل کا
شباب آتے ہی اسے کاش موت بھی آتی
ابھارتا ہے اسی سن میں ولولہ دل کا
جو منصفی ہے جہاں میں تو منصفی تیری
اگر معاملہ ہے تو معاملہ دل کا
ملی بھی ہے کبھی عاشقی کی داد دنیا میں
ہوا بھی ہے کبھی کم بخت فیصلہ دل کا
ہماری آنکھ میں بھی اشک گرم ایسے ہیں
کہ جن کے آگے بھرے پانی آبلہ دل کا
ہوا نہ اس سے کوئی اور کانوں کان خبر
الگ الگ ہی رہا سب معاملہ دل کا
اگر چہ جان پہ بن بن گئی محبت میں
کسی کے منہ پر نہ رکھا غلہ دل کا
ازل سے تا بہ ابد عشق ہے اس کے لئے
ترے مٹائے مٹے گا نہ سلسلہ دل کا
کچھ اور بھی تجھے اے داغ بات آتی ہے
وہی بتوں کی شکایت وہی گلہ دل کا
داغ دہلوی

حالتِ حال یک صدا مانگو

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 72
کوئے جاناں میں اور کیا مانگو
حالتِ حال یک صدا مانگو
ہر نفس تم یقینِ منعم سے
رزق اپنے گمان کا مانگو
ہے اگر وہ بہت ہی دل نزدیک
اس سے دُوری کا سلسلہ مانگو
درِ مطلب ہے کیا طلب انگیز
کچھ نہیں واں سو کچھ بھی جا مانگو
گوشہ گیرِ غبارِ ذات ہوں میں
مجھ میں ہو کر مرا پتا مانگو
مُنکرانِ خدائے بخشزہ
اس سے تو اور اک خدا مانگو
اُس شکمِ رقص گر کے سائل ہو
ناف پیالے کی تم عطا مانگو
لاکھ جنجال مانگنے میں ہیں
کچھ نہ مانگو فقط دُعا مانگو
جون ایلیا

محل شکر ہے آتا نہیں گلہ مجھ کو

دیوان دوم غزل 933
عنایت ازلی سے جو دل ملا مجھ کو
محل شکر ہے آتا نہیں گلہ مجھ کو
تنک شراب ضعیف الدماغ ہوں ساقی
دم سحر مئے پرزور مت پلا مجھ کو
پڑا رہے کوئی مردہ سا کب تلک خاموش
ہلا کہیں لب جاں بخش کو جلا مجھ کو
جنوں میں سخت ہے اس زلف سے علاقۂ دل
خوش آگیا ہے نہایت یہ سلسلہ مجھ کو
فلک کی چرخ زنی برسوں ہو تو مجھ سا ہو
سمجھ سمجھ کے تنک خاک میں ملا مجھ کو
رہا تھا خوں تئیں ہمرہ سو آپھی خون ہے حیف
رفیق تجھ سا ملے گا کہاں دلا مجھ کو
درستی جیب کی اتنی نہیں ہے اے ناصح
بنے تو سینۂ صدچاک دے سلا مجھ کو
ہوا ہوں خاک پہ دل کی وہی ہے ناصافی
ابھی اس آئینے کی کرنی ہے جلا مجھ کو
مگر کہ مردن دشوار میر سہل ہے شوخ
ہلاک کرتا ہے تیرا مساہلہ مجھ کو
میر تقی میر

آنکھ سے منظر، خبر سے واقعہ ٹوٹا ہوا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 54
ہر کسی کا ہر کسی سے رابطہ ٹوٹا ہوا
آنکھ سے منظر، خبر سے واقعہ ٹوٹا ہوا
کیوں یہ ہم صورت رواں ہیں مختلف اطراف میں
ہے کہیں سے قافلے کا سلسلہ ٹوٹا ہوا!
وائے مجبوری کہ اپنا مسخ چہرہ دیکھئے
سامنے رکھا گیا ہے آئنہ ٹوٹا ہوا
خود بخود بدلے تو بدلے یہ زمیں ، اس کے سوا
کیا بشارت دے ہمارا حوصلہ ٹوٹا ہوا
خواب سے آگے شکستِ خواب کا تھا سامنا
یہ سفر تھا مرحلہ در مرحلہ ٹوٹا ہوا
کچھ تغافل بھی خبر داری میں شامل کیجئے
ورنہ کر ڈالے گا پاگل، واہمہ ٹوٹا ہوا
آفتاب اقبال شمیم

میں چپ رہوں تو یہ بھولی ہوئی صدا بھی نہ آئے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 241
سماعتوں میں کوئی حرف آشنا بھی نہ آئے
میں چپ رہوں تو یہ بھولی ہوئی صدا بھی نہ آئے
ہوا کا حکم ہو سب کچھ تو اس کنارے تک
یہ جلتے بجھتے چراغوں کا سلسلہ بھی نہ آئے
تمام خانہ خرابوں سے ہو گئیں آباد
وہ بستیاں جو ترے دربدر بسا بھی نہ آئے
تو کیا خراب ہی کی جائے یہ خدا کی زمیں
تو کیا دمشق کے جادے میں کربلا بھی نہ آئے
کبھی نہ ختم ہو یہ جنگلوں کی ہم سفری
میں تیرے ساتھ چلوں اور راستہ بھی نہ آئے
مجھے قبول نہیں ہے یہ عرض حال کی شرط
کہ میں سخن بھی کروں اور مدعا بھی نہ آئے
عرفان صدیقی

معرکوں کا فیصلہ ہو گا علیؑ آنے کو ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 175
خیمۂ نصرت بپا ہو گا علیؑ آنے کو ہیں
معرکوں کا فیصلہ ہو گا علیؑ آنے کو ہیں
دیکھتا ہوں آسمانوں پر غبار اُٹھتا ہوا
دلدلِ فرخندہ پا ہو گا علیؑ آنے کو ہیں
دُور اُفق تک ہر طرف روشن چراغوں کی قطار
داغ دل کا سلسلہ ہو گا علیؑ آنے کو ہیں
آئنے خوش ہیں کہ اُڑ جائے گی سب گردِ ملال
شہر میں رقصِ ہوا ہو گا علیؑ آنے کو ہیں
میں تو چپ تھا پھر زمانے کو خبر کیسے ہوئی
میرے چہرے پر لکھا ہو گا علیؑ آنے کو ہیں
ہو رہا ہے قید و بندِ رہزناں کا بند و بست
عاملوں کو خط ملا ہو گا علیؑ آنے کو ہیں
آج تک ہوتا رہا ظالم ترا سوچا ہوا
اب مرا چاہا ہوا ہو گا علیؑ آنے کو ہیں
جب اِدھر سے ہوکے گزرے گا گہر افشاں جلوس
میرا دروازہ کھلا ہو گا علیؑ آنے کو ہیں
چاکر دُنیا سے عرضِ مدّعا کیوں کیجیے
خسروِ دوراں سے کیا ہو گا علیؑ آنے کو ہیں
لفظ نذر شاہ کر دینے کی ساعت آئے گی
خلعتِ معنی عطا ہو گا علیؑ آنے کو ہیں
جان فرشِ راہ کر دینے کی ساعت آئے گی
زندگی کا حق ادا ہو گا علیؑ آنے کو ہیں
عرفان صدیقی

دُور تک لیکن سفر کا سلسلہ جیسے ہوا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 31
کوئی وحشی چیز سی زنجیرِ پا جیسے ہوا
دُور تک لیکن سفر کا سلسلہ جیسے ہوا
بند کمرے میں پراگندہ خیالوں کی گھٹن
اور دروازے پہ اِک آوازِ پا، جیسے ہوا
گرتی دیواروں کے نیچے سائے، جیسے آدمی
تنگ گلیوں میں فقط عکسِ ہوا، جیسے ہوا
آسماں تا آسماں سنسان سنّاٹے کی جھیل
دائرہ در دائرہ میری نوا، جیسے ہوا
دو لرزتے ہاتھ جیسے سایہ پھیلائے شجر
کانپتے ہونٹوں پہ اک حرفِ دُعا، جیسے ہوا
پانیوں میں ڈوبتی جیسے رُتوں کی کشتیاں
ساحلوں پر چیختی کوئی صدا، جیسے ہوا
کتنا خالی ہے یہ دامن، جس طرح دامانِ دشت
کچھ نہ کچھ تو دے اِسے میرے خدا، جیسے ہوا
عرفان صدیقی

نیند کی نوٹ بک میں تھا، کچھ تھا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 98
یاد کچھ بھی نہیں کہ کیا کچھ تھا
نیند کی نوٹ بک میں تھا، کچھ تھا
میں ہی کچھ سوچ کر چلا آیا
ورنہ کہنے کو تھا ، بڑا کچھ تھا
چاند کچھ اور کہتا جاتا تھا
دلِ وحشی پکارتا کچھ تھا
اس کی پاؤں کی چاپ تھی شاید
یا یونہی کان میں بجا کچھ تھا
میں لپٹتا تھا ہجر کی شب سے
میرے سینے میں ٹوٹتا کچھ تھا
کُن سے پہلے کی بات ہے کوئی
یاد پڑتا ہے کچھ، کہا کچھ تھا
پھرفلک سے بھی ہو گئے مایوس
پہلے پہلے تو آسرا کچھ تھا
ہے گواہی کو اک سیہ پتھر
آسماں سے کبھی گرا کچھ تھا
لوگ بنتے تھے گیت پہلے بھی
مجھ سے پہلے بھی سلسلہ کچھ تھا
موسمِ گل سے پہلے بھی موسم
گلستاں میں بہار کا کچھ تھا
اس کی آنکھیں تھیں پُر خطر اتنی
کہہ دیا کچھ ہے مدعا کچھ تھا
آنکھ کیوں سوگوار ہے منصور
خواب میں تو معاملہ کچھ تھا
منصور آفاق

دشتِکُن میں چشمۂ حمد و ثنا احمد رضا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 33
صبح دم شہرِ مدنیہ کی ہوا احمد رضا
دشتِکُن میں چشمۂ حمد و ثنا احمد رضا
حمد کی بہتی کرن وہ نعت کی اجلی شعاع
مدحتوں کے باغ کی بادِصبا احمد رضا
زندہ و جاوید رکھتا ہے انہیں عشقِ رسول
عشق کی بابت فنا نا آشنا احمد رضا
یہ سرِ فہرست عشاقِ محمدمیں ہے کون ؟
پوچھنے والے نے پھر خود ہی کہا احمد رضا
خانہ ء تاریک میں بھر دے اجالے لفظ سے
فیض کا سر چشمۂ صدق و صفا احمد رضا
کنزالایماں سے منور صحنِ اردو ہو گیا
آیتوں کا اختتامِ ترجمہ احمد رضا
روک دیتے ہیں بہارِ حکمت و عرفان سے
بد عقیدہ موسموں کا سلسلہ احمد رضا
آسماں کی بے کراں چھاتی پہ روز حشر تک
صبح نے کرنوں سے اپنی، لکھ دیا، احمد رضا
جل اٹھے ان سے سبھی علمِ عقائد کے چراغ
راستی کا روشنی کا راستہ احمد رضا
صاحبِ علم الکلام و حاملِ علم شعور
حاصلِ عہد علومِ فلسفہ احمد رضا
عالمِ علم لدنی ، عاملِ تسخیرِ ذات
روح و جاں میں قربِ احساسِ خدا احمد رضا
وہ صفاتِ حرف کی رو سے مخارج کے امیں
محرمِ احکامِ تجوید و نوا احمد رضا
بابتِ تفسیر قرآں جانتے تھے ایک ایک
معنی و تفہیمِ الہامِ الہ احمد رضا
وہ روایت اور درایت آشنا شیخ الحدیث
علمِ احوالِ نبی کے نابغہ احمد رضا
مالکی وشافعی ہوں یا کہ حنفی حنبلی
فقہ اربعہ پہ حرف انتہا احمد رضا
علمِ استخراجیہ ہویا کہ استقرائیہ
دیدہ ء منطق میں ہے چہرہ نما احمد رضا
علم ہندسہ و ریاضی کے نئے ادوار میں
موئے اقلیدس کی اشکال و ادا احمد رضا
علم جامع و جفر کی ہر ریاضت گاہ میں
جو ہرِ اعداد کی صوت و صدا احمد رضا
وہ بروج فلکیہ میں انتقال شمس ہیں
صاحبِعلمِ نجوم و زائچہ احمد رضا
وقت کی تاریخ ان کے ہاتھ پر تحریر ہے
جانتے ہیں سرگزشتِ ماجرا احمد رضا
روشنی علمِ تصوف کی انہی کی ذات سے
کثرتِ جاں میں لبِ وحدت سرا احمد رضا
حرفِ آخر تھے وہی عربی ادب پر ہند میں
والی ء تختِ علوم عربیہ احمد رضا
علمِ جاں ، علمِ فضائلِ علمِ لغت ،علم سیر
در علومِ خیرتجسیمِ ضیا احمد رضا
آسمانِ معرفت ، علمِ سلوک وکشف میں
منظرِبدرالدجیٰ ، شمس الضحیٰ احمد رضا
صبحِ عرفانِ الہی ، عابد شب زندہ دار
مسجدِ یاد خدا و مصطفی احمد رضا
عجز کا پندار ہے میرے قلم کی آنکھ میں
جو کچھ لکھا میں نے، کہیں اُس سے سوا احمد رضا
ٹوٹے پھوٹے لفظ تیری بارگاہ میں پیش ہیں
گرقبول افتدزہے عزوعطا احمد رضا
اعلی حضرت اہلِ سنت کے امام و پیشوا
اک نگہ مجھ پہ کرم کی اک نگہ احمد رضا
منصور آفاق

درخت سے ہمیں سایہ جدا نظر آیا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 66
تری نگاہ کا انداز کیا نظر آیا
درخت سے ہمیں سایہ جدا نظر آیا
بہت قریب سے آواز ایک آئی تھی
مگر چلے تو بڑا فاصلہ نظر آیا
یہ راستے کی لکیریں بھی گم نہ ہو جائیں
وہ جھاڑیوں کا نیا سلسلہ نظر آیا
یہ روشنی کی کرن ہے کہ آگ کا شعلہ
ہر ایک گھر مجھے جلتا ہوا نظر آیا
کلی کلی کی صدا گونجنے لگی دل میں
جہاں بھی کوئی چمن آشنا نظر آیا
بتاؤ کس لئے پتھر اٹھائے پھرتے ہو
کہو تو آئنہ خانے میں کیا نظر آیا
یہ دوپہر یہ پگھلتی ہوئی سڑک باقیؔ
ہر ایک شخص پھسلتا ہوا نظر آیا
باقی صدیقی