ٹیگ کے محفوظات: سلایا

یعنی جدائی کا ہم صدمہ بڑا اٹھایا

دیوان دوم غزل 764
یہ چوٹ کھائی ایسی دل پر کہ جی گنوایا
یعنی جدائی کا ہم صدمہ بڑا اٹھایا
مدت میں وہ ہوا شب ہم بستر آ کے میرا
خوابیدہ طالعوں نے اک خواب سا دکھایا
الجھائو پڑ گیا سو سلجھی نہ اپنی اس کی
جھگڑے رہے بہت سے گذرے بہت قضایا
آئینہ رو ہمارا آیا نہ نزع میں بھی
وقت اخیر ان نے کیا خوب منھ چھپایا
اس بے مروتی کو کیا کہتے ہیں بتائو
ہم مارے بھی گئے پر وہ نعش پر نہ آیا
وہ روے خوب اب کے ہرگز گیا نہ دل سے
جب گل کھلا چمن میں تب داغ ہم نے کھایا
خلطہ ہمارا اس کا حیرت ہی کی جگہ ہے
ڈھونڈا جہاں ہم اس کو واں آپ کو ہی پایا
طرز نگہ سے اس کی بے ہوش کیا ہوں میں ہی
ان مست انکھڑیوں نے بہتیروں کو سلایا
آنکھیں کھلیں تو دیکھا جو کچھ نہ دیکھنا تھا
خواب عدم سے ہم کو کاہے کے تیں جگایا
باقی نہیں رہا کچھ گھٹتے ہی گھٹتے ہم میں
بیماری دلی نے چنگا بہت بنایا
تونے کہ پائوں دل سے باہر نہیں رکھا ہے
عیارپن یہ کن نے تیرے تئیں سکھایا
کس دن ملائمت کی اس بت نے میر ہم سے
سختی کھنچے نہ کیونکر پتھر سے دل لگایا
میر تقی میر

ہم کو بن دوش ہوا باغ سے لایا نہ گیا

دیوان اول غزل 67
گل میں اس کی سی جو بو آئی تو آیا نہ گیا
ہم کو بن دوش ہوا باغ سے لایا نہ گیا
آہ جو نکلی مرے منھ سے تو افلاک کے پاس
اس کے آشوب کے عہدے سے برآیا نہ گیا
گل نے ہر چند کہا باغ میں رہ پر اس بن
جی جو اچٹا تو کسو طرح لگایا نہ گیا
سرنشین رہ میخانہ ہوں میں کیا جانوں
رسم مسجد کے تئیں شیخ کہ آیا نہ گیا
حیف وے جن کے وہ اس وقت میں پہنچا جس وقت
ان کنے حال اشاروں سے بتایا نہ گیا
منتظر اس کے کرخت ہو گئے بیٹھے بیٹھے
جس کے مردے کو اٹھایا سو لٹایا نہ گیا
خطر راہ محبت کہیں جوں حرف مٹے
جس سے اس طرف کو قاصد بھی چلایا نہ گیا
خوف آشوب سے غوغاے قیامت کے لیے
خون خوابیدئہ عشاق جگایا نہ گیا
میر مت عذر گریباں کے پھٹے رہنے کا کر
زخم دل چاک جگر تھا کہ سلایا نہ گیا
میر تقی میر

یا روز اٹھ کے سر کو پھرایا تو کیا ہوا

دیوان اول غزل 50
غم اس کو ساری رات سنایا تو کیا ہوا
یا روز اٹھ کے سر کو پھرایا تو کیا ہوا
ان نے تو مجھ کو جھوٹے بھی پوچھا نہ ایک بار
میں نے اسے ہزار جتایا تو کیا ہوا
خواہاں نہیں وہ کیوں ہی میں اپنی طرف سے یوں
دل دے کے اس کے ہاتھ بکایا تو کیا ہوا
اب سعی کر سپہر کہ میرے موئے گئے
اس کا مزاج مہر پہ آیا تو کیا ہوا
مت رنجہ کر کسی کو کہ اپنے تو اعتقاد
دل ڈھائے کر جو کعبہ بنایا تو کیا ہوا
میں صید ناتواں بھی تجھے کیا کروں گا یاد
ظالم اک اور تیر لگایا تو کیا ہوا
کیا کیا دعائیں مانگی ہیں خلوت میں شیخ یوں
ظاہر جہاں سے ہاتھ اٹھایا تو کیا ہوا
وہ فکر کر کہ چاک جگر پاوے التیام
ناصح جو تونے جامہ سلایا تو کیا ہوا
جیتے تو میر ان نے مجھے داغ ہی رکھا
پھر گور پر چراغ جلایا تو کیا ہوا
میر تقی میر