ٹیگ کے محفوظات: سلاسل

اَب ہَم رَہیں گے کوچہِ قاتل کے آس پاس

منصف کے آس پاس نہ عادل کے آس پاس
اَب ہَم رَہیں گے کوچہِ قاتل کے آس پاس
اے عافیَت نَشیں ! میں وہ طُوفاں پَسَند ہُوں
پَھٹکا تَلَک نہیں کبھی ساحِل کے آس پاس
واقِف ہیں اِن امُور سے ہَم، ہَم سے پُوچھنا
محسوس گَر ہو دَرد کبھی دِل کے آس پاس
دِیوانہ ہَنس رَہا ہے، تصوّر کا فیض ہے
چہرا ہے کوئی، شورِ سَلاسِل کے آس پاس
آسُودَگانِ عِشق سے پوچھو کہ لُطفِ زِیست
مَنزِل پہ ہے زِیادَہ کہ مَنزِل کے آس پاس
شاخَیں شکستہ بَرگ پَریشاں چمن اُداس
ہَر سمت، پَر ہی پَر ہیں عنادِل کے، آس پاس
خُوشیوں کی بَزم سے ہَم اَبھی ہو کے آئے ہیں
کوئی نہ کوئی غَم تھا ہَر اِک دِل کے آس پاس
دِلدادگانِ عِشق کو کیا فکرِ قید و بَند
رُک جاتے ہیں یہ خُود ہی سَلاسِل کے آس پاس
یارب! جہانِ حُسن ہو ضامنؔ پَہ مہرباں
کوئی حَسین آ بَسے سائل کے آس پاس
ضامن جعفری

یہ مرا گھر بھی تو ہے کوچۂ قاتل ہے تو کیا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 75
خاک میں اس کی اگر خون بھی شامل ہے تو کیا
یہ مرا گھر بھی تو ہے کوچۂ قاتل ہے تو کیا
دل پہ چل جائے تو جادو ہے تری عشوہ گری
صرف گردن میں ترا ہاتھ حمائل ہے تو کیا
آنکھ ہر لحظہ تماشائے دگر چاہتی ہے
عکس تیرا ہی سرِ آئینۂ دل ہے تو کیا
ساری آوازوں کا انجام ہے چپ ہوجانا
نعرۂ ہوُ ہے تو کیا، شورِ سلاسل ہے تو کیا
عشق میں جان کہ تن کوئی تو کندن بن جائے
ورنہ یہ راکھ ہی اس آگ کا حاصل ہے تو کیا
میرے اندر ابھی محفوظ ہے اک لوحِ طلسم
اک طلسم اور ابھی میرے مقابل ہے تو کیا
عرفان صدیقی

کیا تیرےغم سے روشنی کچھ مل گئی ہے پھر

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 77
احساس زندگی کی کلی کھل گئی ہے پھر
کیا تیرے غم سے روشنی کچھ مل گئی ہے پھر
ہر نقش اک خراش ہے، ہر رنگ ایک داغ
تصویر آئنے کے مقابل گئی ہے پھر
دو چار گام ساتھ چلے ہیں پھر اہل غم
کچھ دور تک صدائے سلاسل گئی ہے پھر
کچھ آدمی گلی میں کھڑے ہیں ادھر ادھر
شاید جہاں کو بات کوئی مل گئی ہے پھر
ٹوٹا ہے پھر غبار سرراہ کا طلسم
ہر راہرو کے سامنے منزل گئی ہے پھر
چلئے کہیں تو کچھ مجھے اپنی خبر ملے
وہ اک نظر جو لے کے مرا دل گئی ہے پھر
باقیؔ وہ بادباں کھلے وہ کشتیاں چلیں
وہ ایک موج جانب ساحل گئی ہے پھر
باقی صدیقی