ٹیگ کے محفوظات: سفینہ

عجیب شخص ہے، اچھا بھی ہے، کمینہ بھی

زباں پہ حرفِ ملائم بھی، دل میں کینہ بھی
عجیب شخص ہے، اچھا بھی ہے، کمینہ بھی
لہو تو خیر کہاں کا، یہ جاں نثار ترے
بہائیں گے نہ کبھی بوند بھر پسینہ بھی
وہاں گزار دیے زندگی کے اتنے برس
جہاں نہ مجھ کو ٹھہرنا تھا اک مہینہ بھی
جلا بروزِ ازل جو بنامِ ربِ سخن
اُسی چراغ سے روشن ہے میرا سینہ بھی
درونِ دل انہی متروک سلسلوں میں کہیں
چھپا ہُوا ہے تری یاد کا خزینہ بھی
تمہارا ذوقِ سخن ہے خیال تک محدود
ہمیں تو چاہیے اظہار میں قرینہ بھی
بس ایک پل کو جو دربان کی نظر چوکے
مری نگاہ میں وہ بام بھی ہے، زینہ بھی
تلاشِ ہست میں معدوم ہو، کہ ممکن ہے
عدم کی تہہ سے برآمد ہو یہ دفینہ بھی
سوال یہ ہے کہاں سے نتھر کے آیا ہے
یہ ایک اشک ہی پانی بھی ہے، نگینہ بھی
ملے گی کونسی بستی میں دل زدوں کو پناہ
کہ اہلِ درد سے خالی ہُوا مدینہ بھی
وہ خواہ ساحل_فرقت ہو یا جزیرہ_وصل
کسی کنارے تو لگ جائے یہ سفینہ بھی
عرفان ستار

ہم نے مزدور کے ماتھے کا پسینہ دیکھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 57
خاک ہے جس کا مقّدر وُہ نگینہ دیکھا
ہم نے مزدور کے ماتھے کا پسینہ دیکھا
بادباں جس کے کھوّیا نہیں کُھلنے دیتے
ہم نے دریا میں اک ایسا بھی سفینہ دیکھا
مکر آتا ہے جنہیں نام پہ اُن بونوں کے
جب بھی دیکھا کوئی خودکار ہی زینہ دیکھا
دشتِ خواہش بھی عجب دشت ہے ماجدؔ جس میں
سانپ دیکھا ہے جہاں کوئی خزینہ دیکھا
ماجد صدیقی