ٹیگ کے محفوظات: سفیر

سفیر

میں روشنی کا مُغنّی کرن کرن کا سفیر

وہ سیلِ مہ سے کہ رودِ شرار سے آئے

وہ جامِ مے سے کہ چشمِ نگار سے آئے

وہ موجِ باد سے یا آبشار سے آئے

وہ دستِ گل سے کہ پائے فگار سے آئے

وہ لوحِ جاں سے کہ طاقِ مزار سے آئے

وہ قصرِ خواب سے یا خاک زار سے آئے

وہ برگِ سبز سے یا چوبِ دار سے آئے

جہاں کہیں ہو دلِ داغ دار کی تنویر

وہیں کھلیں مری بانہیں، وہیں کٹے زنجیر

شکیب جلالی

ہمارے بخت کی ریکھا بھی میر ایسی تھی

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 88
جگا سکے نہ ترے لب ، لکیر ایسی تھی
ہمارے بخت کی ریکھا بھی میر ایسی تھی
یہ ہاتھ چُومے گئے ، پھر بھی بے گلاب رہے
جو رُت بھی آئی ، خزاں کے سفیر ایسی تھی
وہ میرے پاؤں کو چُھونے جُھکا تھا جس لمحے
جو مانگتا اُسے دیتی ، امیر ایسی تھی
شہادتیں مرے حق میں تمام جاتی تھیں
مگر خموش تھے منصف ، نظیر ایسی تھی
کُتر کے جال بھی صیّاد کی رضا کے بغیر
تمام عُمر نہ اُڑتی ، اسیر ایسی تھی
پھر اُس کے بعد نہ دیکھے وصال کے موسم
جُدائیوں کی گھڑی چشم گیر ایسی تھی
بس اِک نگاہ مجھے دیکھتا ، چلا جاتا
اُس آدمی کی محبّت فقیر ایسی تھی
ردا کے ساتھ لٹیرے کو زادِ رہ بھی دیا
تری فراخ دلی میرے دِیر ایسی تھی
کبھی نہ چاہنے والوں کا خوں بہا مانگا
نگارِ شہرِ سخن بے ضمیر ایسی تھی
پروین شاکر

پلک جھپکتے ، ہَوا میں لکیر ایسا تھا

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 24
وہی پرند کہ کل گوشہ گیر ایسا تھا
پلک جھپکتے ، ہَوا میں لکیر ایسا تھا
اسے تو دوست ہاتھوں کی سُوجھ بوجھ بھی تھے
خطا نہ ہوتا کسی طور ، تیر ایسا تھا
پیام دینے کا موسم نہ ہم نوا پاکر
پلٹ گیا دبے پاؤں ، سفیر ایسا تھا
کسی بھی شاخ کے پیچھے پناہ لیتی میں
مجھے وہ توڑ ہی لیتا، شریر ایسا تھا
ہنسی کے رنگ بہت مہربان تھے لیکن
اُداسیوں سے ہی نبھتی ، خمیر ایسا تھا
ترا کمال کہ پاؤں میں بیڑیاں ڈالیں
غزالِ شوق کہاں کا اسیر ایسا تھا!
پروین شاکر