ٹیگ کے محفوظات: سفاک

آج تو کشتہ کوئی کیا زینت فتراک تھا

دیوان پنجم غزل 1562
کل تلک داغوں سے خوں کے دامن زیں پاک تھا
آج تو کشتہ کوئی کیا زینت فتراک تھا
کیا جنوں کو روئوں تردستی سے اس کی گل نمط
لے گریباں سے زہ دامن تک اک ہی چاک تھا
رو جو آئی رونے کی مژگاں نہ ٹھہری ایک پل
راہ میں اس رود کی گویا خس و خاشاک تھا
اک ہی شمع شعلہ خو کے لائحے میں جل بجھا
جب تلک پہنچے کوئی پروانہ عاشق خاک تھا
بادشاہ وقت تھا میں تخت تھا میرا دماغ
جی کے چاروں اور اک جوش گل تریاک تھا
ڈھال تلوار اس جواں کے ساتھ اب رہتی نہیں
وہ جفا آئیں شلائیں لڑکا ہی بیباک تھا
تنگ پوشی تنگ درزی اس کی جی میں کھب گئی
کیا ہی وہ محبوب خوش ترکیب خوش پوشاک تھا
بات ہے جی مارنا بازیچہ قتل عام ہے
اب تو ہے صدچند اگر دہ چند وہ سفاک تھا
غنچۂ دل وا ہوا نہ باغوں باغوں میں پھرا
اب بھی ہے ویسا ہی جیسا پیشتر غمناک تھا
درک کیا اس درس گہ میں میر عقل و فہم کو
کس کے تیں ان صورتوں میں معنی کا ادراک تھا
میر تقی میر

محمدﷺ کی زمینِ پاک کی تاریخ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 151
فلک سے بھی پرانی خاک کی تاریخ
محمدﷺ کی زمینِ پاک کی تاریخ
مکمل ہو گئی ہے آخرش مجھ پر
جنوں کے دامن صد چاک کی تاریخ
ابھی معلوم کرتا پھر رہا ہوں میں
تری دستار کے پیچاک کی تاریخ
مری آنکھوں میں اڑتی راکھ کی صورت
پڑی ہے سوختہ املاک کی تاریخ
رگِ جاں میں اتر کر عمر بھر میں نے
پڑھی ہے خیمہء افلاک کی تاریخ
سرِ صحرا ہوا نے نرم ریشوں سے
پھٹا کویا تو لکھ دی آک کی تاریخ
مسلسل ہے یہ کیلنڈر پہ میرے
جدائی کی شبِ سفاک کی تاریخ
پہن کر پھرتی ہے جس کو محبت
مرتب کر تُو اُس پوشاک کی تاریخ
ہوائے گل سناتی ہے بچشمِ کُن
جہاں کو صاحبِ لولاک کی تاریخ
کھجوروں کے سروں کو کاٹنے والو
دکھائی دی تمہیں ادراک کی تاریخ
ہے ماضی کے مزاروں میں لکھی منصور
بگولوں نے خس و خاشاک کی تاریخ
منصور آفاق