ٹیگ کے محفوظات: سرہانے

پھُول مرضی کے کسی کو نہ کھلانے دینا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 92
آگ ہونٹوں پہ نہ دل کی کبھی آنے دینا
پھُول مرضی کے کسی کو نہ کھلانے دینا
چکھنے دینا نہ کبھی لمحۂ موجود کا رس
جب بھی دینا ہمیں تم خواب سُہانے دینا
جس کی تعمیر میں کاوش کا مزہ اُس کو مِلے
تُم نہ بالک کو گھروندا وُہ بنانے دینا
روشنی جس کے مکینوں کو بصیرت بخشے
ایسی کٹیا میں دیا تک نہ جلانے دینا
راندۂ خلق ہے، جو پاس تمہارا نہ کرے
درس اب یہ بھی کسی اور بہانے دینا
سنگ ہو جاؤ گے حق بات ہے جس میں ماجدؔ
ایسی آواز نہ تم شہ کے سرہانے دینا
ماجد صدیقی

سُبکیاں ہی ہاتھ آئیں حالِ دل سُنانے میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 51
دوسروں کے دروازے جا کے کھٹکھٹانے میں
سُبکیاں ہی ہاتھ آئیں حالِ دل سُنانے میں
سو تو مَیں گیا لیکن دشت کی عطا کردہ
سب تھکن اُتر آئی ہاتھ کے سرہانے میں
اِک لُغت نگل بیٹھا ناقبول لفظوں کی
میں جِسے تعّرض تھا کنکری چبانے میں
صَرف ہو گئیں کیا کیا سِیٹیوں کی آوازیں
سعد کو سُلانے میں چور کو جگانے میں
قربتوں کی لذّت تھی جو بھی، پر نکلنے پر
کھیت کھیت جا بکھری روزیاں کمانے میں
تیر پر قضا کے بھی دشت میں نظر رکھنا
ندّیاں لگا لیں گی اپنے گنگنانے میں
تذکرے وفاؤں کے کر کے، یار لوگوں کو
لے چلا ہے تُو ماجدؔ کون سے زمانے میں
ماجد صدیقی

تو کہاں ہے مگر اے دوست پُرانے میرے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 117
جُز تیرے کوئی بھی دِن رات نہ جانے میرے
تو کہاں ہے مگر اے دوست پُرانے میرے
تو بھی خوشبو ہے مگر میرا تجسس بے کار
برقِ آوارہ کی مانند ٹھکانے میرے
شمع کی لو تھی کہ وہ توُ تھا مگر ہجر کی رات
دیر تک روتا رہا کوئی سرہانے میرے
خلق کی بے خبری ہے کہ مری رُسوائی
لوگ مُجھ کو ہی سُناتے ہیں فسانے میرے
لُٹ کے بھی خوش ہوں کہ اشکوں‌ سے بھرا ہے دامن
دیکھ غارت گریِ دِل یہ خزانے میرے
آج اک اور برس بیت گیا اُس کے بغیر
جِس کے ہوتے ہوئے ہوتے تھے زمانے میرے
کاش تو بھی میری آواز کہیں سُنتا ہو
پھر پُکارا ہے تُجھے دِل کی صدا نے میرے
کاش تو بھی کبھی آئے مسیحائی کو
لوگ آ تے ہیں بُہت دِل کو دُکھانے میرے
تو ہے کِس حال میں اے زود فراموش میرے
مُجھ کو تو چھین لیا عہدِ وفا نے میرے
چارہ گر یوں تو بُہت ہیں‌مگر اے جانِ فراز
جُز ترے اور کوئی غم نہ جانے میرے
احمد فراز

جاگا تو میں خود اپنے ہی سرہانے بیٹھا تھا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 10
خواب میں کوئی مجھ کو آس دلانے بیٹھا تھا
جاگا تو میں خود اپنے ہی سرہانے بیٹھا تھا
یونہی رکا تھا دم لینے کو، تم نے کیا سمجھا؟
ہار نہیں مانی تھی بس سستانے بیٹھا تھا
خود بھی لہو لہان ہُوا دل، مجھے بھی زخم دیئے
میں بھی کیسے وحشی کو سمجھانے بیٹھا تھا
لاکھ جتن کرنے پر بھی کم ہُوا نہ دل کا بوجھ
کیسا بھاری پتھر میں سرکانے بیٹھا تھا
تارے کرنوں کی رتھ پر لائے تھے اُس کی یاد
چاند بھی خوابوں کا چندن مہکانے بیٹھا تھا
نئے برس کی خوشیوں میں مشغول تھے سب، اور میں
گئے برس کی چوٹوں کو سہلانے بیٹھا تھا
وہ تو کل جھنکار سے پرکھ لیا اُس گیانی نے
میں تو پیتل کے سکۤے چمکانے بیٹھا تھا
دشمن جتنے آئے ان کے خطا ہوئے سب تیر
لیکن اپنوں کا ہر تیر نشانے بیٹھا تھا
قصوں کو سچ ماننے والے، دیکھ لیا انجام؟
پاگل جھوٹ کی طاقت سے ٹکرانے بیٹھا تھا
مت پوچھو کتنی شدت سے یاد آئی تھی ماں
آج میں جب چٹنی سے روٹی کھانے بیٹھا تھا
اپنا قصور سمجھ نہیں آیا جتنا غور کیا
میں تو سچے دل سے ہی پچھتانے بیٹھا تھا
عین اُسی دم ختم ہوئی تھی مہلت جب عرفان
خود کو توڑ چکا تھا اور بنانے بیٹھا تھا
عرفان ستار

جو مجھ پہ ہنسا کرتے تھے وہ روتے ہیں سرہانے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 6
تاثیر پسِ مرگ دکھائی ہے وفا نے
جو مجھ پہ ہنسا کرتے تھے وہ روتے ہیں سرہانے
کیا کہہ دیا چپکے سے نہ معلوم قضا میں
کوٹ بھی نہ بدلی ترے بیمارِ جفا نے
ہستی مری کیا جاؤں اس بت کو منانے
وہ ضد پہ جو آئے تو فرشتوں کی نہ مانے
اوراقِ گلِ تر جو کبھی کھولے صبا نے
تحریر تھے لاکھوں مری وحشت کے فسانے
رخ دیکھ کہ خود بن گیا آئینے کی صورت
بیٹھا جو مصور تری تصویر بنانے
نالے نہیں کھیل اسیرانِ قفس کے
صیاد کے آ جائیں گے سب ہوش ٹھکانے
ہمسائے بھی جلنے لگے جلتے ہی نشیمن
بھڑکا دیا اور آگ کو پتوں کی ہوا نے
پہلی سی قمر چشمِ عنایت ہی نہیں
رخ پھیر دیا ان کا زمانے کی ہوا نے
قمر جلالوی

ایسے گئے ایام بہاراں کہ نہ جانے

دیوان اول غزل 597
کم فرصتی گل جو کہیں کوئی نہ مانے
ایسے گئے ایام بہاراں کہ نہ جانے
تھے شہر میں اے رشک پری جتنے سیانے
سب ہو گئے ہیں شور ترا سن کے دوانے
ہمراہ جوانی گئے ہنگامے اٹھانے
اب ہم بھی نہیں وے رہے نے وے ہیں زمانے
پیری میں جو باقی نہیں جامے میں تو کیا دور
پھٹنے لگے ہیں کپڑے جو ہوتے ہیں پرانے
مرتے ہی سنے ہم نے کسل مند محبت
اس درد میں کس کس کو کیا نفع دوا نے
ہے کس کو میسر تری زلفوں کی اسیری
شانے کے نصیبوں میں تھے یوں ہاتھ بندھانے
ٹک آنکھ بھی کھولی نہ زخود رفتہ نے اس کے
ہرچند کیا شور قیامت نے سرہانے
لوہے کے توے ہیں جگر اہل محبت
رہتے ہیں ترے تیرستم ہی کے نشانے
کاہے کو یہ انداز تھا اعراض بتاں کا
ظاہر ہے کہ منھ پھر لیا ہم سے خدا نے
ان ہی چمنوں میں کہ جنھوں میں نہیں اب چھائوں
کن کن روشوں ہم کو پھرایا ہے ہوا نے
کب کب مری عزت کے لیے بیٹھے ہو ٹک پاس
آئے بھی جو ہو تو مجھے مجلس سے اٹھانے
پایا ہے نہ ہم نے دل گم گشتہ کو اپنے
خاک اس کی سرراہ کی کوئی کب تئیں چھانے
کچھ تم کو ہمارے جگروں پر بھی نظر ہے
آتے جو ہو ہر شام و سحر تیر لگانے
مجروح بدن سنگ سے طفلاں کے نہ ہوتے
کم جاتے جو اس کوچے میں پر ہم تھے دوانے
آنے میں تعلل ہی کیا عاقبت کار
ہم جی سے گئے پر نہ گئے اس کے بہانے
گلیوں میں بہت ہم تو پریشاں سے پھرے ہیں
اوباش کسو روز لگا دیں گے ٹھکانے
میر تقی میر