ٹیگ کے محفوظات: سرگوشیاں

سرگوشیاں

پھر آج شام گاہ سرِ راہگزر اُسے

دیکھا ہے اس کے دوشِ حسیں پر جھکے ہوئے!

یارو وہ ہرزہ گرد،

ہے کسبِ روزگار میں اپنا شریکِ کار،

راتوں کو اُس کی راہگزاروں پہ گردشیں

اور میکدوں میں چھپ کے مے آشامیِ طویل

رسوائیوں کی کوئی زمانے میں حد بھی ہے!

یہ غصہ رائیگاں ہے، ہمیں تو ہے یہ گلہ

وارفتہ کیوں اُسی کے لیے وہ عشوہ ساز

کیوں اتنی دلکشی بھی خدا نے نہ دی ہمیں

تسخیر اُس کا خندہ ءِ بے باک کرسکیں؟

اب تو کسی نوید کا امکان ہی نہیں

جب اُس کا، دل کی آرزوؤں کے حصول تک،

ایک اپنے یارِ غار سے ہے ربطِ شرمناک

اک رشتہ ءِ ذلیل

یہ اُس کی شاطری ہے، کہ ‘زلفِ عجم’ کا دام؟

کچھ بھی ہو، اس میں شائبہ ءِ شاعری نہیں

برسوں کا ایک ترسا ہوا شخص جان کر

پہچانتی ہے دور سے عورت کی بُو اُسے

اور کررہا ہے اس کا نصیبہ بھی یاوری!

اس رشکِ بے بسی سے مرے دوست، فائدہ؟

ہے کچھ تو اپنا زورِ گریباں کے چاک پر!

حاصل نہیں ہے ہم کو اگر وہ شرابِ ناب

تو بام ودر کی شہر میں کوئی کمی نہیں

دو ’پول‘ ایک پیکرِ یخ بستہ، ایک رات!

ن م راشد