ٹیگ کے محفوظات: سرگراں

تھا مگر وہ سرگراں ایسا نہ تھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 148
اُس پہ جو اب ہے، گماں ایسا نہ تھا
تھا مگر وہ سرگراں ایسا نہ تھا
بھُولنے والا ہو آسانی سے جو
اُس کے جانے کا سماں ایسا نہ تھا
لرزشوں میں ہو نہ جو پیہم گھِرا
باغ میں اِک آشیاں ایسا نہ تھا
ہر کہیں اب وجہ رُسوائی ہے جو
اپنے ماتھوں پر نشاں ایسا نہ تھا
اَب کے جو ماجدؔ نشیمن سے اُٹھا
پیڑ پر پہلے دُھواں ایسا نہ تھا
ماجد صدیقی

کیا جانے منھ سے نکلے نالے کے کیا سماں ہو

دیوان اول غزل 383
اے چرخ مت حریف اندوہ بے کساں ہو
کیا جانے منھ سے نکلے نالے کے کیا سماں ہو
کب تک گرہ رہے گا سینے میں دل کے مانند
اے اشک شوق اک دم رخسار پر رواں ہو
ہم دور ماندگاں کی منزل رساں مگر اب
یا ہو صدا جرس کی یا گرد کارواں ہو
مسند نشین ہو گر عرصہ ہے تنگ اس پر
آسودہ وہ کسو کا جو خاک آستاں ہو
تاچند کوچہ گردی جیسے صبا زمیں پر
اے آہ صبح گاہی آشوب آسماں ہو
گر ذوق سیر ہے تو آوارہ اس چمن میں
مانند عندلیب گم کردہ آشیاں ہو
یہ جان تو کہ ہے اک آوارہ دست بردل
خاک چمن کے اوپر برگ خزاں جہاں ہو
کیا ہے حباب ساں یاں آ دیکھ اپنی آنکھوں
گر پیرہن میں میرے میرا تجھے گماں ہو
از خویش رفتہ ہر دم رہتے ہیں ہم جو اس بن
کہتے ہیں لوگ اکثر اس وقت تم کہاں ہو
پتھر سے توڑ ڈالوں آئینے کو ابھی میں
گر روے خوبصورت تیرا نہ درمیاں ہو
اس تیغ زن سے کہیو قاصد مری طرف سے
اب تک بھی نیم جاں ہوں گر قصد امتحاں ہو
کل بت کدے میں ہم نے دھولیں لگائیاں ہیں
کعبے میں آج زاہد گو ہم پہ سرگراں ہو
ہمسایہ اس چمن کے کتنے شکستہ پر ہیں
اتنے لیے کہ شاید اک بائو گل فشاں ہو
میر اس کو جان کر تو بے شبہ ملیو رہ پر
صحرا میں جو نمد مو بیٹھا کوئی جواں ہو
میر تقی میر

کوئی ہم جیسا یہاں ہے تو سہی

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 53
شب کے پردے میں نہاں ہے تو سہی
کوئی ہم جیسا یہاں ہے تو سہی
ہم اگرچہ پا رہ لپتی ہیں مگر
سر پہ اپنے آسماں ہے تو سہی
ان گنت بدصورتوں کے شہر میں
ایک تو اے جانِ جاں ہے تو سہی
اس نشاطِ صحبت نایاب میں
کچھ طبیعت سرگراں ہے تو سہی
اب دفاعِ نظریہ کیا کیجئے
کل کا حاصل رائیگاں ہے تو سہی
راس امکان و گماں ہے یاس کو
اس سے آگے لامکاں ہے تو سہی
خواب ٹوٹا ہے تو لے آئیں گے اور
ہمتِ یاراں جواں ہے تو سہی
آفتاب اقبال شمیم

کچھ مہرباں جدا ہوئے کچھ مہرباں ملے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 214
غم اور خوشی کے راستے آ کر جہاں ملے
کچھ مہرباں جدا ہوئے کچھ مہرباں ملے
جن کے طفیل بزم تمنا میں رنگ تھا
وہ لوگ تجھ کو گردش دوراں کہاں ملے
راہوں پہ آج ان کا تصور بھی ہے گراں
منزل کے پاس کل جو ہمیں کارواں ملے
اہل نظر سے دل کی مہم سر نہ ہو سکی
کچھ سرنگوں ملے ہیں تو کچھ سرگراں ملے
روداد شوق تشنۂ اظہار ہی رہی
ملنے کو ہم خیال ملے، ہم زباں ملے
خوں رو رہے تھے کل جو بہاروں کی یاد میں
وہ آج بے نیاز غم گلستاں ملے
باقیؔ نہ تھی اگرچہ فریب وفاکی تاب
پھر بھی رُکے نقوش محبت جہاں ملے
باقی صدیقی