ٹیگ کے محفوظات: سرک

پلکوں کی صف کو دیکھ کے بھیڑیں سرک گئیں

دیوان چہارم غزل 1448
خوبی رو و چشم سے آنکھیں اٹک گئیں
پلکوں کی صف کو دیکھ کے بھیڑیں سرک گئیں
چلتے سمندناز کی شوخی کو اس کے دیکھ
گھوڑوں کی باگیں دست سپہ سے اچک گئیں
ترچھی نگاہیں پلکیں پھریں اس کی پھرپھریں
سو فوجیں جو دو رستہ کھڑی تھیں بہک گئیں
بجلی سا مرکب اس کا کڑک کر چمک گیا
لوگوں کے سینے پھٹ گئے جانیں دھڑک گئیں
محبوب کا وصال نہ ہم کو ہوا نصیب
دل سے ہزار خواہشیں سر کو پٹک گئیں
موقوف طور نور کا جھمکا ترا نہیں
چمکا جہاں تو برق سا آنکھیں جھپک گئیں
وحشت سے بھر رہی تھی بزن گہ جہان کی
جانیں بسان طائر بسمل پھڑک گئیں
گرد رہ اس کی دیکھتے اپنے اٹھی نہ حیف
اب منتظر ہو آنکھیں مندیں یعنی تھک گئیں
بھردی تھی چشم ساقی میں یارب کہاں کی مے
مجلس کی مجلسیں نظر اک کرتے چھک گئیں
کیا میر اس کی نوک پلک سے سخن کرے
سرتیز چھریاں گڑتی جگر دل تلک گئیں
میر تقی میر

عشق کی مے سے چھک رہے ہیں ہم

دیوان دوم غزل 854
کچھ نہ پوچھو بہک رہے ہیں ہم
عشق کی مے سے چھک رہے ہیں ہم
سوکھ غم سے ہوئے ہیں کانٹا سے
پر دلوں میں کھٹک رہے ہیں ہم
وقفۂ مرگ اب ضروری ہے
عمر طے کرتے تھک رہے ہیں ہم
کیونکے گرد علاقہ بیٹھ سکے
دامن دل جھٹک رہے ہیں ہم
کون پہنچے ہے بات کی تہ کو
ایک مدت سے بک رہے ہیں ہم
ان نے دینے کہا تھا بوسۂ لب
اس سخن پر اٹک رہے ہیں ہم
نقش پا سی رہی ہیں کھل آنکھیں
کس کی یوں راہ تک رہے ہیں ہم
دست دے گی کب اس کی پابوسی
دیر سے سر پٹک رہے ہیں ہم
بے ڈھب اس پاس ایک شب تھے گئے
سو کئی دن سرک رہے ہیں ہم
خام دستی نے ہائے داغ کیا
پوچھتے کیا ہو پک رہے ہیں ہم
میر شاید لیں اس کی زلف سے کام
برسوں سے تو لٹک رہے ہیں ہم
میر تقی میر

رستے ہمارے پاؤں تلے سے سرک گئے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 42
منزل قریب آئی تو ایسے بہک گئے
رستے ہمارے پاؤں تلے سے سرک گئے
نکلے کبھی نہ اپنے مضافات سے پرے
اپنی تلاش میں جو بہت دور تک گئے
اک نسل کے لہو سے چراغاں تھے راستے
یہ کیا ہوا کہ قافلے پھر بھی بھٹک گئے
خبروں کے شعبدے وُہ دکھا کر دم سحر
شہ سرخیوں سے چشمِ بصارت کو ڈھک گئے
آئے نظر چراغ سے چہرے فضاؤں میں
یادیں جو ٹمٹمائیں ، اندھیرے مہک گئے
دیکھو نا اب بھی ہال کی خالی ہیں کرسیاں
ہم تو دکھا دکھا کے کرامات تھک گئے
آفتاب اقبال شمیم