ٹیگ کے محفوظات: سرپھرا

یہ سب سُن کے مجھ کو بھی لگنے لگا ہے کہ میں واقعی اک بُرا آدمی ہوں

مجھے کیا خبر تھی، مجھے دوسروں نے بتایا میں کیسا ہوں، کیا آدمی ہوں
یہ سب سُن کے مجھ کو بھی لگنے لگا ہے کہ میں واقعی اک بُرا آدمی ہوں
کسی کو سروکار کیا مجھ میں پھیلی ہوئی اس قیامت کی بے چارگی سے
اگر کوئی مجھ سے تعلق بھی رکھتا ہے تو یوں کہ میں کام کا آدمی ہوں
تمہیں یہ گلہ ہے کہ میں وہ نہیں جس سے تم نے محبت کے پیماں کیے تھے
مجھے بھی یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ میں وہ نہیں، دوسرا آدمی ہوں
سبھی حسبِ خواہش، بقدرِضرورت مجھے جانتے ہیں، مجھے چھانتے ہیں
کسی کو کہاں اتنی فرصت جو دیکھے کہ میں کتنا ٹوٹا ہُوا آدمی ہوں
میں اپنی حقیقت کو صندوق میں بند کرکے ہر اک صبح جاتا ہوں دفتر
کبھی شام کے بعد دیکھو کہ میں کیسا پُرحال، پُر ماجرا آدمی ہوں
میں سچ بولتا ہوں، کبھی ٹوکتا ہوں، تو کیوں آپ ایسے برا مانتے ہیں
عزیزانِ من آپ سمجھیں تو مجھ کو کہ میں اصل میں آپ کا آدمی ہوں
نجانے میں اقلیم کے اور تقویم کے کس غلط راستے سے یہاں آگیا تھا
میں اِس دور میں جی رہا ہوں تو بس یہ سمجھ لو کہ میں معجزہ آدمی ہوں
تمہیں سب خبر ہے، یہ دنیا ہے کیا، اور دنیا کو قابو میں رکھنا ہے کیسے
مری بات پر دھیان دینا بھی مت کیونکہ میں تو بس اک سرپھرا آدمی ہوں
اندھیرا، تحیؔر، خموشی، اُداسی، مجرؔد ہیولے، جنوں، بے قراری
یہ تفصیل سُن کر سمجھ تو گئے ہومیں دن کا نہیں، رات کا آدمی ہوں
تمہاری سمجھ میں نہیں آسکا تو یہ کوئی نیا واقعہ تو نہیں ہے
تمہاری مدد کیا کروں گا کہ میں خود بھی اپنے لیے مسئلہ آدمی ہوں
یہ کیا زندگی ہے، یہ کیسا تماشا ہے، میں اس تماشے میں کیا کررہا ہوں
میں روزِ ازل سے کچھ ایسے سوالوں کی تکلیف میں مبتلا آدمی ہوں
وہ اک رنگ جو تم سبھی دیکھتے ہو، وہ میرا نہیں، میرے ملبوس کا ہے
کبھی اُس سے پوچھو جو سب جانتی ہے کہ میں کیسا رنگوں بھرا آدمی ہوں
مری بددماغی منافق رویؔوں سے محفوظ رہنے کا ہے اک طریقہ
مرے پاس آؤ، مرے پاس بیٹھوکہ میں تو سراپا دعا آدمی ہوں
میں اپنے تصور میں تخلیق کرتا ہوں ایک ایسی دنیا، جو ہے میری دنیا
مری اپنی مرضی کی اک زندگی ہے، میں تنہائیوں میں خدا آدمی ہوں
مرا کیا تعارف، مرا نام عرفان ہے اور میری ہے اتنی کہانی
میں ہر دور کا واقعہ آدمی ہوں، میں ہر عہد کا سانحہ آدمی ہوں
عرفان ستار

یار تک، بے وفا نِرا نکلا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 55
ربطِ باہم کا یہ سِرا نکلا
یار تک، بے وفا نِرا نکلا
کھیل میں ٹیڑھ جو، قصور تھا جو
اور کسی کا نہیں مِرا نکلا
ہوشمند اِک مجھے ہی رہنا تھا
جو مِلا مجھ سے سرپِھرا نکلا
جتنا پیندا تھا دل کی ناؤ کا
آبِ دشمن میں ہی گِھرا نکلا
جو مزہ قُربِ دوستاں کا تھا
آخرش وہ بھی کِرکِرا نکلا
تیرا سایہ تلک بھی اے ماجِد!
جانے کیوں مُحتسب ترا نکلا
ماجد صدیقی

خونبار میری آنکھوں سے کیا جانوں کیا گرا

دیوان سوم غزل 1100
کل رات رو کے صبح تلک میں رہا گرا
خونبار میری آنکھوں سے کیا جانوں کیا گرا
اب شہر خوش عمارت دل کا ہے کیا خیال
ناگاہ آ کے عشق نے مارا جلا گرا
کیا طے ہو راہ عشق کی عاشق غریب ہے
مشکل گذر طریق ہے یاں رہگرا گرا
لازم پڑی ہے کسل دلی کو فتادگی
بیمار عشق رہتا ہے اکثر پڑا گرا
ٹھہرے نہ اس کے عشق کا سرگشتہ و ضعیف
ٹھوکر کہیں لگی کہ رہا سرپھرا گرا
دے مارنے کو تکیہ سے سر ٹک اٹھا تو کیا
بستر سے کب اٹھے ہے غم عشق کا گرا
پھرتا تھا میر غم زدہ یک عمر سے خراب
اب شکر ہے کہ بارے کسی در پہ جا گرا
میر تقی میر

جگر سب کھا گیا اب کیا رہا ہے

دیوان دوم غزل 1027
دل بیتاب آفت ہے بلا ہے
جگر سب کھا گیا اب کیا رہا ہے
ہمارا تو ہے اصل مدعا تو
خدا جانے ترا کیا مدعا ہے
محبت کشتہ ہیں ہم یاں کسو پاس
ہمارے درد کی بھی کچھ دوا ہے
حرم سے دیر اٹھ جانا نہیں عیب
اگر یاں ہے خدا واں بھی خدا ہے
نہیں ملتا سخن اپنا کسو سے
ہماری گفتگو کا ڈھب جدا ہے
کوئی ہے دل کھنچے جاتے ہیں اودھر
فضولی ہے تجسس یہ کہ کیا ہے
مروں میں اس میں یا رہ جائوں جیتا
یہی شیوہ مرا مہر و وفا ہے
صبا اودھر گل اودھر سرو اودھر
اسی کی باغ میں اب تو ہوا ہے
تماشا کردنی ہے داغ سینہ
یہ پھول اس تختے میں تازہ کھلا ہے
ہزاروں ان نے ایسی کیں ادائیں
قیامت جیسے اک اس کی ادا ہے
جگہ افسوس کی ہے بعد چندے
ابھی تو دل ہمارا بھی بجا ہے
جو چپکے ہوں کہے چپکے ہو کیوں تم
کہو جو کچھ تمھارا مدعا ہے
سخن کریے تو ہووے حرف زن یوں
بس اب منھ موندلے میں نے سنا ہے
کب اس بیگانہ خو کو سمجھے عالم
اگرچہ یار عالم آشنا ہے
نہ عالم میں ہے نے عالم سے باہر
پہ سب عالم سے عالم ہی جدا ہے
لگا میں گرد سر پھرنے تو بولا
تمھارا میر صاحب سرپھرا ہے
میر تقی میر