ٹیگ کے محفوظات: سرو

میں عشق میں ہوں آشفتہ سرو میں عشق میں ہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 289
میں عشق میں ہوں خاموش رہو میں عشق میں ہوں
میں عشق میں ہوں آشفتہ سرو میں عشق میں ہوں
اے شعلۂ گل کے سرخ لبوں کی شوخ شفق
چپ چاپ رہو آوازنہ دو میں عشق میں ہوں
اے صحن چمن کے پچھلے پہر کی تیز ہوا
مت پھولوں کے اب ہار پُرو میں عشق میں ہوں
آوازنہ دے اب کوئی مجھے چپ رنگ رہیں
اے قوسِ قزح کے نرم پرو میں عشق میں ہوں
ہے تیز بہت یہ آگ لہو کی پہلے بھی
اے جلوۂ گل بیباک نہ ہو میں عشق میں ہوں
ہے نام لکھا معشوقِ ازل کا ماتھے پر
اے ظلم و ستم کے شہر پڑھو میں عشق میں ہوں
اب حالتِ دل کو اور چھپانا ٹھیک نہیں
منصور اسے یہ کہہ کر رو میں عشق میں ہوں
منصور آفاق

سفر بخیر ہو ، مل کر کرو دعائے خیر

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 179
اندھیری رات کے اے رہ روو،دعائے خیر
سفر بخیر ہو ، مل کر کرو دعائے خیر
مجھے سیاہی کی وحشت سے خوف آتا ہے
کہو چراغ صفت منظرو دعائے خیر
بنائے بت جو ہیں ہم نے خدا نہ بن بیٹھیں
بڑی ضروری ہے صورت گرو دعائے خیر
اب اس کے بعد لڑائی کبھی نہیں ہو گی
مری ہتھیلی پہ آؤ دھرو دعائے خیر
الف میں صرف کروڑوں مقام آتے ہیں
طلسمِ اسم کے خیرہ سرو دعائے خیر
گلی گلی میں ہے منصور کا تماشا بھی
دیارِ نور کے دیدہ ورو دعائے خیر
منصور آفاق