ٹیگ کے محفوظات: سروں

کوئی نامہ نہ ترے در بدروں تک پہنچا

احمد فراز ۔ غزل نمبر 16
جو بھی قاصد تھا وہ غیروں کے گھروں تک پہنچا
کوئی نامہ نہ ترے در بدروں تک پہنچا
مجھ کو مٹی کیا تو نے تو یہ احسان بھی کر
کہ مری خاک کو اب کوزہ گروں تک پہنچا
تو مہ و مہر لئے ہے مگر اے دستِ کریم
کوئی جگنو بھی نہ تاریک گھروں تک پہنچا
دل بڑی چیز تھا بازارِ محبت میں کبھی
اب یہ سودا بھی مری جان، سروں تک پہنچا
اتنے ناصح ملے رستے میں کہ توبہ توبہ
بڑی مشکل سے میں شوریدہ سروں تک پہنچا
اہلِ دنیا نے تجھی کو نہیں لوٹا ہے فراز
جو بھی تھا صاحبِ دل، مفت بروں تک پہنچا
احمد فراز

دینا تھا تنک رحم بھی بیدادگروں کو

دیوان دوم غزل 932
کیا چہرے خدا نے دیے ان خوش پسروں کو
دینا تھا تنک رحم بھی بیدادگروں کو
آنکھوں سے ہوئی خانہ خرابی دل اے کاش
کر لیتے تبھی بند ہم ان دونوں دروں کو
پرواز گلستاں کے تو شائستہ نہ نکلے
پروانہ نمط آگ ہم اب دیں گے پروں کو
سب طائر قدسی ہیں یہ جو زیر فلک ہیں
موندا ہے کہاں عشق نے ان جانوروں کو
زنہار ترے دل کی توجہ نہ ہو ایدھر
آگے ترے ہم کاڑھ رکھیں گر جگروں کو
پیراہن صدچاک سلاتے ہیں مرا لوگ
تہ سے نہیں مطلق خبر ان بے خبروں کو
جوں اشک جہاں جاتے رہیں گے تو گئے پھر
دیکھا کرو ٹک آن کے ہم دیدہ تروں کو
اس باغ کے ہر گل سے چپک جاتی ہیں آنکھیں
مشکل بنی ہے آن کے صاحب نظروں کو
آداب جنوں چاہیے ہم سے کوئی سیکھے
دیکھا ہے بہت یاروں نے آشفتہ سروں کو
اندیشہ کی جاگہ ہے بہت میرجی مرنا
درپیش عجب راہ ہے ہم نوسفروں کو
میر تقی میر

اب زندگی ہماری نہیں مسخروں کی ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 636
ہر بزم قہقہوں سے بھرے تذکروں کی ہے
اب زندگی ہماری نہیں مسخروں کی ہے
جو خوش دماغ لوگ ہیں بستی پہ بوجھ ہیں
کچھ ہے توبات بس یہاں خالی سروں کی ہے
وہ باغِ شالامار خرید یں جو بس چلے
فطرت کچھ ایسی دیس کے سودا گروں کی ہے
گلیوں میں ایک سے ہیں مکانوں کے خدوخال
غلطی کہیں ہماری نہیں منظروں کی ہے
منصور حاکموں کی توجہ کہیں ہے اور
قسمت ابھی ہمارے عجائب گھروں کی ہے
منصور آفاق

ہے موت کا نشان گھروں پر بنا ہوا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 62
دیواروں پر تمام دروں پر بنا ہوا
ہے موت کا نشان گھروں پر بنا ہوا
بس زندگی ہے آخری لمحوں کے آس پاس
محشر کوئی ہے چارہ گروں پر بنا ہوا
آتا ہے ذہن میں یہی دستار دیکھ کر
اک سانپ کاہے نقش سروں پر بنا ہوا
ناقابلِ بیاں ہوئے کیوں اس کے خدو خال
یہ مسئلہ ہے دیدہ وروں پر بنا ہوا
کیا جانے کیا لکھا ہے کسی نے زمین کو
اک خط ہے بوجھ نامہ بروں پر بنا ہوا
اک نقش رہ گیا ہے مری انگلیوں کے بیچ
منصور تتلیوں کے پروں پر بنا ہوا
منصور آفاق