ٹیگ کے محفوظات: سرمدی

بدن آدھی گواہی ہے شہادت روح کی لاؤ

نینا عادل ۔ غزل نمبر 5
محبت میں عبادت کا تصّور لازمی لاؤ
بدن آدھی گواہی ہے شہادت روح کی لاؤ
بدن کی آیتیں پڑھ کر فراموشی گنہ بدتر
تمھیں ایمان لانا ہے تو مجھ پر دائمی لاؤ
مری مٹی کی دہری ہجرتوں کا بانٹنے کو غم
نہیں ملتا اگر دریا تو کوئی دشت ہی لاؤ
ارے!! تم نے نہیں دیکھا ستارے ساتھ ٹوٹے تھے
اگر پھر دیکھنا چاہو تو آنکھوں میں نمی لاؤ
مقدس ہیں صحیفوں کی طرح یہ جاگتی آنکھیں
تلاوت کے لیے ان کی طہارت سرمدی لاؤ
ذرا سی موج لے کر آدمی کو ڈوب جاتی ہے
سمندر میں اترنا ہے تو کشتی نوح کی لاؤ
سبھی پہلے پہل ملتے ہیں بے حد گرم جوشی سے
ہمارے سامنے اپنا رویہ آخری لاؤ
نینا عادل

اور اس کی زبان اجنبی تھی

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 86
اک گیت ہوا کے ہونٹ پر تھا
اور اس کی زبان اجنبی تھی
اس رات جبین ماہ پر بھی
تحریر کوئی قدیم سی تھی
یہ عشق نہیں تھا اس زمیں کا
اس میں کوئی بات سرمدی تھی
جوروشنی تھی میرے جہاں کی
وہ خیرہ آنکھوں کو کر رہی تھی
پروین شاکر