ٹیگ کے محفوظات: سرمئی

اور سبھی ہو گئے دیکھتے دیکھتے

نینا عادل ۔ غزل نمبر 20
اجنبی ہو گئے دیکھتے دیکھتے!
اور سبھی ہو گئے دیکھتے دیکھتے
جن میں کوئی کمی ہی نہیں تھی وہ دن
اک کمی ہو گئے دیکھتے دیکھتے
آپ تک جانے والے سبھی راستے
داخلی ہو گئے دیکھتے دیکھتے
شاعری پہلا الزام تھی ذات پر
پھر کئی ہو گئے دیکھتے دیکھتے
رنگ جتنے بھرے میں نے تصویر میں
سرمئی ہو گئے دیکھتے دیکھتے
سرسری ایک کردار تھے ہم کبھی
مرکزی ہو گئے دیکھتے دیکھتے
اور لوگوں کے جیسے کہاں آپ تھے
آپ بھی ہو گئے دیکھتے دیکھتے
اِن نگاہوں میں تھے جو ہزاروں سخن
اَن کہی ہو گئے دیکھتے دیکھتے
اُس کی صحبت میں گزرے ہوئے سارے پل
شاعری ہو گئے دیکھتے دیکھتے
ہم مہا شبد کا اولیں بھید تھے
روشنی ہو گئے دیکھتے دیکھتے
نینا عادل

جی رہا ہوں مگر بے کسی کی طرح

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 148
آدمی میں بھی ہوں آدمی کی طرح
جی رہا ہوں مگر بے کسی کی طرح
ہر قدم پر لہو کا تعاقب کرے
موت وحشت زدہ اونٹنی کی طرح
چار اطراف میں زندگی کی تڑپ
جسم کی آخری جھر جھری کی طرح
صرف حیرت تھی آنکھوں میں پھیلی ہوئی
کوئی منظر تھا بے منظری کی طرح
آئینے میں کسی اور کو دیر تک
دیکھتا میں رہا اجنبی کی طرح
ایک تقریبِصبح مسلسل ہے تُو
اور میں محفلِ ملتوی کی طرح
وقت کے کینوس پہ ادھورا سا میں
ایک تصویر بنتی ہوئی کی طرح
سانولی دھوپ آنکھوں میں پھرتی رہے
شام کی ساعتِ سرمئی کی طرح
عمر بھر اک سٹیشن پہ چلتے رہے
تیراساماں اٹھاکر قلی کی طرح
مصرعے اگلی کلاسوں کے بنتا ہوا
خواب کا جامعہ شاعری کی طرح
عمر منصور اس کی گلی میں کٹی
عشق میں نے کیا نوکری کی طرح
منصور آفاق