ٹیگ کے محفوظات: سرشاری

سرشاری

ہاں ، یہ موسم تو وہ ہے

کہ جس میں نظر چُپ رہے

اور بدن بات کرتا رہے

اُس کے ہاتھوں کے شبنم پیالوں میں

چہرہ میرا

پھول کی طرح ہلکورے لیتا رہے

پنکھڑی پنکھڑی

اُس کے بوسوں کی بارش میں

پیہم نِکھرتی رہے

زندگی اس جنوں خیز بارش کے شانوں پر سر کو رکھے

رقص کرتی رہے!

پروین شاکر

اُس پہ وُہ رات بہت بھاری تھی

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 51
شہر کے شہر میں بیداری تھی
اُس پہ وُہ رات بہت بھاری تھی
دستِ قاتل کو ملے دادِ کمال
ضرب ہلکی تھی مگر کاری تھی
میں جو سمجھا وُہ نہیں تھا شاید
لفظ میں حکمتِ تہ داری تھی
میں پگھلتا ہی، پگھلتا ہی گیا
عشق کی اوّلین سرشاری تھی
نصف افلاک سے میں لوٹ آیا
اپنی مٹی سے مری یاری تھی
یاس کیسی کہ یہ بازی ہم نے
کبھی جیتی تھی کبھی ہاری تھی
مر گئے ہوتے اگر مر سکتے
ایک اقرار کی دشواری تھی
آفتاب اقبال شمیم