ٹیگ کے محفوظات: سرائے

میں اس گلی میں اکیلا تھا اور سائے بہت

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 22
وہاں کی روشنیوں نے بھی ظلم ڈھائے بہت
میں اس گلی میں اکیلا تھا اور سائے بہت
کسی کے سر پہ کبھی ٹوٹ کرا گرا ہی نہیں
اس آسماں نے ہوا میں قدم جمائے بہت
نہ جانے رت کا تصرف تھا یا نظر کا فریب
کلی وہی تھی مگر رنگ جھلملائے بہت
ہوا کا رخ ہی اچانک بدل گیا ورنہ
مہک کے قافلے صحرا کی سمت آئے بہت
یہ کائنات ہے میری ہی خاک کا ذرہ
میں اپنے دشت سے گزارا تو بھید پائے بہت
جو موتیوں کی طلب نے کبھی اداس کیا
تو ہم بھی راہ سے کنکر سمیٹ لائے بہت
بس ایک رات ٹھہرنا ہے کیا گلہ کیجے
مسافروں کو غنیمت ہے یہ سرائے بہت
جمی رہے گی نگاہوں پہ تیرگی دن بھر
کہ رات خواب میں تارے اتر کے آئے بہت
شکیبؔ کیسی اڑان، اب وہ پر ہی ٹوٹ گئے
کہ زیرِ دام جب آئے تھے ، پھڑپھڑائے بہت
شکیب جلالی

زرد اداسی کی وحشت ہے اور فضائے شام خزاں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 83
زرد ہوائیں ، زرد آوازیں، زرد سرائے شام خزاں
زرد اداسی کی وحشت ہے اور فضائے شام خزاں
شیشے کی دیوار و در ہیں اور پاس آداب کی شام
میں ہوں میری بیزاری ہے اور صحرائے شام خزاں
سورج پیڑوں پار جھکا ہے شاخوں میں لالی پھوٹی
مہکے ہیں پھر اک گم گشتہ رنگ کے سائے شام خزاں
پیلے پتوں کی سمتوں میں ناچ اٹھے ہیں سبز ملال
اب تک بے احوال نہیں ہے موج ہوائے شام خزاں
تنہائی کا اک جنگل ہے سناٹا ہے اور ہوا
پیڑوں کے پیلے پتے ہیں نغمہ سرائے شام خزاں
جون ایلیا

ہوئے کتنے دن اس کوچے سے آئے، میں نہیں گِنتا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 8
ہیں موسم رنگ کے کتنے گنوائے، میں نہیں گِنتا
ہوئے کتنے دن اس کوچے سے آئے، میں نہیں گِنتا
بھلا خود میں کب اپنا ہوں، سو پھر اپنا پرایا کیا
ہیں کتنے اپنے اور کتنے پرائے میں نہیں گِنتا
لبوں کے بیچ تھا ہر سانس اک گنتی بچھڑنے کی
مرے وہ لاکھ بوسے لے کے جائے میں نہیں گِنتا
وہ میری ذات کی بستی جو تھی میں اب وہاں کب ہوں
وہاں آباد تھے کِس کِس کے سائے میں نہیں گِنتا
بھلا یہ غم میں بھولوں گا کہ غم بھی بھول جاتے ہیں
مرے لمحوں نے کتنے غم بُھلائے میں نہیں گِنتا
تُو جن یادوں کی خوشبو لے گئی تھی اے صبا مجھ سے
انہیں تُو موج اندر موج لائے میں نہیں گِنتا
وہ سارے رشتہ ہائے جاں کے تازہ تھے جو اس پل تک
تھے سب باشندہء کہنہ سرائے، میں نہیں گِنتا
جون ایلیا

کوئی اپنے دئیے جلائے کہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 402
شب کہیں اور شب کے سائے کہیں
کوئی اپنے دئیے جلائے کہیں
ہے کہیں انتظارِ گاہِ حیات
اور ہے موت کی سرائے کہیں
کانچ سے بھی زیادہ نازک ہے
سنگ دل ، دل تو آزمائے کہیں
شخصیت کا یہ خول رہنے دے
میری رائے بدل نہ جائے کہیں
ہرطرف راستے ہیں گلیاں ہیں
گھر کوئی بھی نظر نہ آئے کہیں
جاگ اٹھیں نہ رات کی آنکھیں
کوئی سایہ سا سرسرائے کہیں
دونوں عالم کو خوف ہے منصور
خاک کا دل نہ ٹوٹ جائے کہیں
منصور آفاق