ٹیگ کے محفوظات: سرائی

جو میری غزل سرائی کے تھے

وہ دن تری بے وفائی کے تھے
جو میری غزل سرائی کے تھے
دل اشکوں کی داد چاہتا تھا
سامان یہ جگ ہنسائی کے تھے
ملنے کے جتن کیے تھے جتنے
اسباب وہی جدائی کے تھے
ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز میں بھی
آثار تری بڑائی کے تھے
گو تلخ زباں تھے اہلِ محفل
شیدائی سبھی مٹھائی کے تھے
نالے تو بلا کے تھے ہی باصرِؔ
نغمے بھی ترے دہائی کے تھے
باصر کاظمی

آج پہلی بار اس سے میں نے بے وفائی کی

احمد فراز ۔ غزل نمبر 93
اِس قدر مسلسل تھیں شدتیں جدائی کی
آج پہلی بار اس سے میں نے بے وفائی کی
ورنہ اب تلک یوں تھا خواہشوں کی بارش میں
یا تو ٹوٹ کر رویا یا غزل سرائی کی
تج دیا تھا کل جن کو ہم نے تیری چاہت میں
آج ان سے مجبوراً تازہ آشنائی کی
ہو چلا تھا جب مجھ کو اختلاف اپنے سے
تو نے کس گھڑی ظالم میری ہمنوائی کی
ترک کر چکے قاصد کوئے نا مراداں کو
کون اب خبر لاوے شہر آشنائی کی
طنز و طعنہ و تہمت سب ہنر ہیں ناصح کے
آپ سے کوئی پوچھے ہم نے کیا برائی کی
پھر قفس میں شور اٹھا قیدیوں کا اور صیاد
دیکھنا اڑا دیگا پھر خبر رہائی کی
دکھ ہوا جب اس در پر کل فراز کو دیکھا
لاکھ عیب تھے اس میں خو نہ تھی گدائی کی
احمد فراز

نیند ان کو میرے ساتھ نہ آئی تمام شب

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 39
تھا غیر کا جو رنجِ جدائی تمام شب
نیند ان کو میرے ساتھ نہ آئی تمام شب
شکوہ مجھے نہ ہو جو مکافات حد سے ہو
واں صلح ایک دم ہے لڑائی تمام شب
یہ ڈر رہا کہ سوتے نہ پائیں کہیں مجھے
وعدے کی رات نیند نہ آئی تمام شب
سچ تو یہ ہے کہ بول گئے اکثر اہلِ شوق
بلبل نے کی جو نالہ سرائی تمام شب
دم بھر بھی عمر کھوئی جو ذکرِ رقیب میں
کیفیتِ وصال نہ پائی تمام شب
تھوڑا سا میرے حال پہ فرما کر التفات
کرتے رہے وہ اپنی بڑائی تمام شب
وہ آہ، تار و پود ہو جس کا ہوائے زلف
کرتی ہے عنبری و صبائی تمام شب
وہ صبح جلوہ، جلوہ گرِ باغ تھا جو رات
مرغِ سحر نے دھوم مچائی تمام شب
افسانے سے بگاڑ ہے، ان بن ہے خواب سے
ہے فکرِ وصل و ذکرِ جدائی تمام شب
جس کی شمیمِ زلف پہ میں غش ہوں شیفتہ
اس نے شمیمِ زلف سنگھائی تمام شب
مصطفٰی خان شیفتہ

عشق ہے فقر ہے جدائی ہے

دیوان پنجم غزل 1779
ان بلائوں سے کب رہائی ہے
عشق ہے فقر ہے جدائی ہے
دیکھیے رفتہ رفتہ کیا ہووے
ہم بھی چلنے کو ہیں کہ آئی ہے
استخواں کانپ کانپ جلتے ہیں
عشق نے آگ یہ لگائی ہے
دل کو کھینچے ہے چشمک انجم
آنکھ ہم نے کہاں لڑائی ہے
اس صنائع کا اس بدائع کا
کچھ تعجب نہیں خدائی ہے
نہ تو جذب رسا نہ بخت رسا
کیونکے کہیے کہ واں رسائی ہے
ہے تصنع کہ اس کے لب ہیں لعل
سب نے اک بات یہ بنائی ہے
کیا کہوں خشم عشق سے جو مجھے
کبھو جھنجھلاہٹ آہ آئی ہے
ایسا چہرے پہ ہے نہوں کا خراش
جیسے تلوار منھ پہ کھائی ہے
میں نہ آتا تھا باغ میں اس بن
مجھ کو بلبل پکار لائی ہے
آئی اس جنگ جو کی گر شب وصل
شام سے صبح تک لڑائی ہے
اور کچھ مشغلہ نہیں ہے ہمیں
گاہ و بے گہ غزل سرائی ہے
توڑ کر آئینہ نہ جانا یہ
کہ ہمیں صورت آشنائی ہے
میر تقی میر

مجھ دل زدہ کو نیند نہ آئی تمام شب

دیوان دوم غزل 768
اندوہ سے ہوئی نہ رہائی تمام شب
مجھ دل زدہ کو نیند نہ آئی تمام شب
جب میں شروع قصہ کیا آنکھیں کھول دیں
یعنی تھی مجھ کو چشم نمائی تمام شب
چشمک چلی گئی تھی ستاروں کی صبح تک
کی آسماں نے دیدہ درائی تمام شب
بخت سیہ نے دیر میں کل یاوری سی کی
تھی دشمنوں سے اس کو لڑائی تمام شب
بیٹھے ہی گذری وعدے کی شب وہ نہ آپھرا
ایذا عجب طرح کی اٹھائی تمام شب
سناہٹے سے دل سے گذر جائیں سو کہاں
بلبل نے گو کی نالہ سرائی تمام شب
تارے سے میری پلکوں پہ قطرے سرشک کے
دیتے رہے ہیں میر دکھائی تمام شب
میر تقی میر