ٹیگ کے محفوظات: سراؤں

انداز کہیں، کیا کیا تیور ہیں خداؤں کے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 51
دم توڑتی چیخوں کے مبہوت صداؤں کے
انداز کہیں، کیا کیا تیور ہیں خداؤں کے
اُٹھے تھے جو حدّت سے فصلوں کے بچانے کو
سایہ نہ بنے کیونکر وُہ ہاتھ دُعاؤں کے
کیا جانئیے بڑھ جائے، کب خرچ رہائش کا
اور گھر میں نظر آئیں، سب نقش سراؤں کے
ٹھہرے ہیں جگر گوشے لو، کھیپ دساور کی
بڑھ جانے لگے دیکھو، کیا حوصلے ماؤں کے
رودادِ سفر جب بھی، چھِڑ جانے لگی ماجدؔ
لفظوں میں اُترا آئے، چھالے تھے جو پاؤں کے
ماجد صدیقی

ایک پَل کو چھاؤں میں ، اور پھر ہَواؤں میں

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 60
تتلیوں کی بے چینی آبسی ہے پاؤں میں
ایک پَل کو چھاؤں میں ، اور پھر ہَواؤں میں
جن کے کھیت اور آنگن ایک ساتھ اُجڑتے ہیں
کیسے حوصلے ہوں گے اُن غریب ماؤں میں
صورتِ رفو کرتے ، سر نہ یوں کُھلا رکھتے
جوڑ کب نہیں ہوتے ماؤں کی رداؤں میں
آنسوؤں میں کٹ کٹ کر کتنے خواب گرتے ہیں
اِک جو ان کی میّت ا رہی ہے گاؤں میں
اب تو ٹوٹی کشتی بھی آگ سے بچاتے ہیں
ہاں کبھی تھا نام اپنا بخت آزماؤں میں
ابر کی طرح ہے وہ یوں نہ چُھوسکوں لیکن
ہاتھ جب بھی پھیلائے ا گیا دعاؤں میں
جگنوؤں کی شمعیں بھی راستے میں روشن ہیں
سانپ ہی نہیں ہوتے ذات کی گپھاؤں میں
صرف اِس تکبُّر میں اُس نے مجھ کو جیتا تھا
ذکر ہو نہ اس کا بھی کل کو نارساؤں میں
کوچ کی تمنّا میں پاؤں تھک گئے لیکن
سمت طے نہیں ہوتی پیارے رہنماؤں میں
اپنی غم گُساری کو مشتہر نہیں کرتے
اِتنا ظرف ہوتا ہے درد آشناؤں میں
اب تو ہجر کے دُکھ میں ساری عُمر جلنا ہے
پہلے کیا پناہیں تھیں مہرباں چتاؤں میں
ساز و رخت بھجوا دیں حدِّ شہر سے باہر
پھر سُرنگ ڈالیں گے ہم محل سراؤں میں
پروین شاکر

گھنگھرو سایوں کے بجیں ڈھلتی دھوپ کے پاؤں میں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 69
جاتی رُت کا شور ہے بے آواز صداؤں میں
گھنگھرو سایوں کے بجیں ڈھلتی دھوپ کے پاؤں میں
بدن چرائے دھوپ سے نکلی نہر سے سانولی
چھلکے رنگ غروب کے دن دوپہرے گاؤں میں
عکس ابھرتا آنکھ میں کیسے کل کے خواب کا
نیلا کانچ تھا آسماں پیلی زرد خزاؤں میں
سورج جس کا تاج تھا، دنیا جس کا تخت تھی
وہ بھی شامل ہو گیا بالآخر تنہاؤں میں
بیٹھے آمنے سامنے کہنیاں ٹیکے میز پہ
چٹکے چہرے پھول سے شہر کی شام سراؤں میں
گزرا اپنی اوٹ میں دیکھا کس نے زید کو
ہوتی کیوں سرگوشیاں بستی کی لیلاؤں میں
آفتاب اقبال شمیم

ہم نے ابلاغ سے خلاؤں کو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 229
بھردیا اجنبی فضاؤں کو
ہم نے ابلاغ سے خلاؤں کو
آخری سانس تک لڑیں گے ہم
پھر دیوں نے کہا ہواؤں کو
لوگ ابلیس سے بھی بڑھ کے ہیں
پوجتے ہیں کئی خداؤں کو
سانپ بننے لگی ہے شاخِ گل
دھوپ ڈسنے لگی ہے چھاؤں کو
دشتِ غم سے نکال لائے ہیں
چومتے ہیں ہم اپنے پاؤں کو
دے گئی پھر سنبھالاموسیقی
اور دعادی غزل سراؤں کو
اپنے خالی گھڑے لئے منصور
کوئی دریا چلا ہے گاؤں کو
منصور آفاق