ٹیگ کے محفوظات: سدھر

تم بھی چلو کہ سارے آشفتہ سر چلے ہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 122
وہ زلف ہے پریشاں، ہم سب ادھر چلے ہیں
تم بھی چلو کہ سارے آشفتہ سر چلے ہیں
تم بھی چلو غزالاں، کوئے غزال چشماں
درشن کا آج دن ہے سب خوش نظر چلے ہیں
رنگ اس گلی خزاں کے موسم میں کھیلنے کو
خونیں دلاں گئے ہیں خونیں جگر چلے ہیں
اب دیر مت لگا چل، اے یار بس چلا چل
دیکھیں یہ خوش نشینیاں آخر کدھر چلے ہیں
بس اب پہنچ چکے ہیں ہم یاراں سوئے بیاباں
ساتھ اپنے ہم کو لے کر دیوار و در چلے ہیں
دنیا تباہ کر کے ہوش آگیا ہے دل کو
اب تو ہماری سن اب ہم سدھر چلے ہیں
ہے سلسلے عجب کچھ اس خلوتی سے اپنا
سب اس کے گھر چلے ہیں ہم اپنے گھر چلے ہیں
جون ایلیا

مجھ سے ہو کر گزر گئے مرے دن

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 59
مجھ کو بیگانہ کر گئے مرے دن
مجھ سے ہو کر گزر گئے مرے دن
اب نہ کوئی دن مرے گھر جائے گا
جانے کس کے گھر گئے مرے دن
اب نہیں ہیں مرے کوئی دن رات
کہ مجھ ہی کو بسر گئے مرے دن
ساری راتیں گئیں مری بے حال
مرے دن ! بے اثر گئے مرے دن
خوشا اب انتظار ہے نہ امید
یار یاراں ! سدھر گئے مرے دن
اب میں بس رہ گیا ہوں راتوں میں
مر گئے جون ! مر گئے مرے دن
جون ایلیا