ٹیگ کے محفوظات: سدھارے

موقوف رحم پر ہیں دشوار کام سارے

دیوان پنجم غزل 1769
صاحب ہو تم ہمارے بندے ہیں ہم تمھارے
موقوف رحم پر ہیں دشوار کام سارے
ہو ملتفت کہ ہم بھی جیتوں میں آویں چندے
یہ عشق بے محابا تاچند جان مارے
آشوب بحر ہستی کیا جانیے ہے کب سے
موج و حباب اٹھ کر لگ جاتے ہیں کنارے
کوئی تو تھا طرف پر آواز دی نہ ہم کو
ہم بے قرار ہوکر چاروں طرف پکارے
بے طاقتی سے کیونکر سر مارتے رہیں نہ
صبر و قرار دونوں یک بارگی سدھارے
کوئی تو ماہ پارہ اس بھی رواق میں ہے
چشمک کریں ہیں ہر شب اس کی طرف ستارے
دنیا میں میر آکر کھولا ہے بار ہم نے
اس رہگذر میں دیکھیں کیا پیش آوے بارے
میر تقی میر

تو یہی آج کل سدھارے ہم

دیوان سوم غزل 1168
جو رہے یوں ہی غم کے مارے ہم
تو یہی آج کل سدھارے ہم
مرتے رہتے تھے اس پہ یوں پر اب
جا لگے گور کے کنارے ہم
دن گذرتا ہے دم شماری میں
شب کو رہتے ہیں گنتے تارے ہم
ہے مروت سے اپنی وحشت دور
انس رکھتے ہیں تم سے پیارے ہم
زندگی بار دوش آج ہے یاں
دیکھیں گے کل جو ہوں گے بارے ہم
جا چکی بازی یعنی مرتے ہیں
جیتے تم یہ قمار ہارے ہم
میر آئوگے آپ میں بھی کبھو
سخت مشتاق ہیں تمھارے ہم
میر تقی میر

حیرت سے ہم تو چپ ہیں کچھ تم بھی بولو پیارے

دیوان دوم غزل 967
اک شور ہورہا ہے خوں ریزی میں ہمارے
حیرت سے ہم تو چپ ہیں کچھ تم بھی بولو پیارے
زخم اس کے ہاتھ کے جو سینے پہ ہیں نمایاں
چھاتی لگے رہیں گے زیر زمیں بھی سارے
ہیں بدمزاج خوباں پر کس قدر ہیں دلکش
پائے کہاں گلوں نے یہ مکھڑے پیارے پیارے
بیٹھیں ہیں رونے کو تو دریا ہی رو اٹھیں ہیں
جوش و خروش یہ تھے تب ہم لگے کنارے
لاتے نہیں ہو مطلق سر تم فرو خدا سے
یہ ناز خوبرویاں بندے ہیں ہم تمھارے
کوئی تو ماہ پارہ اس بھی رواق میں ہے
چشمک زنی میں شب کو یوں ہی نہیں ہیں تارے
لگ کر گلے نہ سوئے اس منھ پہ منھ نہ رکھا
جی سے گئے ہم آخر ان حسرتوں کے مارے
بیتابی ہے دنوں کو بے خوابی ہے شبوں کو
آرام و صبر دونوں مدت ہوئی سدھارے
آفاق میں جو ہوتے اہل کرم تو سنتے
ہم برسوں رعد آسا بیتاب ہو پکارے
جل بجھیے اب تو بہتر مانند برق خاطف
جوں ابر کس کے آگے دامن کوئی پسارے
ہم نے تو عاشقی میں کھویا ہے جان کو بھی
صدقے ہیں میر جی کے وے ڈھونڈتے ہیں وارے
میر تقی میر