ٹیگ کے محفوظات: سخن

کہاں کھپائیں گے اب جان فکر و فن میں لوگ

مگن ہوئے ہیں کسی اور ہی لگن میں لوگ
کہاں کھپائیں گے اب جان فکر و فن میں لوگ
وہی ہیں رنگ خزاں اور بہار کے لیکن
کچھ اور دیکھنے جاتے ہیں اب چمن میں لوگ
بدل دیے ہیں زمانے نے عشق کے انداز
سو دیکھ پائیں گے کیا قیس و کوہکن میں لوگ
ترس گئے ہیں مرے کان حرفِ شیریں کو
لیے ہوئے ہیں بڑی تلخیاں دہن میں لوگ
اگرچہ نعمتیں حاصل ہیں دو جہاں کی اِنہیں
اداس رہتے ہیں یارب مرے وطن میں لوگ
کہی تھی تو نے تو ہر بات صاف صاف مگر
نجانے سمجھے ہیں کیا اپنے بھولپن میں لوگ
میں کیا بتاؤں تجھے خوب جانتا ہے تو
شریک ہوتے ہیں کیوں تیری انجمن میں لوگ
دکھائی دی تھی جو اِتنی طویل رات کے بعد
تلاش کرتے رہے مہر اُس کرن میں لوگ
مرے سُخن میں سُخن بولتا ہے ناصِر کا
مجھے بھی پائیں گے ہر محفلِ سخن میں لوگ
باصر کاظمی

پھول کو کھِلنے سے مطلب ہے چمن کوئی بھی ہو

دل لگا لیتے ہیں اہلِ دل وطن کوئی بھی ہو
پھول کو کھِلنے سے مطلب ہے چمن کوئی بھی ہو
صورتِ حالات ہی پر بات کرنی ہے اگر
پھر مخاطَب ہو کوئی بھی انجمن کوئی بھی ہو
تارِ گیسو یا رگِ گُل سے ہوئے ہم بے نیاز
دار تک جب آ گئے عاشق رسن کوئی بھی ہو
ہے وہی لا حاصلی دستِ ہنر کی منتظر
آخرش سر پھوڑتا ہے کوہکن کوئی بھی ہو
ہیں جو پُر از آرزو ہوتے نہیں محتاجِ مے
رات دن مخمور رکھتی ہے لگن کوئی بھی ہو
ہے کسی محبوب کی مانند اُس کا انتظار
دیدہ و دل فرشِ رہ مشتاقِ فن کوئی بھی ہو
شاعری میں آج بھی ملتا ہے ناصِر کا نشاں
ڈھونڈتے ہیں ہم اُسے بزمِ سخن کوئی بھی ہو
عادتیں اور حاجتیں باصرِؔ بدلتی ہیں کہاں
رقص بِن رہتا نہیں طاؤس بَن کوئی بھی ہو
باصر کاظمی

چِڑا رہے ہیں مرا منہ، مرے سخن کے گلاب

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 30
شرف مآب ہوئے سے جب سے مکر و فن کے گلاب
چِڑا رہے ہیں مرا منہ، مرے سخن کے گلاب
بناتِ شہر کی پژمردگی وہ کیا جانے
بہم ہر آن جسے ہوں، بدن بدن کے گلاب
ملے نہ جس کا کہیں بھی ضمیر سے رشتہ
گراں بہا ہیں اُسی فکرِ پر فتن کے گلاب
سخن میں جس کے بھی اُمڈی ریا کی صنّاعی
ہر ایک سمت سے برسے اُسی پہ دَھن کے گلاب
یہاں جو قصر نشیں ہے، یہ جان لے کہ اُسے
نظر نہ آئیں گے ماجد، تجھ ایسے بن کے گلاب
ماجد صدیقی

لو کر چلے ہیں، سارے پرندے، سخن تمام

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 55
خاموشیوں میں ڈوب گیا ہے، گگن تمام
لو کر چلے ہیں، سارے پرندے، سخن تمام
وہ خوف ہے، کہ شدّتِ طوفاں کے بعد بھی
دبکے ہوئے ہیں باغ میں، سرو و سمن تمام
وُہ فرطِ قحطِ نم ہے کہ ہر شاخ ہے سلاخ
پنجرے کو مات کرنے لگا ہے، چمن تمام
کس تُندیٔ پیام سے بادِ صبا نے بھی
فرعون ہی کے، سیکھ لئے ہیں چلن تمام
ماجد یہ کس قبیل کے مہتاب ہم ہوئے
لکّھے ہیں، اپنے نام ہی جیسے گہن تمام
ماجد صدیقی

جو حرفِ لطف ہے وہی کنجِ دہن میں ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 14
کس مہر کا ہے عکس کہ تیرے بدن میں ہے
جو حرفِ لطف ہے وہی کنجِ دہن میں ہے
دیکھے سے جس کے سِحر زدہ ہو ہر اک نگاہ
سربستگی سی کیا یہ ترے پیرہن میں ہے
رنگینیاں تجھی میں چمن کے جمال کی
اور سادگی وہی کہ جو کوہ و دمن میں ہے
ہر اوجِ آرزُو ہے نثار اِس نشیب پر
رفعت نہ جانے کیا ترے چاہِ زقن میں ہے
خنکی تو خیر جسم کی رشکِ چمن سہی
حدّت بھی اس طرح کہ کہاں دشت دبن میں ہے
حسرت سے دیکھتی ہیں سوالی رُتیں تجھے
کیا تازگی یہ تیری نظر کے ختن میں ہے
اُمڈے ہے حرف حرف میں کس شہ پہ اِن دنوں
ماجدؔ یہ لطفِ خاص جو تیرے سخن میں ہے
ماجد صدیقی

پہچان موسموں کے دئیے پیرہن سے ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 13
نسبت شجر شجر کو اگرچہ چمن سے ہے
پہچان موسموں کے دئیے پیرہن سے ہے
پہلو میں میرے جس کی طراوت ہے موج موج
یہ لب شگفتگی اُسی تازہ بدن سے ہے
ہر آن اشک اشک جھلکتی رہی تھی جو
دبکی ہوئی وہ آگ بھڑکنے کو تن سے ہے
کھٹکا ہی کیا بھنور کا، گُہرجُو ہوئے تو پھر
اب نت کا واسطہ اِسی رنج و محن سے ہے
تیرا رقیب ہو تو کوئی بس اِسی سے ہو
ماجدؔ تجھے جو ربط نگارِ سخن سے ہے
ماجد صدیقی

طلب ہمیں بھی اُسی شوخ گلبدن کی ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 40
کلی کلی کو لپک جس کے بانکپن کی ہے
طلب ہمیں بھی اُسی شوخ گلبدن کی ہے
ہزار بھنوروں سا اُس کا کریں احاطہ ہم
بدن میں اُس کے بھی خُو بُو بھرے چمن کی ہے
مقامِ شکر ہے وجدان مطمئن ہے مرا
یہی بہا، یہی قیمت مرے سخن کی ہے
ہر اک نظر پہ عیاں ہو بقدرِ حَظ طلبی
تمہیں یہ قید سی کاہے کو پیرہن کی ہے
کھُلی ہے دعوتِ نظارۂِ جمال یہاں
زباں دراز قباؤں کی ہر شکن کی ہے
ترا سلوک تو ماجدؔ بجا ہے جو کُچھ ہے
اُسے بھی جانچ کہ نیّت جو انجمن کی ہے
ماجد صدیقی

وہ شوخ میری تمّنا کا پیرہن نہ ہوا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 60
خیال ہی میں رہا، زینتِ بدن نہ ہوا
وہ شوخ میری تمّنا کا پیرہن نہ ہوا
میانِ معرکہ نکلے ہیں مستِ ساز جو ہم
طوائفوں کا ہُوا مشغلہ، یہ رَن نہ ہُوا
نہ تھا قبول جو اُس کی نگاہ سے گرنا
بہم ہمیں کوئی پیرایۂ سخن نہ ہُوا
لُٹے شجر تو دِفینوں پہ کی گزر اِس نے
یہ دل زمینِ چمن تھا اجاڑ بن نہ ہُوا
تھا جیسی شاخ پہ اصرار بیٹھنے کو اُسے
نظر میں اپنی ہی پیدا وہ بانکپن نہ ہُوا
ہمیں وُہ لفظ ہے ماجدؔ مثالِ برگِ علیل
لبوں سے پھُوٹ کے جو زیبِ انجمن نہ ہوا
ماجد صدیقی

تُو کہیں کھو گیا اور پہلو میں تیری شباہت لیے اک بدن رہ گیا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 20
اب ترے لمس کو یاد کرنے کا اک سلسلہ اور دیوانہ پن رہ گیا
تُو کہیں کھو گیا اور پہلو میں تیری شباہت لیے اک بدن رہ گیا
وہ سراپا ترا وہ ترے خال و خد میری یادوں میں سب منتشر ہو گئے
لفظ کی جستجو میں لرزتا ہوا نیم وا غنچہ سا اک دہن رہ گیا
حرف کے حرف سے کیا تضادات ہیں تُو نے بھی کچھ کہا میں نے بھی کچھ کہا
تیرے پہلو میں دنیا سمٹتی گئی میرے حصے میں حرفِ سخن رہ گیا
تیرے جانے سے مجھ پر یہ عقدہ کھلا رنگ و خوشبو تو بس تیری میراث تھے
ایک حسرت سجی رہ گئی گُل بہ گُل ایک ماتم چمن در چمن رہ گیا
ایک بے نام خواہش کی پاداش میں تیری پلکیں بھی باہم پرو دی گئیں
ایک وحشت کو سیراب کرتے ہوئے میں بھی آنکھوں میں لے کر تھکن رہ گیا
عرصۂ خواب سے وقتِ موجود کے راستے میں گنوا دی گئی گفتگو
ایک اصرار کی بے بسی رہ گئی ایک انکار کا بانکپن رہ گیا
تُو ستاروں کو اپنے جلو میں لیے جا رہا تھا تجھے کیا خبر کیا ہوا
اک تمنا دریچے میں بیٹھی رہی ایک بستر کہیں بے شکن رہ گیا
عرفان ستار

رات بھر جاگی ہوئی جیسے دُلہن کی خوشبو

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 42
آج ملبوس میں ہے کیسی تھکن کی خوشبو
رات بھر جاگی ہوئی جیسے دُلہن کی خوشبو
پیرہن میرا مگر اُس کے بدن کی خوشبو
اُس کی ترتیب ہے ایک ایک شکن کی خوشبو
موجہ ءِ گُل کو ابھی اِذنِ تکلم نہ ملے
پاس آتی ہے کسی نرم سخن کی خوشبو
قامتِ شعر کی زیبائی کا عالم مت پُوچھ
مہربان جب سے ہے اُس سرد بدن کی خوشبو
ذکر شاید کسی خُورشید بدن کا بھی کرے
کُو بہ کُو پھیلی ہُوئی میرے گہن کی خوشبو
عارضِ گُل کو چُھوا تھا کہ دھنک سی بکھری
کِس قدر شوخ ہے ننھی سی کرن کی خوشبو
کِس نے زنجیر کیا ہے رمِ آہو چشماں
نکہتِ جاں ہے انہیں دشت و دمن کی خوشبو
اِس اسیری میں بھی ہر سانس کے ساتھ آتی ہے
صحنِ زنداں میں انہیں دشت وطن کی خوشبو
پروین شاکر

وہ حالت سکوت جو اس کے سخن میں تھی

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 7
رامش گروں سے داد طلب انجمن میں تھی
وہ حالت سکوت جو اس کے سخن میں تھی
تھے دن عجب وہ کشمکش انتخاب کے
اک بات یاسمیں میں تھی اک یاسمن میں تھی
رم خوردگی میں اپنے غزال ختن تھے ہم
یہ جب کا ذکر ہے کہ غزالہ ختم میں تھی
محمل کے ساتھ ساتھ میں آ تو گیا مگر
وہ بات شہر میں تو نہیں ہے جو بن میں تھی
کیوں کہ سماعتوں کو خنک عیش کر گئی
وہ تند شعلگی جو نوا کے بدن میں تھی
خوباں کہاں تھے نکتہ خوبی سے با خبر
یہ اہلِ فن کی بات تھی اور اہلِ فن میں تھی
یاد آ رہی ہے پھر تری فرمائشِ سخن
وہ نغمگی کہاں مری عرضِ سخن میں تھی
آشوبناک تھی نگہِ اوّلینِ شوق
صبحِ وصال کی سی تھکن اس بدن میں تھی
پہنچی ہے جب ہماری تباہی کی داستاں
عذرا وطن میں تھی نہ عنیزہ وطن میں تھی
میں اور پاسِ وضعِ خرد، کیا ہوا مجھے؟
میری تو آن ہی مرے دیوانہ پن میں تھی
انکار ہے تو قیمتِ انکار کچھ بھی ہو
یزداں سے پوچھنا یہ ادا اہرمن میں تھی
جون ایلیا

ہوا ہے موجبِ آرامِ جان و تن تکیہ

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 187
شبِ وصال میں مونس گیا ہے بَن تکیہ
ہوا ہے موجبِ آرامِ جان و تن تکیہ
خراج بادشہِ چیں سے کیوں نہ مانگوں آج؟
کہ بن گیا ہے خمِ جعدِ@ پُرشکن تکیہ
بنا ہے تختۂ گل ہائے یاسمیں بستر
ہوا ہے دستۂ نسرین و نسترن تکیہ
فروغِ حسن سے روشن ہے خوابگاہ تمام
جو رختِ خواب ہے پرویں، تو ہے پرن تکیہ
مزا ملے کہو کیا خاک ساتھ سونے کا
رکھے جو بیچ میں وہ شوخِ سیم تن تکیہ
اگرچہ تھا یہ ارادہ مگر خدا کا شکر
اٹھا سکا نہ نزاکت سے گلبدن تکیہ
ہوا ہے کاٹ کے چادر کو ناگہاں غائب
اگر چہ زانوئے نل پر رکھے دمن تکیہ
بضربِ تیشہ وہ اس واسطے ہلاک ہوا
کہ ضربِ تیشہ پہ رکھتا تھا کوہکن تکیہ
یہ رات بھر کا ہے ہنگامہ صبح ہونے تک
رکھو نہ شمع پر اے اہلِ انجمن تکیہ
اگرچہ پھینک دیا تم نے دور سے لیکن
اٹھائے کیوں کہ یہ رنجورِ خستہ تن تکیہ
غش آ گیا جو پس از قتل میرے قاتل کو
ہوئی ہے اس کو مری نعشِ بے کفن تکیہ
شبِ فراق میں یہ حال ہے اذیّت کا
کہ سانپ فرش ہے اور سانپ کا ہے من تکیہ
روارکھونہ رکھو، تھاجو لفظ تکیہ کلام
اب اس کو کہتے ہیں اہلِ سخن "سخن تکیہ”
ہم اور تم فلکِ پیر جس کو کہتے ہیں
فقیر غالب مسکیں کا ہے کہن تکیہ
@ نسخۂ مہر میں دال پر جزم ہے۔
مرزا اسد اللہ خان غالب

رکھتا ہے ضد سے کھینچ کے باہر لگن کے پاؤں

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 156
دھوتا ہوں جب میں پینے کو اس سیم تن کے پاؤں
رکھتا ہے ضد سے کھینچ کے باہر لگن کے پاؤں
دی سادگی سے جان پڑوں کوہکن کے پاؤں
ہیہات کیوں نہ ٹوٹ گیے پیر زن کے پاؤں
بھاگے تھے ہم بہت، سو، اسی کی سزا ہے یہ
ہو کر اسیر دابتے ہیں راہ زن کے پاؤں
مرہم کی جستجو میں پھرا ہوں جو دور دور
تن سے سوا فِگار ہیں اس خستہ تن کے پاؤں
اللہ رے ذوقِ دشت نوردی کہ بعدِ مرگ
ہلتے ہیں خود بہ خود مرے، اندر کفن کے، پاؤں
ہے جوشِ گل بہار میں یاں تک کہ ہر طرف
اڑتے ہوئے الجھتے ہیں مرغِ چمن کے پاؤں
شب کو کسی کے خواب میں آیا نہ ہو کہیں
دکھتے ہیں آج اس بتِ نازک بدن کے پاؤں
غالب مرے کلام میں کیوں کر مزہ نہ ہو
پیتا ہوں دھو کے خسروِ شیریں سخن کے پاؤں
مرزا اسد اللہ خان غالب

اب یہ ستم تازہ ہے ہم پر قید کیا ہے چمن کے بیچ

دیوان پنجم غزل 1594
فصل گل میں اسیر ہوئے تھے من ہی کی رہی من کے بیچ
اب یہ ستم تازہ ہے ہم پر قید کیا ہے چمن کے بیچ
یہ الجھائو سلجھتا ہم کو دے ہے دکھائی مشکل سا
یعنی دل اٹکا ہے جاکر ان بالوں کے شکن کے بیچ
وہ کرتا ہے جب زباں درازی حیرت سے ہم چپکے ہیں
کچھ بولا نہیں جاتا یعنی اس کے حرف و سخن کے بیچ
دشت بلا میں جاکر مریے اپنے نصیب جو سیدھے ہوں
واں کی خاک عنبر کی جاگہ رکھ دیں لوگ کفن کے بیچ
کبک کی جان مسافر ہووے دیکھے خرام ناز اس کا
نام نہیں لیتا ہے کوئی اس کا میرے وطن کے بیچ
کیا شیریں ہے حرف و حکایت حسرت ہم کو آتی ہے
ہائے زبان اپنی بھی ہووے یک دم اس کے دہن کے بیچ
غم و اندوہ عشقی سے ہر لحظہ نکلتی رہتی ہے
جان غلط کر میر آئی ہے گویا تیرے بدن کے بیچ
میر تقی میر

کیوں رنگ پھرا سا ہے ترے سیب ذقن کا

دیوان پنجم غزل 1572
گلچیں نہیں جو کوئی بھی اس تازہ چمن کا
کیوں رنگ پھرا سا ہے ترے سیب ذقن کا
غربت ہے دل آویز بہت شہر کی اس کے
آیا نہ کبھو ہم کو خیال اپنے وطن کا
جب زمزمہ کرتی ہے صدا چبھتی ہے دل میں
بلبل سے کوئی سیکھ لے انداز سخن کا
کب مشت نمک سے ہوئی تسکین جراحت
لب چش ہے نمک سار مرے زخم کہن کا
جو چاک گریبان کہ دامن کی ہو زہ تک
قربان کیا میر اسے چاک کفن کا
میر تقی میر

آزردہ ہو نہ بلبل جاتے ہیں ہم چمن سے

دیوان سوم غزل 1306
نکلے ہے جی کا رستہ آواز کی رکن سے
آزردہ ہو نہ بلبل جاتے ہیں ہم چمن سے
جی غش کرے ہے اب تو رفتار دیکھ اس کی
دیکھیں نبھے ہے اپنی کس طور اس چلن سے
گر اس کی اور کوئی گرمی سے دیکھتا ہے
اک آگ لگ اٹھے ہے اپنے تو تن بدن سے
رنگیں خرامی کیا کیا لیتی ہے کھینچ دل کو
کیا نقش پا کو اس کے نسبت گل و سمن سے
دن رات گاہ و بے گہ جب دیکھو ہیں سفر میں
ہم کس گھڑی وداعی یارب ہوئے وطن سے
دل سوختہ ہوں مجھ کو تکلیف حرف مت کر
اک آگ کی لپٹ سی نکلے ہے ہر سخن سے
دل کا اسیر ہونا جی میر جانتا ہے
کیا پیچ پاچ دیکھے اس زلف پرشکن سے
میر تقی میر

میں جوں نسیم باد فروش چمن نہیں

دیوان سوم غزل 1213
مجھ کو دماغ وصف گل و یاسمن نہیں
میں جوں نسیم باد فروش چمن نہیں
کہنے لگا کہ لب سے ترے لعل خوب ہے
اس رنگ ڈھنگ سے تو ہمارا سخن نہیں
پہنچا نہ ہو گا منزل مقصود کے تئیں
خاک رہ اس کی جس کا عبیر کفن نہیں
ہم کو خرام ناز سے مت خاک میں ملا
دل سے ہے جن کو راہ یہ ان کا چلن نہیں
گل کام آوے ہے ترے منھ کے نثار کے
صحبت رکھے جو تجھ سے یہ اس کا دہن نہیں
کل جا کے ہم نے میر کے ہاں یہ سنا جواب
مدت ہوئی کہ یاں تو وہ غربت وطن نہیں
میر تقی میر

سو جی گئے تھے صدقے اس شوخ کے بدن پر

دیوان سوم غزل 1134
پڑتی ہے آنکھ ہر دم جا کر صفاے تن پر
سو جی گئے تھے صدقے اس شوخ کے بدن پر
نام خدا نکالے کیا پائوں رفتہ رفتہ
تلواریں چلتیاں ہیں اس کے تو اب چلن پر
تو بھی تو ایک دن چل گلشن میں ساتھ میرے
کرتی ہے کیا تبختر بلبل گل چمن پر
دل جو بجا نہیں ہے وحشی سا میں پھروں ہوں
تم جائیو نہ ہرگز میرے دوانے پن پر
درکار عاشقوں کو کیا ہے جو اب نامہ
یک نام یار بس ہے لکھنا مرے کفن پر
تب ہی بھلے تھے جب تک حرف آشنا نہ تھے تم
لینے لگے لڑائی اب تو سخن سخن پر
گرد رخ اس کے پیدا خط کا غبار یوں ہے
گرد اک تنک سی بیٹھے جس رنگ یاسمن پر
کس طرح میرجی کا ہم توبہ کرنا مانیں
کل تک بھی داغ مے تھے سب ان کے پیرہن پر
میر تقی میر

اس میں بھی جو سوچیے سخن ہے

دیوان دوم غزل 1039
کیا کہیے کلی سا وہ دہن ہے
اس میں بھی جو سوچیے سخن ہے
اس گل کو لگے ہے شاخ گل کب
یہ شاخچہ بندی چمن ہے
وابستگی مجھ سے شیشہ جاں کی
اس سنگ سے ہے کہ دل شکن ہے
کیا سہل گذرتی ہے جنوں سے
تحفہ ہم لوگوں کا چلن ہے
لطف اس کے بدن کا کچھ نہ پوچھو
کیا جانیے جان ہے کہ تن ہے
وے بند قبا کھلے تھے شاید
صد چاک گلوں کا پیرہن ہے
گہ دیر میں ہیں گہے حرم میں
اپنا تو یہی دوانہ پن ہے
ہم کشتۂ عشق ہیں ہمارا
میدان کی خاک ہی کفن ہے
کر میر کے حال پر ترحم
وہ شہر غریب و بے وطن ہے
میر تقی میر

کپڑے اتارے ان نے سر کھینچے ہم کفن میں

دیوان دوم غزل 868
مر مر گئے نظر کر اس کے برہنہ تن میں
کپڑے اتارے ان نے سر کھینچے ہم کفن میں
گل پھول سے کب اس بن لگتی ہیں اپنی آنکھیں
لائی بہار ہم کو زور آوری چمن میں
اب لعل نو خط اس کے کم بخشتے ہیں فرحت
قوت کہاں رہے ہے یاقوتی کہن میں
یوسف عزیز دلہا جا مصر میں ہوا تھا
پاکیزہ گوہروں کی عزت نہیں وطن میں
دیر و حرم سے تو تو ٹک گرم ناز نکلا
ہنگامہ ہورہا ہے اب شیخ و برہمن میں
آجاتے شہر میں تو جیسے کہ آندھی آئی
کیا وحشتیں کیا ہیں ہم نے دوان پن میں
ہیں گھائو دل پر اپنے تیغ زباں سے سب کی
تب درد ہے ہمارے اے میر ہر سخن میں
میر تقی میر

دفتر لکھے گئے نہ ہوا پر سخن تمام

دیوان دوم غزل 859
مشتاق ان لبوں کے ہیں سب مرد و زن تمام
دفتر لکھے گئے نہ ہوا پر سخن تمام
اب چھیڑیے جہاں وہیں گویا ہے درد سب
پھوڑا سا ہو گیا ہے ترے غم میں تن تمام
آیا تھا گرم صید وہ جیدھر سے دشت میں
دیکھا ادھر ہی گرتے ہیں اب تک ہرن تمام
آوارہ گردباد سے تھے ہم پہ شہر میں
کیا خاک میں ملا ہے یہ دیوانہ پن تمام
کیا لطف تن چھپا ہے مرے تنگ پوش کا
اگلا پڑے ہے جامے سے اس کا بدن تمام
اس کار دست بستہ پہ ریجھا نہ مدعی
کیونکر نہ کام اپنا کرے کوہکن تمام
اک گل زمیں نہ وقفے کے قابل نظر پڑی
دیکھا برنگ آب رواں یہ چمن تمام
نکلے ہیں گل کے رنگ گلستاں میں خاک سے
یہ وے ہیں اس کے عشق کے خونیں کفن تمام
تہ صاحبوں کی آئی نکل میکدے گئے
گروی تھے اہل صومعہ کے پیرہن تمام
میں خاک میں ملا نہ کروں کس طرح سفر
مجھ سے غبار رکھتے ہیں اہل وطن تمام
کچھ ہند ہی میں میر نہیں لوگ جیب چاک
ہے میرے ریختوں کا دوانہ دکن تمام
میر تقی میر

تم بھی تو دیکھو زلف شکن در شکن کے بیچ

دیوان دوم غزل 790
دل کھو گیا ہوں میں یہیں دیوانہ پن کے بیچ
تم بھی تو دیکھو زلف شکن در شکن کے بیچ
کیا جانے دل میں چائو تھے کیا کیا دم وصال
مہجور اس کا تھا ہمہ حسرت کفن کے بیچ
کنعاں سے جا کے مصر میں یوسفؑ ہوا عزیز
عزت کسو کی ہوتی نہیں ہے وطن کے بیچ
سن اے جنوں کہ مجھ میں نہیں کچھ سواے دم
تار ایک رہ گیا ہے یہی پیرہن کے بیچ
سرسبز ہند ہی میں نہیں کچھ یہ ریختہ
ہے دھوم میرے شعر کی سارے دکھن کے بیچ
ستھرائی اور نازکی گلبرگ کی درست
پر ویسی بو کہاں کہ جو ہے اس بدن کے بیچ
بلبل خموش و لالہ و گل دونوں سرخ و زرد
شمشاد محو بے کلی اک نسترن کے بیچ
کل ہم بھی سیر باغ میں تھے ساتھ یار کے
دیکھا تو اور رنگ ہے سارے چمن کے بیچ
یا ساتھ غیر کے ہے تمھیں ویسی بات چیت
سو سو طرح کے لطف ہیں اک اک سخن کے بیچ
یا پاس میرے لگتی ہے چپ ایسی آن کر
گویا زباں نہیں ہے تمھاری دہن کے بیچ
فرہاد و قیس و میر یہ آوارگان عشق
یوں ہی گئے ہیں سب کی رہی من کی من کے بیچ
میر تقی میر

دیکھ اس کو بھر بھر آوے ہے سب کے دہن میں آب

دیوان دوم غزل 771
شبنم سے کچھ نہیں ہے گل و یاسمن میں آب
دیکھ اس کو بھر بھر آوے ہے سب کے دہن میں آب
لو سدھ شتاب فاختۂ گریہ ناک کی
آیا نہیں ہے دیر سے جوے چمن میں آب
سوزش بہت ہو دل میں تو آنسو کو پی نہ جا
کرتا ہے کام آگ کا ایسی جلن میں آب
تھا گوش زد کہ گوروں میں لگ لگ اٹھے ہے آگ
یاں دل بھرے ہوئے کے سبب ہے کفن میں آب
جی ڈوب جائے دیکھیں جہاں بھر نظر ادھر
تم کہتے ہو نہیں مرے چاہ ذقن میں آب
لب تشنگان عشق کے ہیں کام کے وہ لعل
کیا آپ کو جو ہووے عقیق یمن میں آب
تب قیس جنگلوں کے تئیں آگ دے گیا
ہم بھر چلے ہیں رونے سے اب سارے بن میں آب
سن سوز دل کو میرے بہت روئی رات شمع
بیرون بزم لائے ہیں بھر بھر لگن میں آب
دیکھو تو کس روانی سے کہتے ہیں شعر میر
در سے ہزار چند ہے ان کے سخن میں آب
میر تقی میر

برسوں ملے پر ہم سے صرفہ ہی سخن کا تھا

دیوان دوم غزل 689
کب لطف زبانی کچھ اس غنچہ دہن کا تھا
برسوں ملے پر ہم سے صرفہ ہی سخن کا تھا
اسباب مہیا تھے سب مرنے ہی کے لیکن
اب تک نہ موئے ہم جو اندیشہ کفن کا تھا
بلبل کو موا پایا کل پھولوں کی دوکاں پر
اس مرغ کے بھی جی میں کیا شوق چمن کا تھا
بے ڈول قدم تیرا پڑتا تھا لڑکپن میں
رونا ہمیں اول ہی اس تیرے چلن کا تھا
مرغان قفس سارے تسبیح میں تھے گل کی
ہر چند کہ ہر اک کا ڈھلکا ہوا منکا تھا
سب سطح ہے پانی کا آئینے کا سا تختہ
دریا میں کہیں شاید عکس اس کے بدن کا تھا
خوگر نہیں ہم یوں ہی کچھ ریختہ کہنے سے
معشوق جو اپنا تھا باشندہ دکن کا تھا
بھوئوں تئیں تم جس دن سج نکلے تھے اک پیچہ
اس دن ہی تمھیں دیکھے ماتھا مرا ٹھنکا تھا
رہ میر غریبانہ جاتا تھا چلا روتا
ہر گام گلہ لب پر یاران وطن کا تھا
میر تقی میر

پیشانی پہ دے قشقہ زنار پہن بیٹھے

دیوان اول غزل 546
اب میر جی تو اچھے زندیق ہی بن بیٹھے
پیشانی پہ دے قشقہ زنار پہن بیٹھے
آزردہ دل الفت ہم چپکے ہی بہتر ہیں
سب رو اٹھے گی مجلس جو کرکے سخن بیٹھے
عریان پھریں کب تک اے کاش کہیں آکر
تہ گرد بیاباں کی بالاے بدن بیٹھے
پیکان خدنگ اس کا یوں سینے کے اودھر ہے
جوں مار سیہ کوئی کاڑھے ہوئے پھن بیٹھے
جز خط کے خیال اس کے کچھ کام نہیں ہم کو
سبزی پیے ہم اکثر رہتے ہیں مگن بیٹھے
شمشیر ستم اس کی اب گوکہ چلے ہر دم
شوریدہ سر اپنے سے ہم باندھ کفن بیٹھے
بس ہو تو ادھر اودھر یوں پھرنے نہ دیں تجھ کو
ناچار ترے ہم یہ دیکھیں ہیں چلن بیٹھے
میر تقی میر

سنا کریے کہ یہ بھی اک سخن ہے

دیوان اول غزل 473
کلی کہتے ہیں اس کا سا دہن ہے
سنا کریے کہ یہ بھی اک سخن ہے
ٹپکتے درد ہیں آنسو کی جاگہ
الٰہی چشم یا زخم کہن ہے
خبر لے پیر کنعاں کی کہ کچھ آج
نپٹ آوارہ بوے پیرہن ہے
نہیں دامن میں لالہ بے ستوں کے
کوئی دل داغ خون کوہکن ہے
شہادت گاہ ہے باغ زمانہ
کہ ہر گل اس میں اک خونیں کفن ہے
کروں کیا حسرت گل کو وگرنہ
دل پر داغ بھی اپنا چمن ہے
جو دے آرام ٹک آوارگی میر
تو شام غربت اک صبح وطن ہے
میر تقی میر

بندھی مٹھی چلا جا اس چمن میں

دیوان اول غزل 301
زباں رکھ غنچہ ساں اپنے دہن میں
بندھی مٹھی چلا جا اس چمن میں
نہ کھول اے یار میرا گور میں منھ
کہ حسرت ہے مری جاگہ کفن میں
رکھا کر ہاتھ دل پر آہ کرتے
نہیں رہتا چراغ ایسی پون میں
جلے دل کی مصیبت اپنے سن کر
لگی ہے آگ سارے تن بدن میں
نہ تجھ بن ہوش میں ہم آئے ساقی
مسافر ہی رہے اکثر وطن میں
خردمندی ہوئی زنجیر ورنہ
گذرتی خوب تھی دیوانہ پن میں
کہاں کے شمع و پروانے گئے مر
بہت آتش بجاں تھے اس چمن میں
کہاں عاجز سخن قادر سخن ہوں
ہمیں ہے شبہ یاروں کے سخن میں
گداز عشق میں بہ بھی گیا میر
یہی دھوکا سا ہے اب پیرہن میں
میر تقی میر

تو کون قمریوں کے چواتا دہن میں آب

دیوان اول غزل 177
ہوتا نہ پاے سرو جو جوے چمن میں آب
تو کون قمریوں کے چواتا دہن میں آب
اس پر لہو کے پیاسے ہیں تیرے لبوں کے رشک
اک نام کو رہی ہے عقیق یمن میں آب
شب سوز دل کہا تھا میں مجلس میں شمع سے
روئی ہے یاں تلک کہ بھرا ہے لگن میں آب
دل لے گیا تھا زیرزمیں میں بھرا ہوا
آتا ہے ہر مسام سے میرے کفن میں آب
رویا تھا تیری چشم و مژہ یاد کرکے میں
ہے نیزہ نیزہ تب سے نواح ختن میں آب
ناسور پھونک پھونک کے پیجو خبر ہے شرط
ہے آپ داغ کوچۂ زخم کہن میں آب
دریا میں قطرہ قطرہ ہے آب گہر کہیں
ہے میر موجزن ترے ہر یک سخن میں آب
میر تقی میر

بہار جاتی رہی دیکھنے چمن نہ دیا

دیوان اول غزل 158
مجھے تو نور نظر نے تنک بھی تن نہ دیا
بہار جاتی رہی دیکھنے چمن نہ دیا
لباس دیکھ لیے میں نے تیری پوشش کے
کہ بعد مرگ کنھیں نے مجھے کفن نہ دیا
کھلی نہ بات کئی حرف تھے گرہ دل میں
اجل نے اس سے مجھے کہنے اک سخن نہ دیا
میر تقی میر

لطفِ سخن، کچھ اس سے زیادہ

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 18
قندِ دہن، کچھ اس سے زیادہ
لطفِ سخن، کچھ اس سے زیادہ
فصلِ خزاں میں لطفِ بہاراں
برگِ سمن کچھ اس سے زیادہ
حالِ چمن پر تلخ نوائی
مرغِ چمن، کچھ اس سے زیادہ
دل شکنی بھی، دلداری بھی
یادِ وطن، کچھ اس سے زیادہ
شمعِ بدن فانوسِ قبا میں
خوبیِ تن، کچھ اس سے زیادہ
عشق میں کیا ہے غم کے علاوہ
خواجۂ من، کچھ اس سے زیادہ
نذرِ حافظ ۔۔۔ ناصحم گفت بجز غم چہ ہنر دارد عشق ۔۔۔ بر وائے خواجۂ عاقلِ ہنرِ بہتر ازیں
بیروت
فیض احمد فیض

سزا، خطائے نظر سے پہلے، عتاب جرمِ سخن سے پہلے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 4
ستم کی رسمیں بہت تھیں لیکن، نہ تھی تری انجمن سے پہلے
سزا، خطائے نظر سے پہلے، عتاب جرمِ سخن سے پہلے
جو چل سکو تو چلو کہ راہِ وفا بہت مختصر ہوئی ہے
مقام ہے اب کوئی نہ منزل، فرازِ دار و رسن سے پہلے
نہیں رہی اب جنوں کی زنجیر پر وہ پہلی اجارہ داری
گرفت کرتے ہیں کرنے والے خرد پہ دیوانہ پن سے پہلے
کرے کوئی تیغ کا نظارہ، اب اُن کو یہ بھی نہیں گوارا
بضد ہے قاتل کہ جانِ بسمل فگار ہو جسم و تن سے پہلے
غرورِ سرو و سمن سے کہہ دو کہ پھر وہی تاجدار ہوں گے
جو خار و خس والیء چمن تھے عروجِ سرو و سمن سے پہلے
ادھر تقاضے ہیں مصلحت کے، ادھر تقاضائے دردِ دل ہے
زباں سنبھالیں کہ دل سنبھالیں ، اسیر ذکر وطن سے پہلے
حیدرآباد جیل ١٧، ٢٢ مئی ٥٤ء
فیض احمد فیض

ہونٹوں کی لو لطیف حجابوں سے چھن پڑے

مجید امجد ۔ غزل نمبر 14
جب اک چراغِ راہگزر کی کرن پڑے
ہونٹوں کی لو لطیف حجابوں سے چھن پڑے
شاخِ ابد سے جھڑتے زمانوں کا روپ ہیں
یہ لوگ جن کے رخ پہ گمانِ چمن پڑے
تنہا گلی، ترے مرے قدموں کی چاپ، رات
ہرسو وہ خامشی کہ نہ تابِ سخن پڑے
یہ کس حسیں دیار کی ٹھنڈی ہوا چلی
ہر موجۂ خیال پہ صدہا شکن پڑے
جب دل کی سل پہ بج اٹھے نیندوں کا آبشار
نادیدہ پائلوں کی جھنک جھن جھنن پڑے
یہ چاندنی، یہ بھولی ہوئی چاہتوں کا دیس
گزروں تو رخ پہ رشحۂ عطرِ سمن پڑے
یہ کون ہے لبوں میں رسیلی رُتیں گھلیں
پلکوں کی اوٹ نیند میں گلگوں گگن پڑے
اک پل بھی کوئے دل میں نہ ٹھہرا وہ رہ نورد
اب جس کے نقشِ پا ہیں چمن در چمن پڑے
اِک جست اس طرف بھی غزالِ زمانہ رقص
رہ تیری دیکھتے ہیں خطا و ختن پڑے
جب انجمن تموّجِ صد گفتگو میں ہو
میری طرف بھی اک نگہِ کم سخن پڑے
صحرائے زندگی میں جدھر بھی قدم اٹھیں
رستے میں ایک آرزوؤں کا چمن پڑے
اس جلتی دھوپ میں یہ گھنے سایہ دار پیڑ
میں اپنی زندگی انہیں دے دوں جو بن پڑے
اے شاطرِ ازل ترے ہاتھوں کو چوم لوں
قرعے میں میرے نام جو دیوانہ پن پڑے
اے صبحِ دیرخیز انہیں آواز دے جو ہیں
اک شامِ زودخواب کے سکھ میں مگن پڑے
اک تم کہ مرگِ دل کے مسائل میں جی گئے
اک ہم کہ ہیں بہ کشمکشِ جان و تن پڑے
امجد طریقِ مے میں ہے یہ احتیاط شرط
اک داغ بھی کہیں نہ سرِ پیرہن پڑے
مجید امجد

فرد فرد

عرفان صدیقی ۔ فرد فرد
اب خدا چاہے تو کچھ اور ہوا چاہتا ہے
آج تک تو وہ ہوا ہے جو عدو نے چاہا
خدا نے ذہن میں لفظ و بیاں کو بھیج دیا
جو کچھ کمایا تھا میں نے سو ماں کو بھیج دیا

غزال آتے بھی ہیں زیر دام جانتا ہوں
مگر یہ رزق میں خود پر حرام جانتا ہوں

شہر نے اُمید کی چادر اوڑھی دُور اذان شام ہوئی
سوچ کی کہنہ سرائے میں روشن مشعل بام ہوئی

میرے انکار پرستش نے بچایا ہے مجھے
سر جھگا دوں تو ہر انسان خدا ہو جائے

کون پاگل اپنا سر دینے کی سرشاری میں ہے
فائدہ تو صرف اعلان وفاداری میں ہے

دست قاتل پہ گماں دست طلب کا ہوتا
نہ ہوا ورنہ یہ نظارہ غضب کا ہوتا

میرا میدان غزل نیزہ و سر کا ٹھہرا
رہنے والا جو شہیدوں کے نگر کا ٹھہرا

غزل میں ہم سے غم جاں بیاں کبھی نہ ہوا
تمام عمر جلے اور دھواں کبھی نہ ہوا

دست قاتل پہ گماں دست طلب کا ہو گا
کبھی ہو گا تو یہ نظارہ غضب کا ہو گا

ہوا کے ہاتھ میں رکھ دی کسی نے چنگاری
تمام شہر اسے حادثہ سمجھتا رہا

کوئے قاتل کو تماشا گاہ سمجھا ہے حریف
کشتنی میری رقابت میں یہاں بھی آگیا

زمین گھوم رہی ہے ہمارے رُخ کے خلاف
اشارہ یہ ہے کہ سمت سفر بدل دیں ہم

اس کا پندار رہائی نہیں دیتا اس کو
نقش دیوار دکھائی نہیں دیتا اس کو

میں اک دعا ہوں تو دروازہ آسمان کا بھی کھول
اور اک نوا ہوں تو حسن قبول دے مجھ کو

سوچتے سوچتے زندگی کٹ گئی اس نے چاہا مجھے
وہم بھی ایک شئے ہے مگر اس کے لیے کچھ قرینہ تو ہو

وہاں ہونے کو ہو گی برف باری
پرندے پھر ادھر آنے لگے ہیں

شاعری سے کوئی قاتل راہ پر آتا نہیں
اور ہم کو دوسرا کوئی ہنر آتا نہیں

مری غزل کا یہ مضموں بدلنے والا نہیں
وہ ملنے والا نہیں، دل سنبھلنے والا نہیں

میں بھی تنہائی سے ڈرتا ہوں کہ خاکم بدہن
آدمی کوئی خدا ہے، کہ اکیلا رہ جائے

حکم یہ ہے کہ مجھے دشت کی قیمت دی جائے
میرے زنداں کے در و بام کو وسعت دی جائے

موتیوں سے منہ بھرے دیکھو تو یہ مت پوچھنا
لوگ کیوں چپ ہو گئے تاب سخن ہوتے ہوئے

آگ میں رقص کیا، خاک اُڑا دی ہم نے
اب کے تو شہر میں اک دھوم مچا دی ہم نے
آگ میں رقص کیا خاک اُڑا دی ہم نے
موج میں آئے تو اک دھوم مچا دی ہم نے

دل اک تپش میں پگھلتا رہے تو اچھا ہے
چراغ طاق میں جلتا رہے تو اچھا ہے

ایک ہی چیز اس آشوب میں رہ سکتی ہے
سر بچاتے تو زیاں نام و نسب کا ہوتا

موج خوں بھرتی رہی دشت کی تصویر میں رنگ
کبھی دریا نہ مرے دیدۂ تر کا ٹھہرا

کبھی طلب ہی نہ کی دوستوں سے قیمت دل
سو کاروبار میں ہم کو زیاں کبھی نہ ہوا

ایک ہی چیز اس آشوب میں رہ سکتی ہے
سر بچائیں تو زیاں نام و نسب کا ہو گا

بجا حضور، یہ ساری زمین آپ کی ہے
میں آج تک اسے ملک خدا سمجھتا رہا

میں نے تو اپنے ہی بام جاں پہ ڈالی تھی کمند
اتفاقاً اس کی زد میں آسماں بھی آگیا

اب آفتاب تو محور بدل نہیں سکتا
تو کیوں نہ زاویۂ بام و در بدل دیں ہم

کیا کسی خواب میں ہوں میں تہہ خنجر کہ یہاں
چیختا ہوں تو سنائی نہیں دیتا مجھ کو
نہ گرم دوستیاں ہیں نہ نرم دشمنیاں
میں بے اصول ہوں کوئی اصول دے مجھ کو

ہم ہوا کے سوا کچھ نہیں اس پہ یہ حوصلہ دیکھئے
آدمی ٹوٹنے کے لیے کم سے کم آبگینہ تو ہو

مرا گھر پاس آتا جا رہا ہے
وہ مینارے نظر آنے لگے ہیں

شہسوارو، اپنے خوں میں ڈوب جانا شرط ہے
ورنہ اس میدان میں نیزے پہ سر آتا نہیں

لہو میں لو سی بھڑکنے لگی، میں جانتا ہوں
کہ یہ چراغ بہت دیر جلنے والا نہیں

دل افسردہ کے ہر سمت ہے رشتوں کا ہجوم
جیسے انسان سمندر میں بھی پیاسا رہ جائے

کب تلک کوئی کرے حلقۂ زنجیر میں رقص
کھیل اگر دیکھ لیا ہو تو اجازت دی جائے

اب بدن سے موج خوں گزری تو اندازہ ہوا
کیا گزر جاتی ہے صحرا پہ چمن ہوتے ہوئے

درد کیا جرم تھا کوئی کہ چھپایا جاتا
ضبط کی رسم ہی دنیا سے اُٹھا دی ہم نے
درد کیا جرم تھا کوئی کہ چھپایا جاتا
ضبط کی رسم بہرحال اُٹھا دی ہم نے

وہ عشق ہو کہ ہوس ہو مگر تعلق کا
کوئی بہانہ نکلتا رہے تو اچھا ہے
عرفان صدیقی

مرا رقیب بھی، میرا سجن بھی زندہ رہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 350
میں زندہ ہوں تو مری انجمن بھی زندہ رہے
مرا رقیب بھی، میرا سجن بھی زندہ رہے
حقیقتیں تو بہت ہیں بیان کرنے کو
خدا کرے مری تاب سخن بھی زندہ رہے
تجھے بھی تیغ کشیدہ کبھی زوال نہ ہو
دل کشادہ، ترا بانکپن بھی زندہ رہے
شکار جو سہی دشت سبکتیگن، مگر
رمیدہ خو ہے تو شاید ہرن بھی زندہ رہے
عرفان صدیقی

باطن کی چمک سانولے پن میں بھی وہی ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 347
احوال ترا شامِ بدن میں بھی وہی ہے
باطن کی چمک سانولے پن میں بھی وہی ہے
وحشت کے لیے شہر مناسب نہیں ورنہ
آہو تو مری جان ختن میں بھی وہی ہے
آباد نہیں اس سے فقط وصل کی بستی
وہ پھول ہے اور ہجر کے بن میں بھی وہی ہے
اک موج سے شاداب ہیں یہ دونوں کنارے
جو ہے مرے من میں ترے تن میں بھی وہی ہے
یہ راز کھلا روزنِ زنداں کی بدولت
سورج میں ہے جو بات کرن میں بھی وہی ہے
مٹّی ہی میں ملنا ہے تو اس شہر سے کیوں جائیں
مٹّی تو میاں ارضِ وطن میں بھی وہی ہے
تنہا ہوں سو اے میرے حریفو مری پہچان
رن میں بھی وہی بزمِ سخن میں بھی وہی ہے
عرفان صدیقی

اور سچ پوچھو تو سرمایۂ فن وہ بھی ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 346
ہائے وہ جسم کہ اِک جی کی جلن وہ بھی ہے
اور سچ پوچھو تو سرمایۂ فن وہ بھی ہے
اُس کو بانہوں میں گرفتار کرو تو جانیں
تم شکاری ہو تو رَم خوردہ ہرن وہ بھی ہے
ایک دِن تو بھی مری فکر کے تاتار میں آ
تیرا گھر اَے مرے آہوئے ختن، وہ بھی ہے
اُس کی آنکھوں میں بھی رقصاں ہے وہی گرمئ شوق
غالباً محرمِ اَسرارِ بدن وہ بھی ہے
لاؤ کچھ دیر کو پہلوئے بتاں میں رُک جائیں
ہم مسافر ہیں، ہمارا تو وطن وہ بھی ہے
اور کچھ راز نہیں راتوں کی بیداری کا
ہم بھی ہیں شیفتۂ شعر و سخن، وہ بھی ہے
عرفان صدیقی

کتنا اچھا اپنا من‘ اپنا بدن لگنے لگا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 44
اس نے کیا دیکھا کہ ہر صحرا چمن لگنے لگا
کتنا اچھا اپنا من‘ اپنا بدن لگنے لگا
جنگلوں سے کون سا جھونکا لگا لایا اسے
دل کہ جگنو تھا چراغِ انجمن لگنے لگا
اس کے لکھے لفظ پھولوں کی طرح کھلتے رہے
روز ان آنکھوں میں بازارِ سمن لگنے لگا
اوّل اوّل اس سے کچھ حرف و نوا کرتے تھے ہم
رفتہ رفتہ رائیگاں کارِ سخن لگنے لگا
جب قریب آیا تو ہم خود سے جدا ہونے لگے
وہ حجابِ درمیانِ جان و تن لگنے لگا
ہم کہاں کے یوسفِ ثانی تھے لیکن اس کا ہاتھ
ایک شب ہم کو بلائے پیرہن لگنے لگا
تیرے وحشی نے گرفتاری سے بچنے کے لیے
رم کیا اتنا کہ آہوئے ختن لگنے لگا
ہم بڑے اہلِ خرد بنتے تھے یہ کیا ہو گیا
عقل کا ہر مشورہ دیوانہ پن لگنے لگا
کر گیا روشن ہمیں پھر سے کوئی بدرِ منیر
ہم تو سمجھے تھے کہ سورج کو گہن لگنے لگا
عرفان صدیقی

ہم عجب پھول ترے صحنِ چمن سے نکلے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 559
اوس سے اخذ ہوئے، پہلی کرن سے نکلے
ہم عجب پھول ترے صحنِ چمن سے نکلے
ہم نے اس کے گل و گلزار سے کیا لینا ہے
اپنے اجداد تھے جس باغِ عدن سے نکلے
رات بھر قوسِ قزح پھیلی رہی کمرے میں
رنگ کیا کیا تری خوشبوئے بدن سے نکلے
دیکھ اے دیدئہ عبرت مرے چہرے کی طرف
ایسے وہ ہوتا ہے جو اپنے وطن سے نکلے
سائباں دھوپ کے ہی صرف نہیں وحشت میں
درد کے پیڑ بھی کچھ سایہ فگن سے نکلے
بستیاں ہیں مری، ماضی کے کھنڈر پر آباد
ذہن کیسے بھلا آسیبِ کہن سے نکلے
فوج اب ختم کرے اپنا سیاسی کردار
یہ مرا ملک خداداد گھٹن سے نکلے
یوں جہنم کو بیاں کرتے ہیں کرنے والے
جیسے پھنکار لپکتے ہوئے پھن سے نکلے
تیرے اشعار تغزل سے ہیں خالی منصور
ہم سخن فہم تری بزم سخن سے نکلے
منصور آفاق

کچھ سوچتے نہیں ہیں کفن بیچتے ہوئے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 510
یہ بے ضمیر قوم و وطن بیچتے ہوئے
کچھ سوچتے نہیں ہیں کفن بیچتے ہوئے
کچھ دیکھتے کہاں ہیں یہ سوداگرانِ خاک
دریا، پرند، برگ و سمن بیچتے ہوئے
گنتے ہیں غیر ملکی کرنسی کے صرف نوٹ
حکام بیٹیوں کے بدن بیچتے ہوئے
خوش ہیں امیر شہر محلات میں بہت
ابلیس کو دیارِ عدن بیچتے ہوئے
اس عہدِ زر پرست کی آواز بن گئے
اپنے قلم کو اہلِ سخن بیچتے ہوئے
ہیں اہتمامِ رقصِ طوائف میں منہمک
منصور باغبان چمن بیچتے ہوئے
منصور آفاق

کہے یہ بات غریب الوطن ، وطن والو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 227
مسافرت ہی ہے رنج و محن ، وطن والو
کہے یہ بات غریب الوطن ، وطن والو
سویر ے پھرتے ہیں باغِ جناح میں کیا کیا
بڑی حسین ہے صبحِ چمن وطن والو
جہاں کی ساری بہاروں سے خوبصورت ہیں
ہمارے اپنے یہ برگ و سمن وطن والو
زمانے بھرسے ملائم ہیں نرم و نازک ہیں
زبانیں اپنی یہ اپنے سخن وطن والو
یہ شاعری ہے تمہاری ، تمہاری خاطر ہے
یہ گفتگو یہ جگرکی جلن وطن والو
تم اس سے تازہ زمانہ خرید سکتے ہو
اٹھالو میرے قلم کایہ دھن وطن والو
تمہیں مٹانے کی کوشش میں کیا جہاں والے
تم آپ خودسے ہوشمشیرزن وطن والو
وطن میں ایک نئے دور کیلئے منصور
ضروری ہو گیا دیوانہ پن وطن والو
منصور آفاق

چھوٹے جو بوئے گل کی طرح سے چمن کو چھوڑ

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 22
منہ پھر نہ کر وطن کی طرف یوں وطن کو چھوڑ
چھوٹے جو بوئے گل کی طرح سے چمن کو چھوڑ
اے روح، کیا بدن میں پڑی ہے بدن کو چھوڑ
میلا بہت ہوا ہے، اب اس پیرہن کو چھوڑ
ہے روح کو ہوس کہ نہ چھوڑے بدن کا ساتھ
غربت پکارتی ہے کہ غافل، وطن کو چھوڑ
کہتی ہے بوئے گل سے صبا آ کے صبح دم
اب کچھ اِدھر اُدھر کی ہوا کھا، چمن کو چھوڑ
تلوار چل رہی ہے کہ یہ تیری چال ہے
اے بُت خدا کے واسطے اِس بانکپن کو چھوڑ
شاعر کو فِکر شعر میں راحت کہاں امیر
آرام چاہتا ہے تو مشقِ سخن کو چھوڑ
امیر مینائی