ٹیگ کے محفوظات: سجی

مکر کی اُس میں صنّاعی دکھلائی دے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 82
بات بظاہر جو بھی کھری دکھلائی دے
مکر کی اُس میں صنّاعی دکھلائی دے
ماند کرے پل بھر میں گردِ ریا اُس کو
باغ میں کھِلتی جو بھی کلی دکھلائی دے
عُمر کی گاڑی جس کو پیچھے چھوڑ آئی
اُس جیسی اَب کون پری دکھلائی دے
دن کو بھی اَب یُوں ہے جیسے آنکھوں میں
سُرمے جیسی رات سجی دکھلائی دے
کینچلیوں سی برگ و شجر سے اُتری جو
آنے والی رُت بھی وُہی دکھلائی دے
آنکھ کا عالم پُوچھ نہ اُس کے بچھڑنے پر
کاسۂ گُل میں اوس بھری دکھلائی دے
تُو اُس مارِسیہ سے دُور ہی رہ
نیّت جس کی تجھ کو بُری دکھلائی دے
ماجد صدیقی

اک کھال بھی ہرن کی وہیں پر سجی ملی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 125
تحریر آشتی کی جہاں تھی لکھی ملی
اک کھال بھی ہرن کی وہیں پر سجی ملی
تیتر جہاں تھا پر تھے قفس میں وہاں پڑے
بلی زبان منہ پہ اُدھر پھیرتی ملی
ہاں بے قرار، صید گنوا کر تھا شیر بھی
نتھنوں میں بھیڑ کے بھی لگی دھونکنی ملی
تَیرا فضا میں بن کی جہاں بھی کہیں عقاب
مچتی نشیمنوں میں عجب کھلبلی ملی
سمجھے وہ چیل، دشت موافق سبھی کو ہے
چڑیوں پہ ٹوٹ کر ہے جسے تازگی ملی
یادوں کو بچپنے کی جو الٹا تو جا بجا
بہروپئے کے تن میں سمائی چھری ملی
ماجدؔ! ہوا کو جس نے دکھائی تھی سرکشی
کچھ روز میں وہ شاخ زمیں پر پڑی ملی
ماجد صدیقی

گماں گماں سی مہک خود کو ڈھونڈتی ہی رہی

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 157
نہ ہم رہے نہ وہ خوابوں کی زندگی ہی رہی
گماں گماں سی مہک خود کو ڈھونڈتی ہی رہی
عجب طرح رخ آیندگی کا رنگ اڑا
دیار ذات میں ازخود گزشتگی ہی رہی
حریم شوق کا عالم بتائیں کیا تم کو
حریم شوق میں بس کمی ہی رہی
پس نگاہ تغافل تھی اک نگاہ کہ تھی
جو دل کے چہرہ ء حسرت کی تازگی ہی رہی
عجیب آئینہ پر تو تمنا تھا
تھی اس میں ایک اداسی جو سجی ہی رہی
بدل گیا سبھی کچھ اس دیار بودش میں
گلی تھی جو تری جاں وہ تری گلی ہی رہی
تمام دل کے محلے اجڑ چکے تھے—– مگر
بہت دنوں تو ہنسی ہی رہی خوشی ہی رہی
وہ داستاں تمہیں اب بھی یاد ہے کہ نہیں
جو خون تھوکنے والوں کی بے حسی ہی رہی
سناؤں میں کسے افسانہ ء خیال ملال
تری کمی ہی رہی اور مری کمی ہی رہی
جون ایلیا