ٹیگ کے محفوظات: سجھاؤں

دل میں کچھ ہو تو اب سُجھاؤں تُجھے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 19
راکھ ہی راکھ کیا دکھاؤں تُجھے
دل میں کچھ ہو تو اب سُجھاؤں تُجھے
ہو میّسر کبھی جو قرب ترا
ہر رگِ جاں سے گنگناؤں تُجھے
شوخیٔ لب سے طیش میں لاؤں
اِن نگاہوں سے گدگداؤں تُجھے
تو کہ عنواں ہے چاہتوں کا مری
آ، بہ شاخِ نظر سجاؤں تُجھے
لطف اِن رفعتوں کا لے تو کبھی
آ، دل و چشم میں بساؤں تُجھے
تُو ہے خوشبو تو میں ہوں موجِ صبا
آ، ترا مرتبہ دلاؤں تُجھے
آ، کہ لکھا ہے جو لُہو میں مرے
قصّۂ دردِ جاں سناؤں تُجھے
ماجد صدیقی

یہ کیفیت بھی مگر کیسے اَب سُجھاؤں اُسے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 13
وُہ یاد آئے تو کس طرح مَیں بھلاؤں اُسے
یہ کیفیت بھی مگر کیسے اَب سُجھاؤں اُسے
دل و نظر سے جو اُس پر کھُلا نہ راز اپنا
تو حرف و صوت سے احساس کیا دلاؤں اُسے
کھُلی ہے سامنے اُس کے مری نظر کی کتاب
حکایتِ غم دل پڑھ کے کیا سُناؤں اُسے
وہ ساز بھی ہے تو ہے میرے لمس کا محتاج
یہ جان لے تو نئی زندگی دلاؤں اُسے
غزل یہ اُس کی سماعت کو کہہ تو دی ماجدؔ
کوئی سبیل بھی نکلے تو اَب سناؤں اُسے
ماجد صدیقی