ٹیگ کے محفوظات: سجن

مرا رقیب بھی، میرا سجن بھی زندہ رہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 350
میں زندہ ہوں تو مری انجمن بھی زندہ رہے
مرا رقیب بھی، میرا سجن بھی زندہ رہے
حقیقتیں تو بہت ہیں بیان کرنے کو
خدا کرے مری تاب سخن بھی زندہ رہے
تجھے بھی تیغ کشیدہ کبھی زوال نہ ہو
دل کشادہ، ترا بانکپن بھی زندہ رہے
شکار جو سہی دشت سبکتیگن، مگر
رمیدہ خو ہے تو شاید ہرن بھی زندہ رہے
عرفان صدیقی