ٹیگ کے محفوظات: سجایا

آپ نے اپنا وعدہ نبھایا نہیں ہم نہیں بولتے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 33
اب کے بھی چاند چہرہ دکھایا نہیں ہم نہیں بولتے
آپ نے اپنا وعدہ نبھایا نہیں ہم نہیں بولتے
وہ کہ پہلے پہل سرخ ہونٹوں پہ تھا مژدۂ عید سا
کوئی مژدہ پھر ایسا سنایا نہیں ہم نہیں بولتے
چاہتوں کا جو سندیس لیکر گیا آپ تک آپ نے
بام سے وہ کبوتر اڑایانہیں ہم نہیں بولتے
مثل شعلوں کے لَو دے اٹھے جو بہ سطحِ نظرآپ نے
پیرہن وہ بدن پر سجایا نہیں ہم نہیں بولتے
وہ کہ مہکار جس کی بہ شدّت ہمیں بھی بلاتی کبھی
پھول انگناں میں ایسا کھلایا نہیں ہم نہیں بولتے
ماجد صدیقی

دل کا یہ زہر کسی طور تو اگلا جائے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 16
نہ سہی چاند پہ منہ اپنے پہ تُھوکا جائے
دل کا یہ زہر کسی طور تو اگلا جائے
تُو نہیں ہے تو تری سمت سے آنے والی
کیوں نہ اِن شوخ ہواؤں ہی سے لپٹا جائے
بے نیازی یہ کہیں عجز نہ ٹھہرے اپنا
اُس جُھکی شاخ سے پھل کوئی تو چکھا جائے
بے گُل و برگ سی وہ شاخِ تمّنا ہی سہی
دل کے اِس صحن میں ہاں کچھ تو سجایا جائے
چونک اُٹّھے وہ شہنشاہِ تغزّل ماجدؔ
یہ سخن تیرا جو غالبؔ کو سُنایا جائے
ماجد صدیقی