ٹیگ کے محفوظات: سجانے

پیڑ کوئی لگا پھر ٹھکانے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 130
پھر دکھائی ہے شوخی ہوا نے
پیڑ کوئی لگا پھر ٹھکانے
کس توقّع پہ نوکِ مژہ پر
آنکھ موتی لگی ہے سجانے
میری جنّت ہے سب سامنے کی
سینت رکھوں نہ میں پل پرانے
جی سنبھلتا ہو جس سے کسی کا
بات ایسی یہ خلقت نہ جانے
یُوں تو بچھڑا ہے کل ہی وہ لیکن
دل یہ کہتا ہے گزرے زمانے
دَین سمجھو اِنہیں بھی اُسی کی
غم بھی ماجدؔ دئیے ہیں خدا نے
ماجد صدیقی

اور خیمے دمِ رُخصت یہ، اُڑاتے جانا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 47
دل میں آنا تو بہاروں سا سماتے جانا
اور خیمے دمِ رُخصت یہ، اُڑاتے جانا
ہر خطِ جسم کو اِس طرح اُجاگر کرنا
ہر رہِ زیست مقابل کی مٹاتے جانا
اک تو پہلے ہی سراپا ہے قیامت جیسا
اِس پہ ترشے ہوئے ملبوس سجانے جانا
کھینچ کر تارِ نظر خود متوجہ کرنا
کوئی دیکھے تو تغافل بھی جتاتے جانا
دعوتِ لمس بھی تتلی سی ہر اِک پل دینا
اور بڑھیں ہاتھ تو چکر سا دِلاتے جانا
کِس کا قصّہ لیے بیٹھے ہو یہ ماجدؔ صاحب
کس کی خاطر ہے یہ ہر بات بڑھاتے جانا
ماجد صدیقی

وہ مرے دِل پہ نیا زخم لگانے آئے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 89
قریہ ءِ جاں میں کوئی پُھول کِھلانے آئے
وہ مرے دِل پہ نیا زخم لگانے آئے
میرے ویران دریچوں میں بھی خوشبو جاگے
وہ مرے گھر کے دَر و بام سجانے آئے
اُس سے اِک بار تو رُوٹھوں میں اُسی کی مانند
اور مری طرح سے وہ مُجھ کو منانے آئے
اِسی کوچے میں کئی اُس کے شناسا بھی تو ہیں
وہ کسی اور سے ملنے کے بہانے آئے
اب نہ پُوچھوں گی میں کھوئے ہوئے خوابوں کا پتہ
وہ اگر آئے تو کُچھ بھی نہ بتانے آئے
ضبط کی شہر پناہوں کی،مرے مالک!خیر
غم کاسیلاب اگر مجھ کو بہانے آئے
پروین شاکر

دشتِ اُمّید میں گرداں ہیں دوانے کب سے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 19
حسرتِ دید میں گزراں ہیں زمانے کب سے
دشتِ اُمّید میں گرداں ہیں دوانے کب سے
دیر سے آنکھ پہ اُترا نہیں اشکوں کا عذاب
اپنے ذمّے ہے ترا فرض نہ جانے کب سے
کس طرح پاک ہو بے آرزو لمحوں کا حساب
درد آیا نہیں دربار سجانے کب سے
سر کرو ساز کہ چھیڑیں کوئی دل سوز غزل
"ڈھونڈتا ہے دلِ شوریدہ بہانے کب سے”
فیض احمد فیض

قریب ان کے آنے کے دن آرہے ہیں

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 42
نصیب آزمانے کے دن آرہے ہیں
قریب ان کے آنے کے دن آرہے ہیں
جو دل سے کہا ہے، جو دل سے سنا ہے
سب ان کو سنانے کے دن آرہے ہیں
ابھی سے دل و جاں سر راہ رکھ دو
کہ لٹنے لٹانے کے دن آرہے ہیں
ٹپکنے لگی ان نگاہوں سے مستی
نگاہیں چرانے کے دن آرہے ہیں
صبا پھر ہمیں پوچھتی پھر رہی ہے
چمن کو سجانے کے دن آرہے ہیں
چلو فیض پھر سے کہیں دل لگائیں
سنا ہے ٹھکانے کے دن آرہے ہیں
فیض احمد فیض