ٹیگ کے محفوظات: سجادہ

فرد فرد

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 647
گھر سے سفید داڑھی حاجی پہن کے نکلا
پھر سود خور کیسی نیکی پہن کے نکلا

امکان کے صحرا میں کہیں خیمہ نشیں ہیں
ہم سلسلۂ قیس کے سجادہ نشیں ہیں

خوشبو پہن کے نکلا میں دل کے موسموں میں
اور جنگ کی رُتوں میں وردی پہن کے نکلا

ہر روز ڈبو دیتے ہیں طوفان بسیرا
ہم دل کے جزیرے میں کہیں گوشہ نشیں ہیں

منصور آفاق