ٹیگ کے محفوظات: سجاتا

نجانے یہ دل جشن کیا کیا مناتا تم آئے تو ہوتے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 17
زرونقدِراحت تمہی پر لٹاتا تم آئے تو ہوتے
نجانے یہ دل جشن کیا کیا مناتا تم آئے تو ہوتے
گلے میں حمائل سجل ضَو کے ہالے، سرِبام چندا
جہاں بھر کو میں اپنی پونجی دکھاتا تم آئے تو ہوتے
کلی کی چٹک سی ،زمیں پر نئی بوندیوں کی کھنک سی
نرالی دھنیں میں لبوں پر سجاتا تم آئے تو ہوتے
مجھے کس طرح تم جلاتے بجھاتے رہے فرقتوں میں
تمہیں جَور اک اک تمہارا سُجھاتا تم آئے تو ہوتے
ان اشکوں کے آنکھوں سے فرطِمسرت میں جو پھوٹتے ہیں
نئے دیپ پلکوں پہ اپنی جلاتا تم آئے تو ہوتے
ماجد صدیقی

دیکھیے اب کے وہ کیا چیز بناتا ہے مجھے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 296
کوزہ گر پھر اسی مٹی میں ملاتا ہے مجھے
دیکھیے اب کے وہ کیا چیز بناتا ہے مجھے
میں تو اس دشت میں خود آیا تھا کرنے کو شکار
کون یہ زین سے باندھے لیے جاتا ہے مجھے
خاک پر جب بھی کوئی تیر گرا دیتا ہے
دستِ دلدار کوئی بڑھ کے اٹھاتا ہے مجھے
ساعتے چند کروں مشقِ گراں جانی بھی
جاں سپاری کا ہنر تو بہت آتا ہے مجھے
دولتِ سر ہوں‘ سو ہر جیتنے والا لشکر
طشت میں رکھتا ہے‘ نیزے پہ سجاتا ہے مجھے
عرفان صدیقی