ٹیگ کے محفوظات: ستایا

ابر بہاری وادی سے اٹھ کر آبادی پر آیا ہے

دیوان پنجم غزل 1746
عہد جنوں ہے موسم گل کا اور شگوفہ لایا ہے
ابر بہاری وادی سے اٹھ کر آبادی پر آیا ہے
سن کر میرے شور شب کو جھنجھلا کر وہ کہنے لگا
نالے اس کے فلک تک پہنچے کن نے اس کو ستایا ہے
دکھن اتر پورب پچھم ہنگامہ ہے سب جاگہ
اودھم میرے حرف و سخن نے چاروں اور مچایا ہے
بے چشم و رو ہو بیٹھے ہو وجہ نہیں ہے ظاہر کچھ
کام کی صورت بگڑی ہماری منھ کیوں تم نے بنایا ہے
ظلم و ستم سب سہل ہیں اس کے ہم سے اٹھتے ہیں کہ نہیں
لوگ جو پرسش حال کریں ہیں جی تو انھوں نے کھایا ہے
ہو کے فقیر تو واں بیٹھے ہیں رہتے ہیں اشراف جہاں
ہم نے توکل بحت کیا ہے نام خدا سرمایہ ہے
برسوں ہم درویش رہے ہیں پردے میں دنیاداری کے
ناموس اس کی کیونکے رہے یہ پردہ جن نے اٹھایا ہے
ڈھونڈ نکالا تھا جو اسے سو آپ کو بھی ہم کھو بیٹھے
جیسا نہال لگایا ہم نے ویسا ہی پھل پایا ہے
میر غریب سے کیا ہو معارض گوشے میں اس وادی کے
ایک دیا سا بجھتا ان نے داغ جگر پہ جلایا ہے
میر تقی میر

مہر کی رکھ کر توقع جی کھپایا ہے عبث

دیوان پنجم غزل 1588
دل کو اس بے مہر سے ہم نے لگایا ہے عبث
مہر کی رکھ کر توقع جی کھپایا ہے عبث
دیکھ کر اس کو کھڑے سوجی سے ہم عاشق ہوئے
بیٹھے بیٹھے ناگہاں یہ رنج اٹھایا ہے عبث
اپنی تو بگڑی ہی کوئی کام کی صورت نہیں
ان نے بے لطفی سے منھ اچھا بنایا ہے عبث
جی کے جاتے وہ جو نو خط آتا تو بابت بھی تھی
لطف کر مردے پہ عاشق کے اب آیا ہے عبث
تب تو خانہ باغ سے اپنے نہ پوچھی بات بھی
کیا جو تربت پر مری اب پھول لایا ہے عبث
رات دن سنتا ہے نالے یوں نہیں کہتا کبھو
میر دل آزردہ کو کن نے ستایا ہے عبث
میر تقی میر

مرثیے نے دل کے میرے بھی رلایا ہے بہت

دیوان سوم غزل 1111
شعر کے پردے میں میں نے غم سنایا ہے بہت
مرثیے نے دل کے میرے بھی رلایا ہے بہت
بے سبب آتا نہیں اب دم بہ دم عاشق کو غش
درد کھینچا ہے نہایت رنج اٹھایا ہے بہت
وادی و کہسار میں روتا ہوں ڈاڑھیں مار مار
دلبران شہر نے مجھ کو ستایا ہے بہت
وا نہیں ہوتا کسو سے دل گرفتہ عشق کا
ظاہراً غمگیں اسے رہنا خوش آیا ہے بہت
میر گم گشتہ کا ملنا اتفاقی امر ہے
جب کبھو پایا ہے خواہش مند پایا ہے بہت
میر تقی میر