ٹیگ کے محفوظات: ستاروں

مُرجھا رہے ہیں پھول بہاروں کے سائے میں

سرو و سمن کی شوخ قطاروں کے سائے میں
مُرجھا رہے ہیں پھول بہاروں کے سائے میں
چھوٹی سی اک خلوص کی دنیا بسائیں گے
آبادیوں سے دور چناروں کے سائے میں
تاریکیوں میں اور سیاہی نہ گھولیے
زلفیں بکھیریے نہ ستاروں کے سائے میں
جانے بھنور سے کھیلنے والے کہاں گئے
کشتی تو آ گئی ہے کناروں کے سائے میں
مانوس ہو گئی ہے خزاں سے مری بہار
اب لُطف کیا ملے گا بہاروں کے سائے میں
بلبل کی زندگی تو بہر حال کٹ گئی
پھولوں کی گود میں ، کبھی خاروں کے سائے میں
انگڑائی لی جنوں نے، خرد سو گئی، شکیبؔ
نغمات کی لطیف پھواروں کے سائے میں
شکیب جلالی

جنوں نواز بہاروں کی کوئی بات کرو

خردفریبِ نظاروں کی کوئی بات کرو
جنوں نواز بہاروں کی کوئی بات کرو
کسی کی وعدہ خلافی کا ذکر خوب نہیں
مرے رفیق ستاروں کی کوئی بات کرو
زمانہ ساز زمانے کی بات رہنے دو
خلوصِ دوست کے ماروں کی کوئی بات کرو
گھٹا کی اوٹ سے چھپ کر جو دیکھتے تھے ہمیں
انھی شریر ستاروں کی کوئی بات کرو
زمانہ ذکرِ حوادث سے کانپ اٹھتا ہے
سُکوں بدوش کناروں کی کوئی بات کرو
نہیں ہے حدِّ نظر تک، وجود ساحل کا
فضا مُہیب ہے، دھاروں کی کوئی بات کرو
سلامِ شوق لیے تھے کسی نے، جن سے، شکیبؔ
انھی لطیف اشاروں کی کوئی بات کرو
شکیب جلالی

اپنے چاند ستاروں میں آ بیٹھا ہوں

کچھ آوارہ یاروں میں آ بیٹھا ہوں
اپنے چاند ستاروں میں آ بیٹھا ہوں
آتے جاتے دیکھ رہے ہیں لوگ مجھے
بےزاری! بازاروں میں آ بیٹھا ہوں
سیکھ رہا ہوں سارے گُر مکّاری کے
کچھ دن سے زر داروں میں آ بیٹھا ہوں
دِل کی کالک دھُل جائے گی لمحوں میں
مولاؑ کے حُب داروں میں آ بیٹھا ہوں
موت مری تصویر اُٹھائے پِھرتی ہے
جب سے میں بیماروں میں آ بیٹھا ہوں
میں جنگل میں رہنے والا سبز نظر
عُریانی کے غاروں میں آ بیٹھا ہوں
افتخار فلک

کہ جیسے عکس پڑے جھیل میں ستاروں کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 16
وہ رنگ اپنے سخن میں ہے استعاروں کا
کہ جیسے عکس پڑے جھیل میں ستاروں کا
گلی سے جسم کنول سا نظر پڑا تھا جہاں
گزشتہ رات وہاں جمگھٹا تھا کاروں کا
رمِ حیات کہ بیساکھیوں میں اُترا ہے
کسی کو زعم دکھائے گا کیا سہاروں کا
ورق ورق پہ لکھا حال یُوں سفر کا لگے
گماں ہو خاک پہ جیسے لہو کی دھاروں کا
کھُلے نہ ہم پہ کہ ماجدؔ ہمارے حق میں ہی
رہے ہمیشہ گراں کیوں مزاج یاروں کا
ماجد صدیقی

نسبت تھی کہ پتھر کوئی بوسوں سے بھرا تھا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 84
توحید پرستوں کے جو ہونٹوں سے بھرا تھا
نسبت تھی کہ پتھر کوئی بوسوں سے بھرا تھا
ہلکی سی بھی آواز کہیں دل کی نہیں تھی
مسجد کا سپیکر تھا صداؤں سے بھرا تھا
بارود کی بارش ابھی بادل میں بھری تھی
وہ باغ ابھی بھاگتے بچوں سے بھرا تھا
جس رات لہو چلتا تھا پلکوں کے کنارے
اُس رات فلک سرخ ستاروں سے بھرا تھا
آوارہ محبت میں وہ لڑکی بھی بہت تھی
منصور مرا شہر بھی کتوں سے بھرا تھا
منصور آفاق

امید اپنے سہاروں کو ساتھ لائے گی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 170
تری نظر کے اشاروں کو ساتھ لائے گی
امید اپنے سہاروں کو ساتھ لائے گی
وہی نظر مرے رستے میں بن گئی دیوار
گماں تھا جس پہ نظاروں کو ساتھ لائے گی
تری نظر ہی کا اب انتظار لازم ہے
تری نظر ہی بہاروں کو ساتھ لائے گی
بہت نحیف سہی موج زندگی پھر بھی
مچل گئی تو کناروں کو ساتھ لائے گی
تو آنے والے زمانے کا غم نہ کر باقیؔ
کہ رات اپنے ستاروں کو ساتھ لائے گی
باقی صدیقی

میں کارواں تھا، غباروں کا ساتھ دے نہ سکا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 50
ترے جہاں کے نظاروں کا ساتھ دے نہ سکا
میں کارواں تھا، غباروں کا ساتھ دے نہ سکا
کچھ اس قدر تھا نمایاں خزاں میں رنگ حیات
میں تشنہ کام بہاروں کا ساتھ دے نہ سکا
کہاں تمہاری تمنا، کہاں سحر کی نمود
مریض ہجر ستاروں کا ساتھ دے نہ سکا
نظر نہ تھی تو نظاروں کی آرزو تھی، مگر
نظر ملی تو نظاروں کا ساتھ دے نہ سکا
گلوں کا رنگ تبسم بھی تھا گراں باقیؔ
یہی نہیں کہ میں خاروں کا ساتھ دے نہ سکا
باقی صدیقی