ٹیگ کے محفوظات: سبو

کچھ ہوائے مشکبو کچھ ہم سبُو نے کر دیا

کچھ تو رُسوا اپنی طرزِ گفتگو نے کر دیا
کچھ ہوائے مشکبو کچھ ہم سبُو نے کر دیا
کیسے کیسے ناقصوں کی بات سننی پڑ گئی
کیا سُبک سَر ہم کو زخمِ چارہ جو نے کر دیا
شہر بھر میں ایک ہی تو رہ گیا تھا ہوش مند
سنتے ہیں اُس کو بھی دیوانہ کسو نے کر دیا
دو قدم چلنا تھا مشکل اُس اندھیرے میں مگر
راہ کو روشن چراغِ آرزو نے کر دیا
اُس نے تو باصرِؔ یونہی پوچھی تھی تیری خیریت
حالِ دل کہہ کر ہمیں شرمندہ تُو نے کر دیا
باصر کاظمی

کام تھوڑا تھا گفتگو تھی بہت

دل میں ہر چند آرزو تھی بہت
کام تھوڑا تھا گفتگو تھی بہت
سنگِ منزل یہ چھیڑتا ہے مجھے
آ تجھے میری جستجو تھی بہت
اے ہوس دیکھ داغ داغ جگر
تو بھی مشتاقِ رنگ و بُو تھی بہت
بڑھ گئی اُن سے مل کے تنہائی
روح جویائے ہم سبو تھی بہت
اک تِری ہی نگاہ میں نہ جچے
شہر میں ورنہ آبرو تھی بہت
باصر کاظمی

وہ کیا ہیں ان کے فرشتے بھی گفتگو کرتے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 115
بیاں جو حشر میں ہم وجہ آرزو کرتے
وہ کیا ہیں ان کے فرشتے بھی گفتگو کرتے
تری گلی میں بیاں کس سے آرزو کرتے
کسی کو جانتے ہوتے تو گفتگو کرتے
لحد میں جا کے بھی ہم مے کی جستجو کرتے
فرشتے پوچھتے کچھ، ہم سبو سبو کرتے
حفاظتِ گل و غنچہ نہ چار سو کرتے
اگر یہ خار نہ احساسِ رنگ و بو کرتے
قفس میں کیسے بیاں حالِ رنگ و بو کرتے
پروں کی خیر مناتے کہ گفتگو کرتے
یہاں نمازِ جنازہ ہے ختم ہونے کو
حضور ہیں کہ ابھی تک نہیں وضو کرتے
بہار دیکھ کے کیا کیا ہنسے ہیں دیوانے
کہ پھول چاک گریباں نہیں، رفو کرتے
جنوں میں جب ہوش آیا تو ہوش ہی نہ رہا
کہ اپنے چاکِ گریباں کو ہم رفو کرتے
نہ ملتی خاک میں دامن سے گر کے یوں شبنم
چمن کے پھول اگر پاسِ آبرو کرتے
یہ کہہ رہ گیا ہو گا کوئی ستم ورنہ
حضور اور میری جینے کی آرزو کرتے
یں سخت جاں کہ قاتل کا ہاتھ نازک ہے
یہ کل کو فیصلہ خود خنجر و گلو کرتے
قمر یقین جو کرتے ہم ان کے وعدے پر
تمام رات ستاروں سے گفتگو کرتے
قمر جلالوی

کہ اے شمعِ فرقت نہ ہم ہونگے نہ تو ہو گی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 98
اگر وہ صبح کو آئے تو کس سے گفتگو ہو گی
کہ اے شمعِ فرقت نہ ہم ہونگے نہ تو ہو گی
حقیقت جب تجھے معلوم اے دیوانہ خو ہو گی
جب ان کی جستجو کے بعد اپنی جستجو ہو گی
ملیں گے ہو بہو تجھ سے حسیں آئینہ خانے میں
کسی سے کچھ نہ کہنا ورنہ تم سے دو بدو ہو گی
مآلِ گل کو جب تک آنکھ سے دیکھا نہیں ہو گا
کلی کو پھول بن جانے کی کیا کیا آرزو ہو گی
دلِ مضطرب تو اس محفل میں نالے ضبط کر لے گا
مگر اے چشمِ گریاں تو بہت بے آبرو ہو گی
حریمِ ناز تک تو آگیا ہوں کس سے کیا پوچھوں
یہاں جلوہ دکھایا جائے گا یا گفتگو ہو گی
جنھیں اے راہبر لٹوا رہے ہیں راہِ منزل میں
خدا معلوم ان کے دل میں کیا کیا آرزو ہو گی
ہمارا کیا ہے ارمانِ وفا میں جان دے دیں گے
مگر تم کیا کرو گے جب تمھیں یہ آرزو ہو گی
یہ بلبل جس کی آوازیں خزاں میں اتنی دلکش ہیں
بہاروں میں خدا معلوم کتنی خوش گلو ہو گی
قمر سنتے ہیں تو شیخ صاحب آج توڑیں گے
سجے گا میکدہ آرائشِ جام و سبو ہو گی
قمر جلالوی

ہر طرف ہو رہی ہے یہی گفتگو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 192
ہے بکھرنے کو یہ محفل رنگ و بو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
ہر طرف ہو رہی ہے یہی گفتگو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
ہر متاع نفس نذر آہنگ کی، ہم کو یاراں ہوس تھی بہت رنگ کی
گل زمیں سے ابلنے کو ہے اب لہو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
اول شب کا مہتاب بھی جا چکا صحن میخانہ سے اب افق میں کہیں
آخر شب ہے، خالی ہیں جام و سبو، تم کہاں جاؤ گے، ہم کہاں جائیں گے
کوئی حاصل نہ تھا آرزو کا مگر، سانحہ یہ ہے کہ اب آرزو بھی نہیں
وقت کی اس مسافت میں بے آرزو، تم کہاں جاؤ گے، ہم کہاں جائیں گے
کس قدر دور سے لوٹ کر آئے ہیں، یوں کہو عمر برباد کر آئے ہیں
تھا سراب اپنا سرمایہ جستجو، تم کہاں جاؤ گے، ہم کہاں جائیں گے
اک جنوں تھا کہ آباد ہو شہر جاں، اور آباد جب شہر جاں ہو گیا
ہیں یہ سرگوشیاں در بہ در کو بہ کو، تم کہاں جاؤ گے، ہم کہاں جائیں گے
دشت میں رقص شوق بہار اب کہاں، باد پیمائی دیوانہ وار اب کہاں
بس گزرنے کو ہے موسم ہائے دہو، تم کہاں جاؤ گے، ہم کہاں جائیں گے
ہم ہیں رسوا کن دلی و لکھنؤ ، اپنی کیا زندگی اپنی کیا آبرو
میر دلی سے نکلے گئے لکھنؤ، تم کہاں جاؤ گے، ہم کہاں جائیں گے
جون ایلیا

کون لمحوں کے رُوبرو ٹھہرے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 177
میں نہ ٹھیروں نہ جان تُو ٹھہرے
کون لمحوں کے رُوبرو ٹھہرے
نہ گزرنے پہ زندگی گزری
نہ ٹھہرنے پہ چار سُو ٹھہرے
ہے مری بزمِ بے دلی بھی عجیب
دلِ پُر خوں جہاں سبو ٹھہرے
میں یہاں مدتوں میں آیا ہوں
ایک ہنگامہ کُو بہ کُو ٹھہرے
محفلِ رخصتِ ہمیشہ ہے
آؤ اک حشر ہا و ہو ٹھہرے
اک توجہ عجب ہے سمتوں میں
کہ نہ بولوں تو گفتگو ٹھہرے
کج ادا تھی بہت اُمید مگر
ہم بھی جون ایک حیلہ جو ٹھہرے
ایک چاکِ برہنگی ہے وجود
پیرہن ہو تو بے رفو ٹھہرے
میں جو ہوں۔۔کیا نہیں ہوں میں خود بھی
خود سے بات آج دُوبدو ٹھہرے
باغِ جاں سے مِلا نہ کوئی ثمر
جون ہم تو نمو نمو ٹھہرے
جون ایلیا

تمہیں کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 273
ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
تمہیں کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے
نہ شعلے میں یہ کرشمہ نہ برق میں یہ ادا
کوئی بتاؤ کہ وہ شوخِ تند خو کیا ہے
یہ رشک ہے کہ وہ ہوتا ہے ہم سخن تم سے
وگرنہ خوفِ بد آموزیِ عدو کیا ہے
چپک رہا ہے بدن پر لہو سے پیراہن
ہمارے جَیب کو اب حاجتِ رفو کیا ہے
جلا ہے جسم جہاں، دل بھی جل گیا ہو گا
کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے
رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل
جب آنکھ سے ہی@ نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے
وہ چیز جس کے لیے ہم کو ہو بہشت عزیز
سوائے بادۂ گلفامِ مشک بو@ کیا ہے
پیوں شراب اگر خم بھی دیکھ لوں دو چار
یہ شیشہ و قدح و کوزہ و سبو کیا ہے
رہی نہ طاقتِ گفتار اور اگر ہو بھی
تو کس امید پہ کہیے کہ آرزو کیا ہے
ہوا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا
وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے
@ اصل نسخے میں ’جب آنکھ سے ہی‘ ہے لیکن بعض جدید نسخوں میں ’جب آنکھ ہی سے‘ رکھا گیا ہے جس سے مطلب زیادہ واضح ہو جاتا ہے لیکن نظامی میں یوں ہی ہے۔@ "بادہ و گلفامِ مشک بو”۔ نسخۂ مہر
مرزا اسد اللہ خان غالب

لے جاتے دل کو خاک میں اس آرزو کے ساتھ

دیوان پنجم غزل 1720
ہم جانتے تو عشق نہ کرتے کسو کے ساتھ
لے جاتے دل کو خاک میں اس آرزو کے ساتھ
مستی میں شیخ شہر سے صحبت عجب رہی
سر پھوڑتے رہا کیے اکثر سبو کے ساتھ
تھا عکس اس کی قامت دلکش کا باغ میں
آنکھیں چلی گئیں ہیں لگی آب جو کے ساتھ
نازاں ہو اس کے سامنے کیا گل کھلا ہوا
رکھتا ہے لطف ناز بھی روے نکو کے ساتھ
ہم زرد کاہ خشک سے نکلے ہیں خاک سے
بالیدگی نہ خلق ہوئی اس نمو کے ساتھ
گردن بلند کرتے ہی ضربت اٹھا گئے
خنجر رکھے ہے اس کا علاقہ گلو کے ساتھ
ہنگامے جیسے رہتے ہیں اس کوچے میں سدا
ظاہر ہے حشر ہو گی نہ ایسے غلو کے ساتھ
مجروح اپنی چھاتی کو بخیہ کیا بہت
سینہ گتھا ہے میر ہمارا رفو کے ساتھ
میر تقی میر

جان عزیز ابھی ہے مری آبرو کے ساتھ

دیوان چہارم غزل 1483
حیرت طلب کو کام نہیں ہے کسو کے ساتھ
جان عزیز ابھی ہے مری آبرو کے ساتھ
یک رنگ آشنا ہیں خرابات ہی کے لوگ
سرمیکشوں کے پھوٹتے دیکھے سبو کے ساتھ
قمری کا لوہو پانی ہوا ایک عشق میں
آتا ہے اس کا خون جگر آب جو کے ساتھ
خالی نہیں ہے خواہش دل سے کوئی بشر
جاتے ہیں سب جہان سے یک آرزو کے ساتھ
دم میں ہے دم جہاں تئیں گرم تلاش ہوں
سو پیچ و تاب رہتے ہیں ہر ایک مو کے ساتھ
کیا اضطراب عشق سے میں حرف زن ہوں میر
منھ تک جگر تو آنے لگا گفتگو کے ساتھ
میر تقی میر

جاے شراب پانی بھریں گے سبو کے بیچ

دیوان چہارم غزل 1373
گل منعکس ہوئے ہیں بہت آب جو کے بیچ
جاے شراب پانی بھریں گے سبو کے بیچ
ستھرائو کردیا ہے تمناے وصل نے
کیا کیا عزیز مر گئے اس آرزو کے بیچ
بحث آپڑے جو لب سے تمھارے تو چپ رہو
کچھ بولنا نہیں تمھیں اس گفتگو کے بیچ
ہم ہیں قلندر آکر اگر دل سے دم بھریں
عالم کا آئینہ ہے سیہ ایک ہو کے بیچ
گل کی تو بو سے غش نہیں آتا کسو کے تیں
ہے فرق میر پھول کی اور اس کی بو کے بیچ
میر تقی میر

کچھ آگئی تھی سرو چمن میں کسو کی طرح

دیوان سوم غزل 1125
یاد آگیا تو بہنے لگیں آنکھیں جو کی طرح
کچھ آگئی تھی سرو چمن میں کسو کی طرح
چسپاں قبا وہ شوخ سدا غصے ہی رہا
چین جبیں سے اس کی اٹھائی اتو کی طرح
گالی لڑائی آگے تو تم جانتے نہ تھے
اب یہ نکالی تم نے نئی گفتگو کی طرح
ہم جانتے تھے تازہ بناے جہاں کو لیک
یہ منزل خراب ہوئی ہے کبھو کی طرح
سرسبز ہم ہوئے نہ تھے جو زرد ہو چلے
اس کشت میں پڑی یہ ہمارے نمو کی طرح
وے دن کہاں کہ مست سرانداز خم میں تھے
سر اب تو جھوجھرا ہے شکستہ سبو کی طرح
تسکین دل کی کب ہوئی سیرچمن کیے
گو پھول دل میں آگئے کچھ اس کے رو کی طرح
آخر کو اس کی راہ میں ہم آپ گم ہوئے
مدت میں پائی یار کی یہ جستجو کی طرح
کیا لوگ یوں ہی آتش سوزاں میں جا پڑے
کچھ ہو گی جلتی آگ میں اس تندخو کی طرح
ڈرتا ہوں چاک دل کو مرے پلکوں سے سیے
نازک نظر پڑی ہے بہت اس رفو کی طرح
دھوتے ہیں اشک خونی سے دست و دہن کو میر
طورنماز کیا ہے جو یہ ہے وضو کی طرح
میر تقی میر

چاک دل پلکوں سے مت سی کہ رفو نازک ہے

دیوان دوم غزل 1037
رشتہ کیا ٹھہرے گا یہ جیسے کہ مو نازک ہے
چاک دل پلکوں سے مت سی کہ رفو نازک ہے
شاخ گل کاہے کو اس لطف سے لچکے ہے کہیں
لاگ والا کوئی دیکھے تجھے تو نازک ہے
چشم انصاف سے برقع کو اٹھا دیکھو اسے
گل کے منھ سے تو کئی پردہ وہ رو نازک ہے
لطف کیا دیوے تمھیں نقش حصیر درویش
بوریا پوشوں سے پوچھو یہ اتو نازک ہے
بیڑے کھاتا ہے تو آتا ہے نظر پان کا رنگ
کس قدر ہائے رے وہ جلد گلو نازک ہے
گل سمجھ کر نہ کہیں بے کلی کرنے لگیو
بلبل اس لالۂ خوش رنگ کی خو نازک ہے
رکھے تاچند خیال اس سرپرشور کا میر
دل تو کانپا ہی کرے ہے کہ سبو نازک ہے
میر تقی میر

کہ سنگ محتسب سے پاے خم دست سبو ٹوٹا

دیوان اول غزل 120
سر دور فلک بھی دیکھوں اپنے روبرو ٹوٹا
کہ سنگ محتسب سے پاے خم دست سبو ٹوٹا
کہاں آتے میسر تجھ سے مجھ کو خودنما اتنے
ہوا یوں اتفاق آئینہ میرے روبرو ٹوٹا
کف چالاک میں تیری جو تھا سر رشتہ جانوں کا
گریباں سے مرے ہر اک ترا ٹانکا رفو ٹوٹا
طراوت تھی چمن میں سرو گویا اشک قمری سے
ادھر آنکھیں مندیں اس کی کہ ایدھر آب جو ٹوٹا
خطر کر تو نہ لگ چل اے صبا اس زلف سے اتنا
بلا آوے گی تیرے سر جو اس کا ایک مو ٹوٹا
وہ بے کس کیا کرے کہہ تو رہی دل ہی کی دل ہی میں
نپٹ بے جا ترا دل میر سے اے آرزو ٹوٹا
میر تقی میر

جھانکنا تاکنا کبھو نہ گیا

دیوان اول غزل 43
دل سے شوق رخ نکو نہ گیا
جھانکنا تاکنا کبھو نہ گیا
ہر قدم پر تھی اس کی منزل لیک
سر سے سوداے جستجو نہ گیا
سب گئے ہوش و صبر و تاب و تواں
لیکن اے داغ دل سے تو نہ گیا
دل میں کتنے مسودے تھے ولے
ایک پیش اس کے روبرو نہ گیا
سبحہ گرداں ہی میر ہم تو رہے
دست کوتاہ تا سبو نہ گیا
میر تقی میر

نہ کرم ہے ہم پہ حبیب کا، نہ نگا ہ ہم پہ عدو کی ہے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 15
نہ کسی پہ زخم عیاں کوئی، نہ کسی کو فکر رفو کی ہے
نہ کرم ہے ہم پہ حبیب کا، نہ نگا ہ ہم پہ عدو کی ہے
صفِ زاہداں ہے تو بے یقیں، صفِ میکشاں ہے تو بے طلب
نہ وہ صبح درود و وضو کی ہے، نہ وہ شام جام و سبو کی ہے
نہ یہ غم نیا، نہ ستم نیا، کہ تری جفا کا گلہ کریں
یہ نظرتھی پہلے بھی مضطرب، یہ کسک تودل میں کبھو کی ہے
کفِ باغباں پہ بہارِ گل کا ہے قرض پہلے سے بیشتر
کہ ہر ایک پھول کے پیرہن، میں نمود میرے لہو کی ہے
نہیں ‌خوفِ روزِ سیہ ہمیں، کہ ہے فیض ظرفِ نگاہ میں
ابھی گوشہ گیر وہ اک کرن، جو لگن اُس آئینہ رُو کی ہے
فیض احمد فیض