ٹیگ کے محفوظات: سایہ

پھر اُس کے بعد پرندے نے گھر بنایا تھا

شبیہِ حُجرۂ وحشت بنا کے لایا تھا
پھر اُس کے بعد پرندے نے گھر بنایا تھا
لہو کا رنگ یقینا” سفید ہے بھائی!
کہ اُس ذلیل نے ماں پر بھی ہاتھ اُٹھایا تھا
ہوا سے باندھ کے بن میں گھسیٹ لایا ہوں
مرے چِراغ نے تیرا مذاق اُڑایا تھا
میں سینہ تان کے نکلا تھا جانبِ مقتل
کئی ہزار دعاؤں کا مجھ پہ سایہ تھا
یہاں پہ رقص کا مطلب ہے زندگی پیارے!
کہ اس جگہ مرے مُرشد نے سر جھُکایا تھا
مرے پڑوس میں رہتی ہے وہ پری پیکر
سُنا ہے جس نے محبت میں زہر کھایا تھا
حیا فروش محلّے کی عورتوں نے مجھے
تمھارے نام سے چھیڑا تھا ، ورغلایا تھا
مجھے تو آج بھی لگتا ہے میں پرندہ ہوں
کہ مجھ پہ بانجھ درختوں نے حق جتایا تھا
افتخار فلک

وسعتِ فکر کچھ ایسی ہے کہ تنہا ٹھہرے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 3
یوں تو ہم اِس کے سبب دُنیا میں یکتا ٹھہرے
وسعتِ فکر کچھ ایسی ہے کہ تنہا ٹھہرے
تو کہ تھا موسمِ گُل ہم سے کھنچا ہے کب کا
شاخ اُمید پہ اب کیا کوئی پتّا ٹھہرے
سایۂ ابر تھے یا موجِ ہوا تھے، کیا تھے
ہائے وہ لوگ کہ تھے ہم سے شناسا ٹھہرے
کچھ تو ہو گرد ہی بر دوشِ ہوا ہو چاہے
سر پہ مجھ دشت کے راہی کے بھی سایہ ٹھہرے
پھُول باوصفِ زباں حال نہ پوچھیں میرا
خامشی اِن کی بھی تیرا نہ اشارہ ٹھہرے
نہ ہر اک سمت بڑھا دستِ تمنا ماجدؔ
یہ بھی آخر کو گدائی کا نہ کاسا ٹھہرے
ماجد صدیقی

اے جانِ جہاں یہ کوئی تم سا ہے کہ تم ہو

احمد فراز ۔ غزل نمبر 52
جس سمت بھی دیکھوں نظر آتا ہے کہ تم ہو
اے جانِ جہاں یہ کوئی تم سا ہے کہ تم ہو
یہ خواب ہے خوشبو ہے کہ جھونکا ہے کہ پل ہے
یہ دھند ہے بادل ہے کہ سایہ ہے کہ تم ہو
اس دید کی ساعت میں کئی رنگ ہیں لرزاں
میں ہوں کہ کوئی اور ہے دنیا ہے کہ تم ہو
دیکھو یہ کسی اور کی آنکھیں ہیں کہ میری
دیکھوں یہ کسی اور کا چہرہ ہے کہ تم ہو
یہ عمر گریزاں کہیں ٹھہرے تو یہ جانوں
ہر سانس میں مجھ کو یہی لگتا ہے کہ تم ہو
ہر بزم میں‌ موضوعِ سخن دل زدگاں کا
اب کون ہے شیریں ہے کہ لیلیٰ ہے کہ تم ہو
اک درد کا پھیلا ہوا صحرا ہے کہ میں ہوں
اک موج میں آیا ہوا دریا ہے کہ تم ہو
وہ وقت نہ آئے کہ دلِ زار بھی سوچے
اس شہر میں تنہا کوئی ہم سا ہے کہ تم ہو
آباد ہم آشفتہ سروں سے نہیں مقتل
یہ رسم ابھی شہر میں زندہ ہے کہ تم ہو
اے جانِ فراز اتنی بھی توفیق کسے تھی
ہم کو غمِ ہستی بھی گوارا ہے کہ تم ہو
احمد فراز

تھی طلب کس کو مگر ابر کہاں جا برسا

احمد فراز ۔ غزل نمبر 10
تپتے صحراؤں پہ گرجا، سرِ دریا برسا
تھی طلب کس کو مگر ابر کہاں جا برسا
کتنے طوفانوں کی حامل تھی لہو کی اک بوند
دل میں اک لہر اٹھی، آنکھ سے دریا برسا
کوئی غرقاب، کوئی ماہیِ بے آب ہوا
ابرِ بے فیض جو برسا بھی تو کیسا برسا
چڑھتے دریاؤں میں طوفان اٹھانے والے
چند بوندیں ہی سرِ دامنِ صحرا برسا
طنز ہیں سوختہ جانوں پہ گرجتے بادل
یا تو گھنگھور گھٹائیں نہ اٹھا، یا برسا
ابر و باراں کے خدا، جھومتا بادل نہ سہی
آگ ہی اب سرِ گلزارِ تمنا برسا
اپنی قسمت کہ گھٹاؤں میں بھی جلتے ہیں فراز
اور جہاں وہ ہیں وہاں ابر کا سایہ برسا
احمد فراز

کاش میں پیڑوں کا سایہ ہوتا

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 7
جلتے صحراؤں میں پھیلا ہوتا
کاش میں پیڑوں کا سایہ ہوتا
تو جو اس راہ سے گزرا ہوتا
تیرا ملبوس بھی کالا ہوتا
میں گھٹا ہوں، نہ پَون ہوں، نہ چراغ
ہم نشیں میرا کوئی کیا ہوتا
زخم عریاں تو نہ دیکھے کوئی
میں نے کچھ بھیس ہی بدلا ہوتا
کیوں سفینے میں چھپاتا دریا
گر تجھے پار اترنا ہوتا
بن میں بھی ساتھ گئے ہیں سائے
میں کسی جا تو اکیلا ہوتا
مجھ سے شفّاف ہے سینہ کس کا
چاند اس جھیل میں اترا ہوتا
اور بھی ٹوٹ کے آتی تری یاد
میں جو کچھ دن تجھے بھولا ہوتا
راکھ کر دیتے جلا کر شعلے
یہ دھواں دل میں نہ پھیلا ہوتا
کچھ تو آتا مری باتوں کا جواب
یہ کنواں اور جو گہرا ہوتا
نہ بکھرتا جو فضا میں نغمہ
سینۂِ نَے میں تڑپتا ہوتا
اور کچھ دور تو چلتے مرے ساتھ
اور اک موڑ تو کاٹا ہوتا
تھی مقدّر میں خزاں ہی تو شکیبؔ
میں کسی دشت میں مہکا ہوتا
شکیب جلالی

سب آنکھیں دم توڑ چکی تھیں اور میں تنہا زندہ تھا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 29
اب وہ گھر اک ویرانہ تھا بس ویرانہ زندہ تھا
سب آنکھیں دم توڑ چکی تھیں اور میں تنہا زندہ تھا
ساری گلی سنسان پڑی تھی بادِ فنا کے پہرے میں
ہجر کے دلان اور آنگن میں بس ایک سایہ زندہ تھا
وہ جو کبوتر اس موکھے میں رہتے تھے کس دیس اڑے
ایک کا نام نوازندہ تھا اور اک کا بازندہ تھا
وہ دوپہر اپنی رخصت کی ایسا ویسا دھوکا تھی
اپنے اندر اپنی لاش اٹھائے میں جھوٹا زندہ تھا
تھیں وہ گھر راتیں بھی کہانی، وعدے اور پھر دن گننا
آنا تھا جانے والے کو، جانے والا زندہ تھا
دستک دینے والے بھی تھے دستک سننے والے بھی
تھا آباد محلہ سارا ہر دروازہ زندہ تھا
پیلے پتوں کی سہ پہر کی وحشت پرسہ دیتی تھی
آنگن میں اک اوندھے گھڑے پر بس ایک کوا زندہ تھا
جون ایلیا

سایہ

کسی خواب آلودہ سائے کا پیکر

کہاں تک ترے گوش شِنوا، تری چشمِ بینا، ترے قلبِ دانا

کا ملجا و ماویٰ بنے گا؟

تجھے آج سائے کے ہونٹوں سے حکمت کی باتیں گوارا،

تجھے آج سائے کے آغوش میں شعر و نغمہ کی راتیں گوارا،

گوارا ہیں اُس زندگی سے کہ جس میں کئی کارواں راہ پیما رہے ہیں!

مگر کل ترے لب پہ پہلی سی آہوں کی لپٹیں اٹھیں گی،

ترا دل اُنہی کاروانوں کو ڈھونڈے گا،

اُن کو پکارے گا،

جو جسم کی چشمہ گاہوں پر رکتے ہیں آ کر

جنھیں سیریِ جاں کی پوشیدہ راہوں کی ساری خبر ہے!

یہ تسلیم، سائے نے تجھ کو

وہ پہنائیاں دیں

افق سے بلند اور بالا

جو تیری نگاہوں کے مرئی حجابوں میں پنہاں رہی تھیں،

وہ اسرار تجھ پر ہویدا کیے، جن کا ارماں

فلاطوں سے اقبال تک سب کے سینوں کی دولت رہا ہے؛

وہ اشعار تجھ کو سنائے، جو حاصل ہیں ورجل سے لے کر

سبک مایہ راشد کے سوز و دروں کا

کہ تُو بھول جائے وہ صرصر، وہ گرداب جن میں

تری زندگی واژگوں تھی،

تری زندگی خاک و خوں تھی!

تُو اسرار و اشعار سنتی رہی ہے،

مگر دل ہی دل میں تُو ہنستی رہی ہے

تو سیّال پیکر سے، سائے سے، غم کے کنائے سے کیا پا سکے گی؟

جب اس کے ورا، اس سے زندہ توانا بدن

رنگ و لذت کے مخزن، ہزاروں

تمنا کے مامن ہزاروں!

کبھی خواب آلودہ سائے کی مہجور و غم دیدہ آنکھیں

ترے خشک مژگاں کو رنجور و نم دیدہ کرتی رہی ہیں

تو پھر بھی تُو ہنستی رہی ہے!

ن م راشد

جی کو مہماں سنتے تھے مہمان سا آیا گیا

دیوان چہارم غزل 1323
دل کو گل کہتے تھے درد و غم سے مرجھایا گیا
جی کو مہماں سنتے تھے مہمان سا آیا گیا
عشق سے ہو حال جی میں کچھ تو کہیے دیکھیو
ایک دن باتیں ہی کرتے کرتے سنّایا گیا
جستجو میں یہ تعب کھینچے کہ آخر ہو گئے
ہم تو کھوئے بھی گئے لیکن نہ تو پایا گیا
اک نگہ کرنے میں غارت کردیا اے وائے ہم
دل جو ساری عمر کا اپنا تھا سرمایہ گیا
کیا تعجب ہے جو کوئی دل زدہ ناگہ مرے
اضطراب عشق میں جی تن سے گھبرایا گیا
ماہ کہتے تو کہا اس روے خوش کا ہے حریف
شہر میں پھر ہم سے اپنا منھ نہ دکھلایا گیا
جیسے پرچھائیں دکھائی دے کے ہوجاتی ہے محو
میر بھی اس کام جاں کا ووہیں تھا سایہ گیا
میر تقی میر

جی الجھتا ہے بہت مت بال سلجھایا کرو

دیوان سوم غزل 1233
سر پہ عاشق کے نہ یہ روز سیہ لایا کرو
جی الجھتا ہے بہت مت بال سلجھایا کرو
تاب مہ کی تاب کب ہے نازکی سے یار کو
چاندنی میں آفتابی کا مگر سایہ کرو
گرچہ شان کفر ارفع ہے ولے اے راہباں
ایک دو ہم سوں کو بھی زنار بندھوایا کرو
شوق سے دیدار کے بھی آنکھوں میں کھنچ آیا جی
اس سمیں میں دیکھنے ہم کو بہت آیا کرو
کوہکن کی ہے قدم گاہ آخر اے اہل وفاق
طوف کرنے بے ستوں کا بھی کبھی جایا کرو
فرق یار و غیر میں بھی اے بتاں کچھ چاہیے
اتنی ہٹ دھرمی بھی کیا انصاف فرمایا کرو
کب میسر اس کے منھ کا دیکھنا آتا ہے میر
پھول گل سے اپنے دل کو تم بھی بہلایا کرو
میر تقی میر

ایک دن تہ کر بساط ناز جایا چاہیے

دیوان دوم غزل 1014
دل شتاب اس بزم عشرت سے اٹھایا چاہیے
ایک دن تہ کر بساط ناز جایا چاہیے
یہ قیامت اور جی پر کل گئی پائیز میں
دل خس و خاشاک گلشن سے لگایا چاہیے
خانہ ساز دیں جو ہے واعظ سو یہ خانہ خراب
اینٹ کی خاطر جسے مسجد کو ڈھایا چاہیے
کام کیا بال ہما سے چترشہ سے کیا غرض
سر پر اک دیوار ہی کا اس کی سایہ چاہیے
اتقا پر خانقہ والے بہت مغرور ہیں
مست ناز ایدھر اسے یک بار لایا چاہیے
کیاریوں ہی میں پڑے رہیے گا سائے کی روش
اپنے ہوتے اب کے موسم گل کا آیا چاہیے
یہ ستم تازہ کہ اپنی ناکسی پر کر نظر
جن سے بگڑا چاہیے ان سے بنایا چاہیے
جی نہیں رہتا ہے ٹک ناچار ہم کو اس کی اور
گرتے پڑتے ضعف میں بھی روز جایا چاہیے
گاہ برقع پوش ہو گہ مو پراگندہ کرو
تم کو ہم سے منھ بہر صورت چھپایا چاہیے
وہ بھی تو ٹک دست و تیغ اپنے کی جانے قدر میر
زخم سارے ایک دن اس کو دکھایا چاہیے
میر تقی میر

بہت ان نے ڈھونڈا نہ پایا ہمیں

دیوان دوم غزل 902
محبت نے کھویا کھپایا ہمیں
بہت ان نے ڈھونڈا نہ پایا ہمیں
پھرا کرتے ہیں دھوپ میں جلتے ہم
ہوا ہے کہے تو کہ سایہ ہمیں
گہے تر رہیں گاہ خوں بستہ تھیں
ان آنکھوں نے کیا کیا دکھایا ہمیں
بٹھا اس کی خاطر میں نقش وفا
نہیں تو اٹھالے خدایا ہمیں
ملے ڈالے ہے دل کوئی عشق میں
یہ کیا روگ یارب لگایا ہمیں
ہوئی اس گلی میں تو مٹی عزیز
ولے خواریوں سے اٹھایا ہمیں
جوانی دوانی سنا کیا نہیں
حسینوں کا ملنا ہی بھایا ہمیں
نہ سمجھی گئی دشمنی عشق کی
بہت دوستوں نے جتایا ہمیں
کوئی دم کل آئے تھے مجلس میں میر
بہت اس غزل پر رلایا ہمیں
میر تقی میر

سو سو کہیں تونے مجھے منھ پر نہ لایا ایک میں

دیوان دوم غزل 897
اے مجھ سے تجھ کو سو ملے تجھ سا نہ پایا ایک میں
سو سو کہیں تونے مجھے منھ پر نہ لایا ایک میں
عالم کی میں نے سیر کی مجھ کو جو خوش آیا سو تو
سب سے رہا محظوظ تو تجھ کو نہ بھایا ایک میں
یہ جوش غم ہوتے بھی ہیں یوں ابرتر روتے بھی ہیں
چشم جہاں آشوب سے دریا بہایا ایک میں
تھا سب کو دعویٰ عشق کا لیکن نہ ٹھہرا کوئی بھی
دانستہ اپنی جان سے دل کو اٹھایا ایک میں
ہیں طالب صورت سبھی مجھ پر ستم کیوں اس قدر
کیا مجرم عشق بتاں یاں ہوں خدایا ایک میں
بجلی سے یوں چمکے بہت پر بات کہتے ہوچکے
جوں ابر ساری خلق پر ہوں اب تو چھایا ایک میں
سو رنگ وہ ظاہر ہوا کوئی نہ جاگہ سے گیا
دل کو جو میرے چوٹ تھی طاقت نہ لایا ایک میں
اس گلستاں سے منفعت یوں تو ہزاروں کو ہوئی
دیکھا نہ سرو و گل کا یاں ٹک سر پہ سایہ ایک میں
رسم کہن ہے دوستی ہوتی بھی ہے الفت بہم
میں کشتنی ٹھہرا جو ہوں کیا دل لگایا ایک میں
جن جن نے دیکھا تھا اسے بے خود ہوا چیتا بھی پھر
پر میر جیتے جی بخود ہرگز نہ آیا ایک میں
میر تقی میر

اس گریباں ہی سے اب ہاتھ اٹھایا ہم نے

دیوان اول غزل 610
چاک پر چاک ہوا جوں جوں سلایا ہم نے
اس گریباں ہی سے اب ہاتھ اٹھایا ہم نے
حسرت لطف عزیزان چمن جی میں رہی
سر پہ دیکھا نہ گل و سرو کا سایہ ہم نے
جی میں تھا عرش پہ جا باندھیے تکیہ لیکن
بسترا خاک ہی میں اب تو بچھایا ہم نے
بعدیک عمر کہیں تم کو جو تنہا پایا
ڈرتے ڈرتے ہی کچھ احوال سنایا ہم نے
یاں فقط ریختہ ہی کہنے نہ آئے تھے ہم
چار دن یہ بھی تماشا سا دکھایا ہم نے
بارے کل باغ میں جا مرغ چمن سے مل کر
خوبی گل کا مزہ خوب اڑایا ہم نے
تازگی داغ کی ہر شام کو بے ہیچ نہیں
آہ کیا جانے دیا کس کا بجھایا ہم نے
دشت و کہسار میں سر مار کے چندے تجھ بن
قیس و فرہاد کو پھر یاد دلایا ہم نے
بے کلی سے دل بیتاب کی مر گذرے تھے
سو تہ خاک بھی آرام نہ پایا ہم نے
یہ ستم تازہ ہوا اور کہ پائیز میں میر
دل خس و خار سے ناچار لگایا ہم نے
میر تقی میر

اس کی دیوار کا سر سے مرے سایہ نہ گیا

دیوان اول غزل 65
جیتے جی کوچۂ دلدار سے جایا نہ گیا
اس کی دیوار کا سر سے مرے سایہ نہ گیا
کاو کاو مژئہ یار و دل زار و نزار
گتھ گئے ایسے شتابی کہ چھڑایا نہ گیا
وہ تو کل دیر تلک دیکھتا ایدھر کو رہا
ہم سے ہی حال تباہ اپنا دکھایا نہ گیا
گرم رو راہ فنا کا نہیں ہوسکتا پتنگ
اس سے تو شمع نمط سر بھی کٹایا نہ گیا
پاس ناموس محبت تھا کہ فرہاد کے پاس
بے ستوں سامنے سے اپنے اٹھایا نہ گیا
خاک تک کوچۂ دلدار کی چھانی ہم نے
جستجو کی پہ دل گم شدہ پایا نہ گیا
آتش تیز جدائی میں یکایک اس بن
دل جلا یوں کہ تنک جی بھی جلایا نہ گیا
مہ نے آ سامنے شب یاد دلایا تھا اسے
پھر وہ تاصبح مرے جی سے بھلایا نہ گیا
زیر شمشیر ستم میر تڑپنا کیسا
سر بھی تسلیم محبت میں ہلایا نہ گیا
جی میں آتا ہے کہ کچھ اور بھی موزوں کیجے
درد دل ایک غزل میں تو سنایا نہ گیا
میر تقی میر

اے کبک پھر بحال بھی آیا نہ جائے گا

دیوان اول غزل 48
اس کا خرام دیکھ کے جایا نہ جائے گا
اے کبک پھر بحال بھی آیا نہ جائے گا
ہم کشتگان عشق ہیں ابرو و چشم یار
سر سے ہمارے تیغ کا سایہ نہ جائے گا
ہم رہرو ان راہ فنا ہیں برنگ عمر
جاویں گے ایسے کھوج بھی پایا نہ جائے گا
پھوڑا سا ساری رات جو پکتا رہے گا دل
تو صبح تک تو ہاتھ لگایا نہ جائے گا
اپنے شہید ناز سے بس ہاتھ اٹھا کہ پھر
دیوان حشر میں اسے لایا نہ جائے گا
اب دیکھ لے کہ سینہ بھی تازہ ہوا ہے چاک
پھر ہم سے اپنا حال دکھایا نہ جائے گا
ہم بے خودان محفل تصویر اب گئے
آئندہ ہم سے آپ میں آیا نہ جائے گا
گو بے ستوں کو ٹال دے آگے سے کوہکن
سنگ گران عشق اٹھایا نہ جائے گا
ہم تو گئے تھے شیخ کو انسان بوجھ کر
پر اب سے خانقاہ میں جایا نہ جائے گا
یاد اس کی اتنی خوب نہیں میر باز آ
نادان پھر وہ جی سے بھلایا نہ جائے گا
میر تقی میر

پاگل سا شخص تھا جو سدھایا نہ جا سکا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 58
دنیا کے راستے پہ لگایا نہ جا سکا
پاگل سا شخص تھا جو سدھایا نہ جا سکا
وُہ پیاس تھی کہ بات گلے میں اٹک گئی
خوابِشبِ گناہ سنایا نہ جا سکا
ظلمت تو آشکار ہوئی کشفِ نور سے
پر روشنی کا پردہ اٹھایا نہ جا سکا
سورج سفر میں ساتھ تھا نصف النہار پر
میری جلو میں خود مرا سایہ نہ جا سکا
یہ جبر کا نظام، یہ خود رو مجسمہ
ڈھایا گیا مگر کبھی ڈھایا نہ جا سکا
اک چوبِ نم گرفتہ سلگتی رہی مدام
سینے میں جشنِ شعلہ جگایا نہ جا سکا
بے نام سا گزر گیا خود اپنی اوٹ میں
وُہ کون تھا، اُسے کبھی پایا نہ جا سکا
آفتاب اقبال شمیم

مرے آگے مرا سجدہ پڑا ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 603
رسن کا سامنے رستہ پڑا ہے
مرے آگے مرا سجدہ پڑا ہے
ازل کی جاگتی آنکھوں میں آ کر
کہاں سے نیند کا جھونکا پڑا ہے
ابھی کچھ اور جینا چاہتا ہوں
ابھی اجداد کا قرضہ پڑا ہے
یزیدوں سے میں کیسے صلح کرلوں
مرے گھر تازیہ میرا پڑا ہے
خدا سے عین ممکن ہے ملاقات
ابھی تو آخری زینہ پڑا ہے
سبھی عشاق ہیں اک روحِ کل کے
فقیروں میں کبھی جھگڑا پڑا ہے
بھلا مایوس کیوں ہوں آسماں سے
جسے مارا گیا زندہ پڑا ہے
اک ایسی مملکت میں جی رہا ہوں
جہاں آسیب کا سایہ پڑا ہے
بصد افسوس تیرانامِ نامی
مجھے دیوار پر لکھنا پڑا ہے
جہالت کے جہاں بہتے ہیں دریا
اسی اسکول میں پڑھنا پڑا ہے
یہ شامِزرد رُو کا سرخ فتنہ
ہے باقی جب تلک دنیا، پڑا ہے
اسی پل کا ہوں میں بھی ایک حصہ
جہاں خاموش دریا سا پڑا ہے
ابھی آتش فشاں کچھ اور بھی ہیں
پہاڑوں میں ابھی لاوا پڑا ہے
پڑا تہذیب کے منہ پر طمانچہ
سڑک پہ پھر کوئی ننگا پڑا ہے
زمانے سے چھپا رکھی ہیں آنکھیں
مگر وہ دیکھنے والا پڑا ہے
نہیں ہے تیری لافانی کہانی
مجھے منصور سے کہنا پڑا ہے
منصور آفاق

مری مجذوب خاموشی کو افسانہ بنانے میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 348
زمانہ… تجھ کو کیا حاصل ہوا قصہ بنانے میں
مری مجذوب خاموشی کو افسانہ بنانے میں
غزل کہنا پڑی ایسے سخن آباد میں مجھ کو
خدا مصلوب ہوتے ہیں جہاں مصرعہ بنانے میں
نجانے کون سے دکھ کی اداسی کا تعلق ہے
مری اس سائیکی کو اتنا رنجیدہ بنانے میں
تجھے دل نے کسی بہتر توقع پر بلایا تھا
لگے ہو تم مسائل اور پیچیدہ بنانے میں
اگر آ ہی گئے ہو تو چلو آؤ یہاں بیٹھو
ذرا سی دیر لگنی ہے مجھے قہوہ بنانے میں
کسے معلوم کیا کیا کر دیا قربان آنکھوں نے
یہ تنہائی کی آبادی، یہ ویرانہ بنانے میں
مری صبح منور کی جسے تمہید بننا تھا
کئی صدیاں لگا دی ہیں وہ اک لمحہ بنانے میں
کہاں سے آ گئی اتنی لطافت جسم میں میرے
شبیں ناکام پھرتی ہیں مرا سایہ بنانے میں
کھڑا ہے لاش پر میری وہ کیسی تمکنت کے ساتھ
جسے تکلیف ہوتی تھی مجھے زینہ بنانے میں
مرے منزل بکف جن پہ تُو طعنہ زن دکھائی دے
یہ پاؤں کام آئے ہیں ترا رستہ بنانے میں
مجھ ایسے آسماں کو گھر سے باہر پھینکنے والو
ضرورت چھت کی پڑتی ہے کوئی کمرہ بنانے میں
کہیں رہ جاتی تھیں آنکھیں کہیں لب بھول جاتا تھا
بڑی دشواریاں آئیں مجھے چہرہ بنانے میں
پلٹ کر دیکھتے کیا ہو۔ صفِ دشمن میں یاروں کو
بڑے ماہر ہیں اپنے دل کو یہ کوفہ بنانے میں
کسی کرچی کے اندر کھو گیا میرا بدن مجھ سے
جہانِ ذات کو اک آئینہ خانہ بنانے میں
مٹھاس ایسے نہیں آئی مرے الفاظِ تازہ میں
لگی ہے عمر مجھ کو دودھ کا چشمہ بنانے میں
بڑا دل پھینک ہے یہ دل بڑی آوارہ آنکھیں ہیں
کوئی عجلت ہوئی شاید دل و دیدہ بنانے میں
کسی ہجرِ مسلسل کا بڑا کردار ہے منصور
محبت کی کہانی اتنی سنجیدہ بنانے میں
انا الحق کی صداؤں میں کہیں گم ہو گیا میں بھی
اسے منصور اپنی ذات کا حصہ بنانے میں
مرے ہمزاد اپنا آپ نادیدہ بنانے میں
تجھے کیا مل گیا آنکھوں کو لرزیدہ بنانے میں
منصور آفاق

وہ جنگ تھی کسی کی وہ جھگڑا کہیں کا تھا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 89
پھیلا ہوا ہے گھر میں جو ملبہ، کہیں کا تھا
وہ جنگ تھی کسی کی وہ جھگڑا کہیں کا تھا
پھر اک فریبِ ذات ہوا اپنا شاٹ کٹ
پہنچے کہیں پہ اور ہیں سوچا کہیں کا تھا
جبہ تھا ’دہ خدا‘ کا تو دستار سیٹھ کی
حجرے کی وارڈروب بھی کاسہ کہیں کا تھا
آخر خبر ہوئی کہ وہ اپنی ہے ملکیت
منظر جو آنکھ کو نظر آتا کہیں کا تھا
جو دشت آشنا تھا ستارہ کہیں کا تھا
میں جس سے سمت پوچھ رہا تھا کہیں کا تھا
حیرت ہے جا رہا ہے ترے شہر کی طرف
کل تک یہی تو تھا کہ یہ رستہ، کہیں کا تھا
سوکھے ہوئے شجر کو دکھاتی تھی بار بار
پاگل ہوا کے ہاتھ میں پتا کہیں کا تھا
بس دوپہر کی دھوپ نے رکھا تھا جوڑ کے
دیوارِ جاں کہیں کی تھی سایہ کہیں کا تھا
وہ آئینہ بھی میرا تھا، آنکھیں بھی میری تھیں
چہرے پہ عنکبوت کا جالا کہیں کا تھا
کیا پوچھتے ہو کتنی کشش روشنی میں ہے
آیا کہیں ہوں اور ارادہ کہیں کا تھا
شاید میں رہ رہا تھا کسی اور وقت میں
وہ سال وہ مہینہ وہ ہفتہ کہیں کا تھا
صحرا مزاج ڈیم کی تعمیر کے سبب
بہنا کہیں پڑا اسے، دریا کہیں کا تھا
تاروں بھری وہ رات بھی کچھ کچھ کمینی تھی
کچھ اس کا انتظار بھی کتا کہیں کا تھا
گاہے شبِ وصال تھی گاہے شبِ فراق
آنکھیں کہیں لگی تھیں دریچہ کہیں کا تھا
اے دھوپ گھیر لائی ہے میری ہوا جسے
وہ آسماں پہ ابر کا ٹکڑا کہیں کا تھا
جلنا کہاں تھا دامنِ شب میں چراغِ غم
پھیلا ہوا گلی میں اجالا کہیں کا تھا
پڑھنے لگا تھا کوئی کتابِ وفا مگر
تحریر تھی کہیں کی، حوالہ کہیں کا تھا
اتری کہیں پہ اور مرے وصل کی اڑان
منصور پاسپورٹ پہ ویزہ کہیں کا تھا
منصور آفاق

تصویر کا رُخ ایک ہی رہتا ہے سامنے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 225
اپنی نظر کے دام سے نکلے نہ ہم کہیں
تصویر کا رُخ ایک ہی رہتا ہے سامنے
سر پھوڑتا کہ دل کا سکوں دیکھتا کوئی
دیوار سامنے کبھی سایہ ہے سامنے
ہے موت کا خیال بھی کس درجہ دلخراش
اور صورت حیات بھی کیا کیا ہے سامنے
یہ خار ہے کہ تیرِ غم زندگی کوئی
یہ پھول ہے کہ اپنی تمنا ہے سامنے
باقی صدیقی

کارواں اک آ کے ٹھہرا سامنے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 223
آ گیا ہر رنگ اپنا سامنے
کارواں اک آ کے ٹھہرا سامنے
کہہ نہیں سکتے محبت میں سراب
دیر سے ہے ایک دریا سامنے
کٹ رہا ہے رشتہ قلب و نظر
ہو رہا ہے اک تماشا سامنے
دل ہے کچھ نا آشنا، کچھ آشنا
تو ہے یا اک شخص تجھ سا سامنے
فاصلہ در فاصلہ ہے زندگی
سامنے ہم ہیں نہ دنیا سامنے
کس نے دیکھا ہے لہو کا آئنہ
آدمی پردے میں سایہ سامنے
اپنے غم کے ساتھ باقیؔ چل دئیے
ہے سفر شام و سحر کا سامنے
باقی صدیقی

یہی رستہ تھا صبا کا پہلے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 217
سفر گل کا پتا تھا پہلے
یہی رستہ تھا صبا کا پہلے
کبھی گل سے،کبھی بوئے گل سے
کچھ پتا ملتا تھا اپنا پہلے
زندگی آپ نشاں تھی اپنا
تھا نہ رنگین یہ پردا پہلے
اس طرح روح کے سناٹے سے
کبھی گزرے تھے نہ تنہا پہلے
اب تو ہر موڑ پہ کھو جاتے ہیں
یاد تھا شہر کا نقشہ پہلے
لوگ آباد تو ہوتے تھے مگر
اس قدر شور کہاں تھا پہلے
دور سے ہم کو صدا دیتا تھا
تیری دیوار کا سایہ پہلے
اب کناروں سے لگے رہتے ہیں
رُخ بدلتے تھے یہ دریا پہلے
ہر نظر دل کا پتا دیتی تھی
کوئی چہرہ تھا نہ دھندلا پہلے
دیکھتے رہتے ہیں اب منہ سب کا
بات کرنے کا تھا چسکا پہلے
ہر بگولے سے الجھ جاتی تھی
رہ نوردی کی تمنا پہلے
یوں کبھی تھک کے نہ ہم بیٹھے تھے
گرچہ دشوار تھا رستہ پہلے
اب تو سینے کا ہے چھالا دنیا
دور سے شور سنا تھا پہلے
جوئے شیر آتی ہے دل سے باقیؔ
خود پہ ہی پڑتا ہے تیشہ پہلے
باقی صدیقی

تو نظر کے سامنے ہے یا نہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 135
دل کسی صورت ٹھہر پاتا نہیں
تو نظر کے سامنے ہے یا نہیں
مٹ گیا ہے دل سے کیا تیرا خیال
اتنا دنیا کو کبھی چاہا نہیں
اس طرح محفل یہ ہے اس کی نظر
سب ہیں تنہا اور کوئی تنہا نہیں
سوچ کر کیا بات آ بیٹھے ہو تم
ان درختوں کا کوئی سایہ نہیں
دھوپ کا رُخ دیکھ کر چلتے ہیں لوگ
کوئی اپنے سامنے آتا نہیں
بات مظلوموں پہ آخر آئے گی
الٹے رُخ دریا کبھی بہتا نہیں
دیکھتا ہوں اس طرح ہر ایک کو
آدمی بھی آدمی گویا نہیں
یہ بھی تو پہلو ہے اک حالات کا
لوگ جو کہتے ہیں وہ ہوتا نہیں
آج باقیؔ کیا ہوا کو ہو گیا
دور تک پتا کوئی ہلتا نہیں
باقی صدیقی

درد دل مانگ کے پھر کیا مانگیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 118
موج ہاتھ آئے تو دریا مانگیں
درد دل مانگ کے پھر کیا مانگیں
کیا ملا انجمن آرائی سے
کیسے تنہائی سے رستہ مانگیں
دست کوتاہ نہیں دست طلب
مانگنے والوں سے ہم کیا مانگیں
دل کو غم ہائے جہاں سے فرصت
تجھ سے کیا تیری تمنا مانگیں
کس قدر تاب نظر ہے کس کو
کس لئے دیدہ بینا مانگیں
شہر کا شہر کڑی دھوپ میں ہے
کس کی دیوار سے سایہ مانگیں
کبھی قطرے کو بحسرت دیکھیں
کبھی دریا سے نہ قطرہ مانگیں
کبھی اک ذرے میں گم ہو جائیں
کبھی ہم وسعت صحرا مانگیں
تاب نظارا نہیں ہے باقیؔ
پھر بھی ہم طرفہ تماشا مانگیں
باقی صدیقی