ٹیگ کے محفوظات: ساگر

دیس سے ہٹ کر کون ٹھکانہ گھر سا ہو

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 61
جس کا اندر جنّت کے اندر سا ہو
دیس سے ہٹ کر کون ٹھکانہ گھر سا ہو
بیشک دِل اُس میں اُلجھے پر فتنہ وُہ
زن سا اور زمیں اور نہ زر سا ہو
رحمتِ یزداں تک سے بھی وہ ڈر جائے
جس کھیتی پر بادل ٹوٹ کے برسا ہو
اُس خطّے میں اچّھے دن کم کم آئیں
تخت جہاں کا بھی حقدار کو ترسا ہو
گُنی بہت اور اپنی آن کا رکھوالا
جس کا بیٹا ہو میرے یاور سا ہو
اپنے یہاں گھر بار کے سب دکھ سہنے کو
حوصلہ ہو تو ماجِد وُہ ساگر سا ہو
ماجد صدیقی

درس ہے یہ ہمیں ازبر رکھنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 9
ہونٹ پھولوں کے لبوں پر رکھنا
درس ہے یہ ہمیں ازبر رکھنا
کوئی احساں ہو گراں بار ہے وُہ
سر پہ اپنے نہ یہ پتّھر رکھنا
عفو پرواز دلاتا ہے نئی
ہے بڑی بات یہ شہپر رکھنا
جگ میں رہنا ہے تو پھر سینے میں
دل نہ رکھنا کوئی ساگر رکھنا
عدل ہی کرنے پہ آئے ہو تو پھر
دونوں پلڑوں کو برابر رکھنا
ماجد صدیقی

میں جو ڈوبا تو نہ ابھروں گا کبھی ساگر سے

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 65
موج غم اس لئے شاید نہیں گزری سر سے
میں جو ڈوبا تو نہ ابھروں گا کبھی ساگر سے
اور دنیا سے بھلائی کا صلہ کیا ملتا
آئنہ میں نے دکھایا تھا کہ پتھر بر سے
کتنی گم سم مرے آنگن سے صبا گزری ہے
اک شرر بھی نہ اڑا روح کی خاکستر سے
پیار کی جو سے گھر گھر ہے چراغاں ورنہ
اک بھی شمع نہ روشن ہو ہوا کے ڈر سے
اڑتے بادل کے تعاقب میں پھرو گے کب تک
درد کی دھوپ میں نکلا نہیں کرتے گھر سے
کتنی رعنائیاں آباد ہیں میرے دل میں
اک خرابہ نظر آتا ہے مگر باہر سے
وادیِٔ خواب میں اس گل کا گزر کیوں نہ ہوا
رات بھر آتی رہی جس کی مہک بستر سے
طعنِ اغیار سنیں آپ خموشی سے شکیبؔ
خود پلٹ جاتی ہے ٹکرا کے صدا پتھر سے
شکیب جلالی