ٹیگ کے محفوظات: ساون

روز گلگشت کرے خواہشوں کے گلشن میں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 38
صبحِ اُمید، شب یاس کے پیراہن میں
روز گلگشت کرے خواہشوں کے گلشن میں
میں درِ شام پہ بیٹھا ہوں سوالی بن کر
اک ستارا ہی اُتر آئے مرے آنگن میں
نارسائی میں رہو اور کرشمہ دیکھو
ہے عبادت کا مزہ گوریوں کے درشن میں
ابر تو برسا بہت، پیاس نہ مِٹ پائی مگر
کاش میں مر ہی گیا ہوتا کسی ساون میں
بے صدا ہوتی گئیں روشنیاں وقت کے ساتھ
وہ جو پیغام سا دیتی تھیں ہمیں بچپن میں
زندگی! کھل کے مرے سامنے آ یا چھپ جا
تو نے رکھا ہے ہمیشہ سے مجھے اُلجھن میں
قید میں دیوے بشارت مجھے آزادی کی
آسماں رہتا ہے دن رات مرے روزن میں
آفتاب اقبال شمیم

لمس کی آگ میں جلتا ہوا ساون اور میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 318
ریت کی شال پہ بھیگا ہوا ساجن اور میں
لمس کی آگ میں جلتا ہوا ساون اور میں
تھا یہ اندیشہ کہ سبقت نہ کرے موت کہیں
کچھ اسی واسطے جلدی میں تھے دشمن اور میں
شہرِ لاہور میں داتا کی گلی کے باہر
ایک مٹیار کا ہوتا ہوا درشن اور میں
نیپ ریکارڈ پہ بجتا ہوا غمگین نغمہ
رات کی کالی اداسی ،مرا انگن اور میں
شور برپا تھا بلائیں تھیں فضا میں منصور
آمنے سامنے جیسے تیرا جوبن اور میں
منصور آفاق

ظلم عظیم… یار کے دامن پہ ایسا داغ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 205
اتنی جمیل صبحِ شگفتن پہ ایسا داغ
ظلم عظیم… یار کے دامن پہ ایسا داغ
توبہ یہ وارداتِ فلسطین، کیا کہوں
اس عہدِ با شعور کے جوبن پہ ایسا داغ
ابھرا ہے آئینہ سے جو تیرے سلوک پر
لگتا ہے چشم مہر میں پھاگن پہ ایسا داغ
ایسا تو کچھ نہیں مرے دل کے مکان میں
کیسے لگا ہے دستِ نقب زن پہ ایسا داغ
حیرت ہے بارشوں کے مسلسل فروغ میں
رہ جائے آنسوئوں بھرے ساون پہ ایسا داغ
لگتا ہے انتظار کے چپکے ہیں خدو خال
دیکھا نہیں کبھی کسی چلمن پہ ایسا داغ
جس میں دھڑکتے لمس دکھائی دیں دور سے
اس نے بنا دیا میری گردن پہ ایسا داغ
ہونٹوں کے یہ نشان مٹا دو زبان سے
اچھا نہیں ہے دودھ کے برتن پہ ایسا داغ
جیسے پڑا ہوا ہے لہو میرا روڈ پر
کیسے لگا ہے رات کے مدفن پہ ایسا داغ
جس میں مجھے اترنا پڑے اپنی سطح سے
کیسے لگاؤں دوستو دشمن پہ ایسا داغ
یہ کیا پرو دیا ہے پرندے کو شاخ میں
زیتون کے سفید سلوگن پہ ایسا داغ
بعد از بہار دیکھا ہے میں نے بغور دل
پہلے نہ تھا صحیفۂ گلشن پہ ایسا داغ
اب تو تمام شہر ہے نیلا پڑا ہوا
پہلے تھا صرف چہرئہ سوسن پہ ایسا داغ
شاید ہے بد دعا کسی مجذوب لمس کی
منصور میرے سینۂ روشن پہ ایسا داغ
منصور آفاق

کچھ پہلے کائنات سے روشن تھا کون شخص

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 194
تھا کون ، صبحِ طور کا مسکن تھا کون شخص
کچھ پہلے کائنات سے روشن تھا کون شخص
تحریکِ کن فکاں کا سلوگن تھا کون شخص
بعد از خدا وجود میں فوراً تھا کون شخص
کس کا کہا خدا کا کہا ہے اک ایک لفظ
لوح و قلم کا خاک پہ درشن تھا کون شخص
بہتا ہے کس کے نام سے بادِ ازل کا گیت
آوازِ کْن کی صبح شگفتن تھا کون شخص
گجرے پْرو کے لائی تھی کس کے لئے زمیں
چیتر کی پہلی عصر کا جوبن تھا کون شخص
صحرا کی پیاس کون بجھاتا ہے اب تلک
منصور ریگزار میں ساون تھا کون شخص
منصور آفاق

میرے کاہن عینک اور کتاب

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 131
غیب کا مدفن عینک اور کتاب
میرے کاہن عینک اور کتاب
ایک بہکتے حرف کے پہلو میں
رکھ دی فوراً عینک اور کتاب
ٹیرس پر تنہائی کی رم جھم
بھیگا ساون عینک اور کتاب
میر و غالب پھر مہمان ہوئے
چائے کے برتن عینک اور کتاب
یاد کی لائبریری زندہ باد
اپنا جیون عینک اور کتاب
برف بھری تنہائی میں منصور
یار کا درشن عینک اور کتاب
منصور آفاق

آنکھ کا تالاب بد روحوں کا مسکن ہو گیا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 128
آخرش ہجراں کے مہتابوں کا مد فن ہو گیا
آنکھ کا تالاب بد روحوں کا مسکن ہو گیا
دھوپ در آئی اچانک رات کو برسات میں
اس کا چہرہ آنسوئوں میں عکس افگن ہو گیا
دل چرا کر جا رہا تھا میں دبے پاؤں مگر
چاند نکلا اور سارا شہر روشن ہو گیا
رو پڑا تھا جا کے داتا گنج کے دربار پر
یوں ہوا پھر راہ میں سانول کا درشن ہو گیا
بجلیاں ہیں بادلوں کے بین ہیں کمرے کے بیچ
اور کیلنڈر کہے ہے، ختم ساون ہو گیا
کیوں سلگتی ریت نے سہلا دیے تلووں کے پھول
یہ اذیت کیش دل صحرا کا دشمن ہو گیا
جھلملا اٹھتا تھا برتن مانجھنے پر جھاگ سے
اس کلائی سے جو روٹھا زرد کنگن ہو گیا
تیری میری زندگی کی خوبصورت ساعتیں
تیرا بچپن ہو گیا یا میرا بچپن ہو گیا
ایک جلوے کی قیامت میں نے دیکھی طور پر
دھوپ تھی ایسی کہ سورج سوختہ تن ہو گیا
بے خدا ہوں سوچتا ہوں شکر کس کا ہو ادا
میں نے جو چاہا وہی منصور فوراً ہو گیا
منصور آفاق

میری پیدائش کا لمحہ پھر اسی سن میں رکھا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 103
اس نے پہلے مارشل لاء میرے آنگن میں رکھا
میری پیدائش کا لمحہ پھر اسی سن میں رکھا
صحن میں پھیلی ہوئی ہے گوشت جلنے کی سڑاند
جیسے سینے میں نہیں کچھ اس نے اوون میں رکھا
جب سوئمنگ پول کے شفاف پانی سے ملی
آنسوئوں والا فقط اک ہار گردن میں رکھا
ہونٹ ہیٹر پہ رکھے تھے اس کی یادوں پر نہیں
تھا جہنم خیز موسم غم کے جوبن میں رکھا
سانپ کو اس نے اجازت ہی نہیں دی وصل کی
گھر کے دروازے سے باہر دودھ برتن میں رکھا
میں اسے منصور بھیجوں کس لیے چیتر کے پھول
جس نے سارا سال مجھ کو غم کے ساون میں رکھا
منصور آفاق

اکھیاں اگوں ہٹدا نئیں ایں، نقشہ تیرے جاوَن دا

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 64
سدھراں دے مرجھاون داتے پھُلاں دے کملاوَن دا
اکھیاں اگوں ہٹدا نئیں ایں، نقشہ تیرے جاوَن دا
پکیاں فصلاں اُتّے اوڑک، پہرے لگ ائی جاندے نیں
کیہ کرئیے ہن گلہ اُس توں، اپنا آپ لُکاوَن دا
کاہنوں مگرے پائیے، سپ اُٹھوئیں، وِسریاں یاداں دے
گزرے دناں دی جُوہ وچ، کیہڑا فیدہ جھاتیاں پاوَن دا
پہلاں پہل تے اوہدا مکھ وی، اِک اَن لکھیا ورقہ سی
ہن تے اوہ وی ہو گئی، بِھجیا مکھڑا جیئوں رُت ساوَن دا
بدلاں ورگی اوس کڑی نوں، کیہہ کیہہ پیچے پاندا سی
شوق اساڈا، سینے دے وچ، بلدی اگ بجھاوَن دا
ویلے نے جد ساڈی منگ، ہوراں دے ناں ائی متھنی ایں
کیوں نہ سِکھئیے وَل نیلی دیاں، راساں ہتھ چ لیاوَن دا
دکھ دے دیوتے ڈک کے سانوں، ساڈی سار نہ لینی ایں
آپوں جتن کرئیے غار دے مونہوں، سل پر تاوَن دا
پِٹیر نوں منیے پیٹر نہ اُکّا، منکر بنیے دُکھاں دے
ماجدُ ہے ایہو اک رستہ، سُکھ دے گھر نوں جاوَن دا
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

جاگ پئے فر جذبے ٹہنی ٹہنی ککھ سجاون دے

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 17
بدلاں واواں، بجلیاں ہتھوں سجرے وَیر ازماون دے
جاگ پئے فر جذبے ٹہنی ٹہنی ککھ سجاون دے
ایداں دے پر بندھ کیتے نیں کھیڑیاں ہِیر لُکاون دے
واواں توں وی چج کھوہ لئے نیں سُکھ سنہیوڑے لیاون دے
کدے کدے چن وانگوں جیہڑا پاوے جھات بنیرے توں
اُس سُندر مکھڑے نوں دل دے ویہڑے وی لہہ آون دے
ایہہ وَکھری گل اے جے اگوں بھار نہ جھلّیا رُکھّاں نے
نئیں تے کیہنے خواب نہ ویکھے اُچّیاں پینگاں پاون دے
جد وی آن برابر ہووے موسم اوہدیاں یاداں دا
اکھیاں وچ لہہ آوندے منظر چھم چھم وسدے ساون دے
دل کملے دے آکھے لگ کے چَودھر سُٹنی پیندی اے
ایویں نہیں لبھ رہندے رُتبے رانجھا چاک سداون دے
ہنجواں دے شیشے وچ لاہیا سوہجھ اُس وچھڑن والے دا
اکھیاں کیہہ کیہہ حِیلے کیتے دل دی دِھیر بنھاون دے
مردے مر گئے فیر وی اَساں دل دا حال نہ دسیا اے
ویکھ لوو ہٹھ حوصلے ساڈے منہ تے جندرے لاون دے
اوہ ساہواں وچ وسدا وی ہُن سانتھوں مُکھ وَلاندا اے
موجاں نے وی وَل سِکھ لئے نیں کنڈھیاں نوں ترساون دے
قدماں توں جد دور دِسیون گلیاں عیسیٰ خیل دیاں
چاہ چڑھدے نیں تد ائی ماجدُ ماہئیے ڈھولے گاون دے
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)