ٹیگ کے محفوظات: سان

ٹوٹے نہ یہ غضب بھی ہماری ہی جان پر

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 11
کھٹکا ہے یہ، کسی بھی پھسلتی چٹان پر
ٹوٹے نہ یہ غضب بھی ہماری ہی جان پر
جیسے ہرن کی ناف ہتھیلی پہ آ گئی
کیا نام تھا، سجا تھا کبھی، جو زبان پر
چاہے جو شکل بھی وہ، بناتا ہے اِن دنوں
لوہا تپا کے اور اُسے لا کے سان پر
اُس پر گمانِ مکر ہے اب یہ بھی ہو چلا
تھگلی نہ ٹانک دے وہ کہیں آسمان پر
یک بارگی بدن جو پروتا چلا گیا
ایسا بھی ایک تیر چڑھا تھا کمان پر
تاریخ میں نہ تھی وہی تحریر ، لازوال
جو خون رہ گیا تھا عَلَم پر، نشان پر
ماجدؔ ہلے شجر تو یقیں میں بدل گیا
جو وسوسہ تھا سیلِ رواں کی اٹھان پر
ماجد صدیقی

عذاب کیا یہ مسلسل ہماری جان پہ ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 38
لبوں پہ گرد ہے اِک زنگ سا زبان پہ ہے
عذاب کیا یہ مسلسل ہماری جان پہ ہے
تمہاری ہاں میں ملائیں گے ہاں نہ کب تک ہم
کچھ اور کوٹئے لوہا ابھی تو سان پہ ہے
نہ اُس شجر کی خبر اِس شجر تلک پہنچے
اِسی خیال سے قدغن ہرِاک اڑان پہ ہے
اُسے یہ ناز ہمارے ہی عجز نے بخشا
بزعمِ خویش قدم جس کا آسمان پہ ہے
پتہ ہے اُس کو نشانوں کے زاویوں کا بھی
وہ جس کی ساری توجہ ابھی کمان پہ ہے
وہ شب کی اوٹ سے کچھ اور ہی نکالے گا
کہ جس کا دھیان دروں پر لگے نشان پہ ہے
اُتر کے دشت میں ماجدؔ رہے نہ یوں شاید
گمان اپنے تحفّظ کا جو مچان پہ ہے
ماجد صدیقی

سب یہیں رہ گئے کہاں سے گئے

دیوان ششم غزل 1875
کہتے ہیں مرنے والے یاں سے گئے
سب یہیں رہ گئے کہاں سے گئے
دم میں دم جب تلک تھا سوچ رہا
سانس کے ساتھ سارے سانسے گئے
آنکھ کھلتے ہی گھر گئے وے تو
ہم ستم دیدہ خانماں سے گئے
واں گئے کرتے وے خرام ناز
یاں جواں کیسے کیسے جاں سے گئے
اس گلی سے جو اٹھ گئے بے صبر
میر گویا کہ وے جہاں سے گئے
میر تقی میر

اہل اس گھر پہ جان دیتے ہیں

دیوان پنجم غزل 1689
کس کو دل سا مکان دیتے ہیں
اہل اس گھر پہ جان دیتے ہیں
کیونکے خوش خواں نہ ہوویں اہل چمن
ہم انھوں کو زبان دیتے ہیں
نوخطاں پھیر لیں ہیں منھ یعنی
ملتے رخصت کے پان دیتے ہیں
جان کیا گوہر گرامی ہے
بدلے اس کے جہان دیتے ہیں
ہندو بچوں سے کیا معیشت ہو
یہ کبھو انگ دان دیتے ہیں
یہ عجب گم ہوئے ہیں جس کے لیے
نہیں اس کا نشان دیتے ہیں
گل خوباں میں میر مہر نہیں
ہم کو غیروں میں سان دیتے ہیں
میر تقی میر

تو میاں مجنوں بیاباں سے گئے

دیوان سوم غزل 1276
یوں جنوں کرتے جو ہم یاں سے گئے
تو میاں مجنوں بیاباں سے گئے
مر گئے دم کب تلک رکتے رہیں
بارے جی کے ساتھ سب سانسے گئے
کیا بدن دیکھا چسی چولی سے ہائے
مارے حسرت کے ہی ہم جاں سے گئے
جانب مسجد تھی وہ کافر نگاہ
شیخ صاحب دین و ایماں سے گئے
پیچ میں آئے کسو کی زلف کے
میر اس رستے پریشاں سے گئے
میر تقی میر

آئو بھلا کبھو تو سو جائو زبان کر

دیوان دوم غزل 815
رہ جائوں چپ نہ کیونکے برا جی میں مان کر
آئو بھلا کبھو تو سو جائو زبان کر
کہتے ہیں چلتے وقت ملاقات ہے ضرور
جاتے ہیں ہم بھی جان سے ٹک دیکھو آن کر
کیا لطف تھا کہ میکدے کی پشت بام پر
سوتے تھے مست چادر مہتاب تان کر
آیا نہ چل کے یاں تئیں وہ باعث حیات
مارا ہے ان نے جان سے ہم کو تو جان کر
ایسے ہی تیز دست ہو خونریزی میں تو پھر
رکھوگے تیغ جور کی یک چند میان کر
یہ بے مروتی کہ نگہ کا مضائقہ
اتنا تو میری جان نہ مجھ سے سیان کر
رنگین گور کرنی شہیدوں کی رسم ہے
تو بھی ہماری خاک پہ خوں کے نشان کر
رکھنا تھا وقت قتل مرا امتیاز ہائے
سو خاک میں ملایا مجھے سب میں سان کر
تم تیغ جور کھینچ کے کیا سوچ میں گئے
مرنا ہی اپنا جی میں ہم آئے ہیں ٹھان کر
وے دن گئے کہ طاقت دل کا تھا اعتماد
اب یوں کھڑے کھڑے نہ مرا امتحان کر
اس گوہر مراد کو پایا نہ ہم نے میر
پایان کار مر گئے یوں خاک چھان کر
میر تقی میر

اطفال شہر لائے ہیں آفت جہان پر

دیوان دوم غزل 806
کیا کیا نہ لوگ کھیلتے جاتے ہیں جان پر
اطفال شہر لائے ہیں آفت جہان پر
کچھ ان دنوں اشارئہ ابرو ہیں تیزتیز
کیا تم نے پھر رکھی ہے یہ تلوار سان پر
تھوڑے میں دور کھینچے ہے کیا آدم آپ کو
اس مشت خاک کا ہے دماغ آسمان پر
کس پر تھے بے دماغ کہ ابرو بہت ہے خم
کچھ زور سا پڑا ہے کہیں اس کمان پر
کس رنگ راہ پاے نگاریں سے تو چلا
ہونے لگے ہیں خون قدم کے نشان پر
چرچا سا کر دیا ہے مرے شور عشق نے
مذکور اب بھی ہے یہ ہر اک کی زبان پر
پی پی کے اپنا لوہو رہیں گوکہ ہم ضعیف
جوں رینگتی نہیں ہے انھوں کے تو کان پر
یہ وہم ہے کہ اور کا ہے میرے تیں خیال
تو مار ڈالیو نہ مجھے اس گمان پر
کیفیتیں ہزار ہیں اس کام جاں کے بیچ
دیتے ہیں لوگ جان تو ایک ایک آن پر
دامن میں آج میر کے داغ شراب ہے
تھا اعتماد ہم کو بہت اس جوان پر
میر تقی میر

انجان اتنے کیوں ہوئے جاتے ہو جان کر

دیوان اول غزل 226
جھوٹے بھی پوچھتے نہیں ٹک حال آن کر
انجان اتنے کیوں ہوئے جاتے ہو جان کر
وے لوگ تم نے ایک ہی شوخی میں کھو دیے
پیدا کیے تھے چرخ نے جو خاک چھان کر
جھمکے دکھاکے باعث ہنگامہ ہی رہے
پر گھر سے در پہ آئے نہ تم بات مان کر
کہتے نہ تھے کہ جان سے جاتے رہیں گے ہم
اچھا نہیں ہے آ نہ ہمیں امتحان کر
کم گو جو ہم ہوئے تو ستم کچھ نہ ہو گیا
اچھی نہیں یہ بات مت اتنی زبان کر
ہم وے ہیں جن کے خوں سے تری راہ سب ہے گل
مت کر خراب ہم کو تو اوروں میں سان کر
تا کشتۂ وفا مجھے جانے تمام خلق
تربت پہ میری خون سے میرے نشان کر
ناز و عتاب و خشم کہاں تک اٹھایئے
یارب کبھو تو ہم پہ اسے مہربان کر
افسانے ما و من کے سنیں میر کب تلک
چل اب کہ سوویں منھ پہ دوپٹے کو تان کر
میر تقی میر

اوہ ائی رب اکھواوے جنہوں، جچدی اے ایہہ شان

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 18
بندیا بندہ بن کے رہئو، تے نہ کر ایڈے مان
اوہ ائی رب اکھواوے جنہوں، جچدی اے ایہہ شان
ہنجواں راہیں میں تے اُترن، کیہ کیہ نِگھے بھیت
جگ توں وکھرا ہوندا جاوے، میرا دِین ایمان
میں اُتّے تے اوہدیاں نظراں، ساول بن بن لہن
تریل پوے تے پتھراں نوں وی، ہو جاندا عرفان
ویتنام، کمبوڈیا، سِینا، کوریا تے کشمیر
بندیاں ہتھ بندے دا لہو، جِنج لوہا چڑھیا سان
لفظاں تھانویں پتھر کاہنوں ماجدُ، رولے اج
ریشم تے پٹ اُندی ہوئی، ایہہ تیری نرم زبان
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)