ٹیگ کے محفوظات: سانگ

تب سے لٹتی ہے ہند چاروں دانگ

دیوان اول غزل 263
جب سے خط ہے سیاہ خال کی تھانگ
تب سے لٹتی ہے ہند چاروں دانگ
بات امل کی چلی ہی جاتی ہے
ہے مگر عوج بن عنق کی ٹانگ
بن جو کچھ بن سکے جوانی میں
رات تو تھوڑی ہے بہت ہے سانگ
عشق کا شور کوئی چھپتا ہے
نالۂ عندلیب ہے گل بانگ
اس ذقن میں بھی سبزی ہے خط کی
دیکھو جیدھر کنوئیں پڑی ہے بھانگ
کس طرح ان سے کوئی گرم ملے
سیم تن پگھلے جاتے ہیں جوں رانگ
چلی جاتی ہے حسب قدر بلند
دور تک اس پہاڑ کی ہے ڈانگ
تفرہ باطل تھا طور پر اپنے
ورنہ جاتے یہ دوڑ ہم بھی پھلانگ
میں نے کیا اس غزل کو سہل کیا
قافیے ہی تھے اس کے اوٹ پٹانگ
میر بندوں سے کام کب نکلا
مانگنا ہے جو کچھ خدا سے مانگ
میر تقی میر

روہی دو فرلانگ ہوئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 438
پیر فرید کی بانگ ہوئی
روہی دو فرلانگ ہوئی
آنکھ سے دیکھا باہو کی
دنیا ایک سوانگ ہوئی
شاہ حسین کی بستی میں
مادھولال کی مانگ ہوئی
بول وہ بلھا بول گیا
پار جگر کے سانگ ہوئی
اربوں سال کی تنہائی
اپنی ایک چھلانگ ہوئی
بات ہوئی بس اوروں سے
کال ہمیشہ رانگ ہوئی
کوئی کہاں منصور ملا
عمر سراپا تانگ ہوئی
منصور آفاق