ٹیگ کے محفوظات: ساحل

ہونٹ اچھے لگے ہمیں سِل کے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 139
بھید کھولیں گے اب نہ یہ دل کے
ہونٹ اچھے لگے ہمیں سِل کے
مجھ سے مِلنا ترا دکھایا ہے
آسماں نے زمین سے مِل کے
بِس کی پُڑیاں تھیں گھُورتی آنکھیں
مُنہ نمونے تھے سانپ کی بِل کے
شرط ہی جب بِدی تھی کچھوؤں سے
خواب کیا دیکھنے تھے منزل کے
وہ بھنور کا غرور کیا جانے
سُکھ جسے مِل گئے ہوں ساحل کے
خوش تھے نامِ صباؔ و سِپراؔ پر
جتنے مزدور بھی ملے مِل کے
دیکھ ماجدؔ! دیا کلی نے ابھی
درس جینے کا شاخ پر کھِل کے
ماجد صدیقی

کہیں ڈوبی ہوئی کشتی ملا کرتی ہے ساحل سے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 119
لحد والے امیدِ فاتحہ اور تجھ کو قاتل سے
کہیں ڈوبی ہوئی کشتی ملا کرتی ہے ساحل سے
یہ تم نے کیا کہا مجھپر زمانہ ہے فدا دل سے
ہزاروں میں وفا والا ملا کرتا ہے دل سے
نہ تھے جب آپ تو یہ حال تھا بیتابیِ دل سے
کبھی جاتا تھا محفل میں کبھی آتا تھا محفل سے
نگاہیں ان کو دیکھیں دیکھ کر یہ کہہ دیا دل سے
جو تو بیٹھا تو فتنے سینکڑوں اٹھیں گے محفل سے
دلوں میں آگئے جب فرق تو جاتے نہیں دل سے
کہ یہ ٹوٹے ہوئے شیشے جڑا کرتے ہیں مشکل سے
چمن مل جائے گا اہلِ چمن مل جائیں گے چھٹ کر
مگر تنکے نشیمن کے ملیں گے مجھ کو مشکل سے
ہماری کچھ نہ پوچھو ہم بری تقدیر والے ہیں
کہ جیتے ہیں تو مشکل سے جو مرتے ہیں تو مشکل سے
بگولا جب اٹھا میں راہ گم کردہ یہی سمجھا
کوئی رستہ بتانے آرہا ہے مجھ کو منزل سے
خموشی پر یہ حالت ہے خدا معلوم کیا کرتا
کوئی آواز آ جاتی اگر مجنوں کو محمل سے
صدا سن کر نہ طوفاں میں کسی نے دستگیری کی
کھڑے دیکھا کیے سب ڈوبنے والے کو ساحل سے
نہ ہو بیزار مجھ سے یکھ لینا ورنہ اے دنیا
نہ آؤں گا کبھی ایسا اٹھوں گا تیری محفل سے
قمر کے سامنے شب بھر سنوارو شوق سے گیسو
وہ آئینہ نہیں ہے کہ ہٹ جائے مقابل سے
قمر جلالوی

ساحل کی طرف کشتی نہ سہی کشتی کی طرف ساحل کر دے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 117
خشکی و تری پر قادر ہے آسان مری مشکل کر دے
ساحل کی طرف کشتی نہ سہی کشتی کی طرف ساحل کر دے
تو اپنی خوشی کا مالک ہے، کیا تاب کسی کی اف جو کرے
محفل کو بنا دے ویرانہ ویرانے کو بنا دے محفل کر دے
اس رہروِ راہِ الفت کو دیکھے کوئی شام کے عالم میں
جب اٹھ کے غبارِ راہگذر نظروں سے نہاں منزل کر دے
گر ذوقِ طلب ہی دیکھنا ہے منظور تجھے دیوانے کا
ہر نقش بنے زنجیرِ قدم اتنی تو کڑی منزل کر دے
قمر جلالوی

دل کو ہے درد ،درد کو ہے دل لیئے ہوئے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 113
دونوں ہیں ان کے ہجر کا حاصل لیئے ہوئے
دل کو ہے درد ،درد کو ہے دل لیئے ہوئے
دیکھا خدا پہ چھوڑ کہ کشتی کو نا خدا
جیسے خود آگیا کوئی ساحل لیئے ہوئے
دیکھ ہمارے صبر کی ہمت نہ ٹوٹ جائے
تم رات دن ستاؤ مگر دل لیئے ہوئے
وہ شب بھی یاد ہے کہ میں پہنچا تھا بزم میں !
اور تم اٹھے تھے رونق محفل لیئے ہوئے
اپنی ضروریات ہیں اپنی ضروریات
آنا پڑا مطلب تمہیں دل لیئے ہوئے
بیٹھا جو دل تو چاند دکھا کر کہا قمر !
وہ سامنے چراغ ہے منزل لیئے ہوئے
قمر جلالوی

قسم کھائی ہوئی توبہ بڑی مشکل سے ٹوٹے گی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 102
غلط ہے شیخ کی ضد ساقی محفل سے ٹوٹے گی
قسم کھائی ہوئی توبہ بڑی مشکل سے ٹوٹے گی
تمھیں رستے میں رہبر چھوڑ دیں گے قافلے والو
اگر ہمت تمھاری دوریِ منزل سے ٹوٹے گی
جو یہ کار نمایاں تو میری سخت جانی کا
بھلا تلوار زورِ بازوئے قاتل سے ٹوٹے گی
نگاہِ قیس ٹکراتی رہے سارباں کب تک
یہ بندش بھی کسی دن پردۂ محمل سے ٹوٹے گی
غرورِ نا خدائی سامنے آ جائے گا اک دن
یہ کشتی یک بہ یک ٹکرا کے جب ساحل سے ٹوٹے گی
قمر اختر شماری کے لئے تیار ہو جاؤ
کہ اب رسمِ محبت اس مہِ کامل سے ٹوٹے گی
قمر جلالوی

نہ جب مشکل سمجھتے تھے نہ اب شکل سمجھتے ہیں

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 78
ہم اہلِ عشق آساں عشق کی منزل سمجھتے ہیں
نہ جب مشکل سمجھتے تھے نہ اب شکل سمجھتے ہیں
ہم اس مشکل سے بچنا ناخدا مشکل سمجھتے ہیں
ادھر طوفان ہوتا ہے جدھر ساحل سمجھتے ہیں
یہ کہہ دے دل کی مجبوری ہمیں اٹھنے نہیں دیتی
اشارے ورنہ ہم اے بانیِ محفل سمجھتے ہیں
تعلق جب نہیں ہے آپ کی محفل میں کیوں آؤں
مجھے سرکار کیا پروانۂ محفل سمجھتے ہیں
ہماری وضع داری ہے جو ہم خاموش ہیں ورنہ
یہ رہزن ہی جنھیں ہم رہبرِ منزل سمجھتے ہیں
قمر جلالوی

جاؤ بس اب مل چکے کشتی سے تم ساحل سے ہم

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 54
چھوٹ سکتے ہیں نہیں طوفاں کی شکل سے ہم
جاؤ بس اب مل چکے کشتی سے تم ساحل سے ہم
جا رہے ہیں راہ میں کہتے ہوئے یوں دل سے ہم
تو نہ رہ جانا کہیں اٹھیں اگر محفل سے ہم
وہ سبق آئیں ہیں لے کر اضطرابِ دل سے ہم
یاد رکھیں گے کہ اٹھتے تھے تری محفل سے ہم
اب نہ آوازِ جرس ہے اور نہ گردِ کارواں
یا تو منزل رہ گئی یا رہ گئے منزل سے ہم
روکتا تھا نا خدا کشتی کہ طوفاں آگیا
تم جہاں پر ہو بس اتنی دور تھے ساحل سے ہم
شکریہ اے قمر تک پہنچانے والو شکریہ
اب اکیلے ہی چلے جائیں گے اس منزل سے ہم
لاکھ کوشش کی مگر پھر بھی نکل کر ہی رہے
گھر سے یوسفؑ خلد سے آدمؑ تری محفل سے ہم
ڈب جانے کی خبر لائی تھیں موجیں تم نہ تھے
یہ گوآ ہی بھی دلا دیں گے لبِ ساحل سے ہم
شام کی باتیں سحر تک خواب میں دیکھا کیے
جیسے سچ مچ اٹھ رہے ہیں آپ کی محفل سے ہم
کیسی دریا کی شکایت کیسا طوفاں گلہ
اپنی کشتی آپ لے کر آئے تھے ساحل سے ہم
جور میں رازِ کرم طرزِ کرم میں رازِ جور
آپ کی نظروں کو سمجھے ہیں بڑی مشکل سے ہم
وہ نہیں تو اے قمر ان کی نشانی ہی سہی
داغِ فرقت کو لگائے پھر رہے ہیں دل سے ہم
قمر جلالوی

راہبر تو لوٹ لے شکوہ کریں منزل سے ہم

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 53
متفق کیونکر ہوں ایسے مشورے پر دل سے ہم
راہبر تو لوٹ لے شکوہ کریں منزل سے ہم
راہبر کا ہو بھلا پہلے ہی گھر لٹو دئیے
لوٹ کر جائیں تو جائیں بھی کہاں منزل سے ہم
شمع گل کر دینے والے ہو گئی روشن یہ بات
ٹھوکریں کھاتے ہوئے نکلیں تری محفل سے ہم
ہم کو دریا برد کرنے والے وہ دن یاد کر
تجھ کو طوفاں میں بچانے آئے تھے ساحل سے ہم
یہ نہیں کہتے کہ دولت رات میں لٹ جائے گی
ہم پہ احساں ہے کہ سوتے ہیں بڑی مشکل سے ہم
ہی نہ کہئیے غم ہوا کشتی کا یوں فرمائیے
اک تماشہ تھا جسے دیکھا کیے ساحل سے ہم
اب تو قتلِ عام اس صورت سے روکا جائے گا
بڑھ کے خنجر چھین کیں گے پنجۂ قاتل سے ہم
رسمِ حسن و عشق میں ہوتی ہیں کیا پابندیاں
آپ پوچھیں شمع سے پروانۂ محفل سے ہم
کس خطا پر خوں کیئے اے مالکِ روزِ جزا
تو اگر کہہ دے تو اتنا پوچھ لیں قاتل سے ہم
موجِ طوفاں سے بچا لانے پہ اتنا خوش نہ ہو
اور اگر اے ناخدا ٹکرا گئے ساحل سے ہم
نام تو اپنا چھپا سکتے ہیں لیکن کیا کریں
اے قمر مجبور ہو جاتے ہیں داغِ دل سے ہم
قمر جلالوی

کوئی طوفاں ہو گا ناخدا ساحل تو کیا ہو گا

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 22
سکوں بہر محبت میں ہمیں حاصل تو کیا ہو گا
کوئی طوفاں ہو گا ناخدا ساحل تو کیا ہو گا
ترے کہنے سے تیرا نام بھی لوں گا محشر میں
مگر مجھ سے اگر پوچھا گیا قاتل تو کیا ہو گا
قفس سے چھوٹ کر صیاد دیکھ آئینگے گلشن بھی
ہمارا آشیاں رہنے کے اب قابل تو کیا ہو گا
سرِ محشر میں اپنے خون سے انکار تو کر دوں
مگر چھینٹے ہوئے تلوار پر قاتل تو کیا ہو گا
قمر کے نام سے شرمانے والے سیر تاروں کی
نکل آیا جو ایسے میں مہِ کامل تو کیا ہو گا
قمر جلالوی

مفت میں مشہور میں لوگوں میں عامل ہو گیا

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 36
وہ پری وش عشق کے افسوں سے مائل ہو گیا
مفت میں مشہور میں لوگوں میں عامل ہو گیا
میں نہیں فرہاد، وہ خسرو نہیں، پھر کیا سبب؟
غیر کا مائل جو وہ شیریں شمائل ہو گیا
اشک باری ہم کناری کی ہوس میں رات تھی
قلزمِ گریہ کو اس کا دھیان ساحل ہو گیا
زخم میرے خنجرِ خوں ریز تھے اغیار کو
بے وفائی سے خجل کس وقت قاتل ہو گیا
اہلِ وحشت کو مری شورش سے لازم ہے خطر
میں وہ مجنوں ہوں کہ مجنوں کے مقابل ہو گیا
رشکِ خسرو بے تصرف، نازِ شیریں بے اثر
سینۂ فرہاد مثلِ بے ستوں، سِل ہو گیا
ہے خراشِ ناخنِ غم میں بھی کیا بالیدگی
جو ہلالِ غرہ تھا، سو ماہِ کامل ہو گیا
عید کے دن ذبح کرنا اور بھی اچھا ہوا
حلقۂ اسلام میں وہ شوخ داخل ہو گیا
اس کے اٹھتے ہی یہ ہلچل پڑ گئی بس بزم میں
طورِ روزِ حشر سب کو طورِ محفل ہو گیا
ہوش تو دیکھو کہ سن کر میری وحشت کی خبر
چھوڑ کر دیوانہ پن کو قیس عاقل ہو گیا
ہاتھ اٹھایا اس نے قتلِ بے گنہ سے میرے بعد
طالع اغیار سے جلاد عادل ہو گیا
حسن کے اعجاز نے تیرے مٹایا کفر کو
تیرے آگے نقشِ مانی، نقشِ باطل ہو گیا
میرے مرتے دم جو رویا وہ بڑی تسخیر تھی
آبِ چشمِ یار آبِ چاہِ بابل ہو گیا
ہے عدم میں بھی تلاشِ سرمہ و مشک و نمک
شیفتہ تیغِ نگہ سے کس کی گھائل ہو گیا
مصطفٰی خان شیفتہ

جان جائے تو بلا سے، پہ کہیں دِل آئے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 204
لطفِ نظّارۂ قاتِل دمِ بسمل آئے
جان جائے تو بلا سے، پہ کہیں دِل آئے
ان کو کیا علم کہ کشتی پہ مری کیا گزری
دوست جو ساتھ مرے تا لبِ ساحل آئے
وہ نہیں ہم، کہ چلے جائیں حرم کو، اے شیخ!
ساتھ حُجّاج کے اکثر کئی منزِل آئے
آئیں جس بزم میں وہ، لوگ پکار اٹھتے ہیں
"لو وہ برہم زنِ ہنگامۂ محفل آئے”
دیدہ خوں بار ہے مدّت سے، ولے آج ندیم
دل کے ٹکڑے بھی کئی خون کے شامل آئے
سامنا حور و پری نے نہ کیا ہے، نہ کریں
عکس تیرا ہی مگر، تیرے مقابِل آئے
اب ہے دِلّی کی طرف کوچ ہمارا غالب!
آج ہم حضرتِ نوّاب سے بھی مِل آئے
مرزا اسد اللہ خان غالب

تپشِ شوق نے ہر ذرّے پہ اک دل باندھا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 103
جب بہ تقریبِ سفر یار نے محمل باندھا
تپشِ شوق نے ہر ذرّے پہ اک دل باندھا
اہل بینش نے بہ حیرت کدۂ شوخئ ناز
جوہرِ آئینہ کو طوطئ بسمل باندھا
یاس و امید نے اک عرَبدہ میداں مانگا
عجزِ ہمت نے طِلِسمِ دلِ سائل باندھا
نہ بندھے تِشنگئ ذوق کے مضموں، غالب
گرچہ دل کھول کے دریا کو بھی ساحل باندھا
مرزا اسد اللہ خان غالب

عبادت برق کی کرتا ہوں اور افسوس حاصل کا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 78
سراپا رہنِ عشق و ناگزیرِ الفتِ ہستی
عبادت برق کی کرتا ہوں اور افسوس حاصل کا
بقدرِ ظرف ہے ساقی! خمارِ تشنہ کامی بھی
جوتو دریائے مے ہے، تو میں خمیازہ ہوں ساحل کا
مرزا اسد اللہ خان غالب

میری خوں ریزی ہی کا مائل ہے

دیوان پنجم غزل 1772
سخت بے رحم آہ قاتل ہے
میری خوں ریزی ہی کا مائل ہے
دور مجنوں کا ہو گیا آخر
یاں جنوں کا ابھی اوائل ہے
نکلے اس راہ کس طرح وہ ماہ
نہ تو طالع نہ جذب کامل ہے
مثل صورت ہیں جلوہ کے حیراں
ہائے کیا شکل کیا شمائل ہے
ہاتھ رکھ لیوے تو کہے کہ بس اب
کیا جیے گا بہت یہ گھائل ہے
حق میں اس بت کے بد کہیں کیونکر
وہ ہمارا خداے باطل ہے
سچ ہے راحت تو بعد مرنے کے
پر بڑا واقعہ یہ ہائل ہے
تیغ اگر درمیاں رہے تو رہے
یار میرا جوان جاہل ہے
رو نہیں چشم تر سے اب رکھیے
سیل اسی در کا کب سے سائل ہے
حال ہم ڈوبتوں کا کیا جانے
جس کو دریا پہ سیر ساحل ہے
میر کب تک بحال مرگ جئیں
کچھ بھی اس زندگی کا حاصل ہے
میر تقی میر

ناقصوں میں رہیے کیا رہیے تو صاحب دل کے پاس

دیوان پنجم غزل 1630
کوئی دن کریے معیشت جاکسو کامل کے پاس
ناقصوں میں رہیے کیا رہیے تو صاحب دل کے پاس
بوے خوں بھک بھک دماغوں میں چلی آتی ہے کچھ
نکلی ہے ہوکر صبا شاید کسو گھائل کے پاس
شور و ہنگامہ بہت دعویٰ ضروری ہے بہت
کاشکے مجھ کو بلاویں حشر میں قاتل کے پاس
گرد سے ہے ناقۂ سلمیٰ کو مشکل رہروی
خاک کس کی ہے کہ مشتاق آتی ہے محمل کے پاس
تل سے تیرے منھ کے دل تھا داغ اے برناے چرب
خال یہ اک اور نکلا ظالم اگلے تل کے پاس
دل گداز عشق سے سب آب ہوکر بہ گیا
مرگئے پر گور میری کریے تو بے دل کے پاس
ملیے کیونکر نہ کف افسوس جی جاتا ہے میر
ڈوبتی ہے کشتی ورطے سے نکل ساحل کے پاس
میر تقی میر

یہ دوانہ بائولا عاقل ہے میاں

دیوان دوم غزل 904
کیا عبث مجنوں پئے محمل ہے میاں
یہ دوانہ بائولا عاقل ہے میاں
قند کا کون اس قدر مائل ہے میاں
جو ہے ان ہونٹوں ہی کا قائل ہے میاں
ہم نے یہ مانا کہ واعظ ہے ملک
آدمی ہونا بہت مشکل ہے میاں
چشم تر کی خیر جاری ہے سدا
سیل اس دروازے کا سائل ہے میاں
مرنے کے پیچھے تو راحت سچ ہے لیک
بیچ میں یہ واقعہ حائل ہے میاں
دل کی پامالی ستم ہے قہر ہے
کوئی یوں دلتا ہے آخر دل ہے میاں
آج کیا فرداے محشر کا ہراس
صبح دیکھیں کیا ہو شب حامل ہے میاں
دل تڑپتا ہی نہیں کیا جانیے
کس شکار انداز کا بسمل ہے میاں
چاہیے پیش از نماز آنکھیں کھلیں
حیف اس کا وقت جو غافل ہے میاں
رنگ بے رنگی جدا تو ہے ولے
آب سا ہر رنگ میں شامل ہے میاں
سامنے سے ٹک ٹلے تو دق نہ ہو
آسماں چھاتی پر اپنی سل ہے میاں
دل لگی اتنی جہاں میں کس لیے
رہگذر ہے یہ تو کیا منزل ہے میاں
بے تہی دریاے ہستی کی نہ پوچھ
یاں سے واں تک سو جگہ ساحل ہے میاں
چشم حق بیں سے کرو ٹک تم نظر
دیکھتے جو کچھ ہو سب باطل ہے میاں
دردمندی ہی تو ہے جو کچھ کہ ہے
حق میں عاشق کے دوا قاتل ہے میاں
برسوں ہم روتے پھرے ہیں ابر سے
زانو زانو اس گلی میں گل ہے میاں
کہنہ سالی میں ہے جیسے خورد سال
کیا فلک پیری میں بھی جاہل ہے میاں
کیا دل مجروح و محزوں کا گلہ
ایک غمگیں دوسرے گھائل ہے میاں
دیکھ کر سبزہ ہی خرم دل کو رکھ
مزرع دنیا کا یہ حاصل ہے میاں
مستعدوں پر سخن ہے آج کل
شعر اپنا فن سو کس قابل ہے میاں
کی زیارت میر کی ہم نے بھی کل
لاابالی سا ہے پر کامل ہے میاں
میر تقی میر

ہاتھ پہنچا نہ پاے قاتل تک

دیوان اول غزل 260
دست و پا مارے وقت بسمل تک
ہاتھ پہنچا نہ پاے قاتل تک
کعبہ پہنچا تو کیا ہوا اے شیخ
سعی کر ٹک پہنچ کسی دل تک
درپئے محمل اس کے جیسے جرس
میں بھی نالاں ہوں ساتھ منزل تک
بجھ گئے ہم چراغ سے باہر
کہیو اے باد شمع محفل تک
نہ گیا میر اپنی کشتی سے
ایک بھی تختہ پارہ ساحل تک
میر تقی میر

آ کے ڈوبی جاتی ہے کشتی مری ساحل کے پاس

دیوان اول غزل 237
کیونکے نکلا جائے بحر غم سے مجھ بے دل کے پاس
آ کے ڈوبی جاتی ہے کشتی مری ساحل کے پاس
ہے پریشاں دشت میں کس کا غبار ناتواں
گرد کچھ گستاخ آتی ہے چلی محمل کے پاس
گرم ہو گا حشر کو ہنگامۂ دعویٰ بہت
کاشکے مجھ کو نہ لے جاویں مرے قاتل کے پاس
دور اس سے جوں ہوا دل پر بلا ہے مضطرب
اس طرح تڑپا نہیں جاتا کسو بسمل کے پاس
بوے خوں آتی ہے باد صبح گاہی سے مجھے
نکلی ہے بے درد شاید ہو کسو گھائل کے پاس
آہ نالے مت کیا کر اس قدر بیتاب ہو
اے ستم کش میر ظالم ہے جگر بھی دل کے پاس
میر تقی میر

کنارے آ لگے عمرِ رواں یا دل ٹھہر جائے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 32
کہیں تو کاروانِ درد کی منزل ٹھہر جائے
کنارے آ لگے عمرِ رواں یا دل ٹھہر جائے
اماں کیسی کہ موجِ خوں ابھی سر سے نہیں گزری
گزر جائے تو شاید بازوئے قاتل ٹھہر جائے
کوئی دم بادبانِ کشتیِ صہبا کو تہہ رکھو
ذرا ٹھہرو غبارِ خاطرِ محفل ٹھہر جائے
خُمِ ساقی میں جز زہرِ ہلاہل کچھ نہیں باقی
جو ہو محفل میں اس اکرام کے قابل، ٹھہر جائے
ہماری خامشی بس دل سے لب تک ایک وقفہ ہے
یہ طوفاں ہے جو پل بھر بر لبِ ساحل ٹھہر جائے
نگاہِ منتظر کب تک کرے گی آئینہ بندی
کہیں تو دشتِ غم میں یار کا محمل ٹھہر جائے
فیض احمد فیض

جو بھی قاتل ہے ہماری ہی طرح بسمل ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 301
کس کو دیں قتل کا اِلزام بڑی مشکل ہے
جو بھی قاتل ہے ہماری ہی طرح بسمل ہے
تیز دَھاروں نے حدیں توڑ کے رکھ دِیں ساری
اَب یہ عالم کہ جو دَریا ہے، وہی ساحل ہے
جو اَکیلے میں جلوسوں کا اُڑاتا ہے مذاق
وہ بھی اِس بھیڑ میں اوروں کی طرح شامل ہے
اِتنی اُمید نہ آتے ہوئے برسوں سے لگاؤ
حال بھی تو کسی ماضی ہی کا مستقبل ہے
شوق دونوں کو ہے ملنے کا، مگر رَستے میں
ایک پندار کی دیوارِ گراں حائل ہے
زہرۂ فکر کم آمیز بہت ہے، عرفانؔ
کم سے کم اُس کا تعارف تو تمہیں حاصل ہے
عرفان صدیقی

اس مسافت پر طبعیت شوق سے مائل رہی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 494
ہر قدم پر کوچہ ء جاناں میں گو مشکل رہی
اس مسافت پر طبعیت شوق سے مائل رہی
ایک اک گنتا رہا ضربِ مسلسل ایک اک
دل کی دھڑکن کپکپاتی یاد میں شامل رہی
اک طرف کتنے مسافر راستے میں رہ گئے
اک طرف پائے طلب کی منتظر منزل رہی
آخری الہام کی پہلی کرن سے پیشتر
چارہ گر آتے رہے بیچارگی بسمل رہی
یہ بنامِ امن جنگیں یہ ہلاکت خیز خیر
زندگی تہذیب کی دہلیز پر گھائل رہی
خشک پتے کی طرح اڑنا مجھے اچھا لگا
سچ یہی ہے عمر کا آوارگی حاصل رہی
ڈوبنے سے جو بچالیتی ہے اپنی زندگی
بس وہی کشتی سمندر کا سدا ساحل رہی
تنگ کرتی جا رہی ہے بس یہی الجھن مجھے
کوئی شے تھی پاس میرے جونہیں اب مل رہی
پھر کوئی منصور خوشبو ملنے والی ہے مجھے
ان دنوں باغیچے میں پھرہے چنبلی کھل رہی
منصور آفاق

آنکھ کھلی تو فیری ساحل چھوڑ گئی تھی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 487
سونی سونی پورٹ کی جھلمل چھوڑ گئی تھی
آنکھ کھلی تو فیری ساحل چھوڑ گئی تھی
فلم کا ہیرو دیکھ کے بھولی بھالی لڑکی
سینما ہال کی کرسی پر دل چھوڑ گئی تھی
شاید ملک سے باہر ننگ زیادہ تھا کچھ
مزدوروں کو کپڑے کی مل چھوڑ گئی تھی
اس نے میرے ہاتھ پہ رکھا تھا اک وعدہ
جاتے ہوئے کچھ اور مسائل چھوڑ گئی تھی
میں نے اپنے جسم سے پردہ کھنچ لیا تھا
اور مجھے پھر ساری محفل چھوڑ گئی تھی
منصور آفاق

سفر رستہ رہے گا بس، کبھی منزل نہیں ہو گا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 73
تمہیں یہ پاؤں سہلانے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا
سفر رستہ رہے گا بس، کبھی منزل نہیں ہو گا
مجھے لگتا ہے میری آخری حد آنے والی ہے
جہاں آنکھیں نہیں ہوں گی دھڑکتا دل نہیں ہو گا
محبت کے سفر میں تیرے وحشی کو عجب ضد ہے
وہاں کشتی سے اترے گا جہاں ساحل نہیں ہو گا
مری جاں ویری سوری اب کبھی چشمِ تمنا سے
یہ اظہارِ محبت بھی سرِ محفل نہیں ہو گا
سکوتِ دشت میں کچھ اجنبی سے نقشِ پا ہوں گے
کوئی ناقہ نہیں ہو گا کہیں محمل نہیں ہو گا
ذرا تکلیف تو ہو گی مگر اے جانِ تنہائی
تجھے دل سے بھلا دینا بہت مشکل نہیں ہو گا
یہی لگتا ہے بس وہ شورشِ دل کا سبب منصور
کبھی ہنگامہء تخلیق میں شامل نہیں ہو گا
منصور آفاق

ہم بہت خوش ہیں آپ سے مل کے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 228
تھے ہی کیا اور مرحلے دل کے
ہم بہت خوش ہیں آپ سے مل کے
اور اک دل نواز انگڑائی
راز کھلنے لگے ہیں محفل کے
لاؤ طوفاں میں ڈال دیں کشتی
کون کھائے فریب ساحل کے
رنگ و بو کے مظاہرے کب تک
پھول تنگ آ گئے ہیں کھل کھل کے
اڑ رہا ہے غبار سا باقیؔ
چھپ نہ جائیں چراغ منزل کے
باقی صدیقی

یرے دشمن رہیں میرے دل میں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 112
کیا ہے اس اجڑی ہوئی منزل میں
میرے دشمن رہیں میرے دل میں
وہم آنے لگے کیا کیا دل میں
رک گیا قافلہ کس منزل میں
سوچتا کچھ ہے تو کرتا کچھ ہے
آدمی ہوتا ہے جب مشکل میں
موج جو آتی ہے لٹ جاتی ہے
کون سی بات نہیں ساحل میں
جانے کیا دل کو ہوا ہے باقیؔ
جی نہیں لگتا کسی محفل میں
باقی صدیقی

کیا تیرےغم سے روشنی کچھ مل گئی ہے پھر

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 77
احساس زندگی کی کلی کھل گئی ہے پھر
کیا تیرے غم سے روشنی کچھ مل گئی ہے پھر
ہر نقش اک خراش ہے، ہر رنگ ایک داغ
تصویر آئنے کے مقابل گئی ہے پھر
دو چار گام ساتھ چلے ہیں پھر اہل غم
کچھ دور تک صدائے سلاسل گئی ہے پھر
کچھ آدمی گلی میں کھڑے ہیں ادھر ادھر
شاید جہاں کو بات کوئی مل گئی ہے پھر
ٹوٹا ہے پھر غبار سرراہ کا طلسم
ہر راہرو کے سامنے منزل گئی ہے پھر
چلئے کہیں تو کچھ مجھے اپنی خبر ملے
وہ اک نظر جو لے کے مرا دل گئی ہے پھر
باقیؔ وہ بادباں کھلے وہ کشتیاں چلیں
وہ ایک موج جانب ساحل گئی ہے پھر
باقی صدیقی