ٹیگ کے محفوظات: سات

رکھ دی گئی بگاڑ کے ملت کی نفسیات

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 41
تا عمر اقتدار کو دیتے ہوئے ثبات
رکھ دی گئی بگاڑ کے ملت کی نفسیات
پیڑوں پہ پنچھیوں میں عجب سنسنی سی ہے
گیدڑ ہرن کی جب سے لگائے ہوئے ہیں گھات
مخلوق ہو کوئی بھی مگر دیکھنا یہ ہے
کرتا ہے کیا سلوک، یہاں کون، کس کے سات
اشکوں سے کب دُھلی ہے سیاہی نصیب کی
تسخیر جگنوؤں سے ہوئی کب سیاہ رات
ہم نے یہ بات کرمکِ شب تاب سے سنی
ظلمت نہ دے سکی کسی اِک بھی کرن کو مات
ماجدؔ کسی کے ہاتھ نہ آئے نہ آ سکے
کٹ کر پتنگ ڈور سے، منہ سے نکل کے بات
ماجد صدیقی

فوّاروں سی پھُوٹ رہی ہے، آنگن آنگن رات

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 35
کیا کر لے گی اِن اشکوں، اِن تاروں کی بارات
فوّاروں سی پھُوٹ رہی ہے، آنگن آنگن رات
اپنی خشک تنی کے نوحے، کر کے لبوں سے محو
پانی ہی کے گُن گاتے ہیں، پیڑ سے جھڑتے پات
ہم ایسے پچھڑے لوگوں کے، دل کا حال نہ پوچھ
جنگلی گھاس کی صورت چمٹیں، قدم قدم صدمات
جیون ہے سائے کی مسافت، پل میں اور سے اور
شکلیں بدلے اور تیاگے اپنوں تک کا سات
کس نے چُلوّ پانی سے مُجھ پیڑ کی چاہی خیر
کس نے قبر پہ حاتم کی ماری ہے، ماجدؔ لات
ماجد صدیقی

تیرا میرا سات

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 72
پورا چاند اور رات
تیرا میرا سات
خوشبُو تک میں بھی
کیا کچھ ہیں درجات
کون کرے تسلیم
سچے حرف کی ذات
اِک ناد ر تصویر
پیڑ سے جھڑتے پات
کاشانوں کے پاس
سانپ لگائیں گھات
نشتر جیسی تیز
ماجد ؔ تیری بات
ماجد صدیقی

اَب تو چاروں اور ہمیں وہ رات دکھائی دیتی ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 81
پل پل بُجھتی جس میں اپنی ذات دکھائی دیتی ہے
اَب تو چاروں اور ہمیں وہ رات دکھائی دیتی ہے
صحن چمن میں پہلا ہی سا رقص و سرُود ہوا کا ہے
ہر سُو گرتے پتّوں کی برسات دکھائی دیتی ہے
جانے کس کا خوف ہے جو کر دیتا ہے محتاط ہمیں
ہونٹوں پر اٹکی اٹکی ہر بات دکھائی دیتی ہے
شاخِ طرب سے جھڑنے والی، گردِ الم میں لپٹی سی
صُورت صُورت پیڑ سے بچھڑا پات دکھائی دیتی ہے
سودا ہے درپیش ہمیں جو آن کا ہے یا جان کا ہے
صُورت جینے مرنے کی اک سات دکھائی دیتی ہے
موسمِ دشت میں نم ہو ماجدؔ کب تک آبلہ پائی سے
اَب تو ہمیں اِس رن میں بھی کُچھ مات دکھائی دیتی ہے
ماجد صدیقی

بڑا دشوار ہے حق بات کہنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 98
چمن کی تیرگی کو رات کہنا
بڑا دشوار ہے حق بات کہنا
جو دھبے گرد کے اشجار پر ہیں
انہیں دھبے نہ کہنا پات کہنا
جو انساں کل فرشتہ تھا نظر میں
اُسے بھی پڑ گیا بد ذات کہنا
شریکِ راحت یاراں نہ ہونا
بجائے آفریں ہیہات کہنا
زباں پر حرفِ حق آئے اگر تو
اُسے تم تنُدیٔ جذبات کہنا
نہ خفت ماننا کوئی تم اپنی
ہماری جیت ہی کو مات کہنا
یہ دنیا ہے یہاں رہنے کو ماجدؔ
پڑے سچ جھوٹ سب اِک سات کہنا
ماجد صدیقی

لاتے ہیں ایک قبر کی چادر بھی سات ہم

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 144
بازار سے ہر عید سے پہلے کی رات ہم
لاتے ہیں ایک قبر کی چادر بھی سات ہم
تاریخ نے دئیے ہیں ہمیں نام کیا سے کیا
کرنے گئے جو زیرِ نگیں سومنات ہم
تیور ہی اہلِعدل کے کچھ اس طرح کے تھے
پلٹے ہیں حلق ہی میں لیے اپنی بات ہم
لینے دیا جو تنُدیٔ موسم نے دم کبھی
نکلیں گے ڈھونڈنے کو کہیں پھول پات ہم
اپنے سفر کی سمت ہی الٹی ہے جب توکیوں
کرتے پھریں تلاش نہ راہِ نجات ہم
دربار میں نزاکت احساس کب روا
ماجدؔ کسے سُجھائیں نظر کے نکات ہم
ماجد صدیقی

کوئی صورت ہو کہ برسات کٹے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 106
دن ٹھہر جائے ، مگر رات کٹے
کوئی صورت ہو کہ برسات کٹے
خوشبوئیں مجھ کو قلم کرتی گئیں
شاخ در شاخ مرے ہات کٹے
موجہ ءِ گُل ہے کہ تلوار کوئی
درمیاں سے ہی مناجات کٹے
حرف کیوں اپنے گنوائیں جا کر
بات سے پہلے جہاں بات کٹے
چاند! آ مِل کے منائیں یہ شب
آج کی رات ترے سات کٹے
پُورے انسانوں میں گُھس آئے ہیں
سر کٹے ، جسم کٹے ، ذات کٹے
پروین شاکر

لے اڑی جانے کہاں صرصرِ حالات ہمیں

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 44
اب میسّر نہیں فرصت کے وہ دن رات ہمیں
لے اڑی جانے کہاں صرصرِ حالات ہمیں
آج وہ یوں نگہِ شوق سے بچ کر گزرے
جیسے یاد آئے کوئی بھولی ہوئی بات ہمیں
کیسے اڑتے ہوئے لمحوں کا تعاقب کیجے
دوستو اب تو یہی فکر ہے دن رات ہمیں
نہ سہی کوئی، ہجومِ گل و لالہ نہ سہی
دشت سے کم بھی نہیں کنجِ خیالات ہمیں
وہ اگر غیر نہ سمجھے تو کوئی بات کریں
دلِ ناداں سے بہت سی ہیں شکایات ہمیں
دھوپ کی لہر ہے تو، سایۂِ دیوار ہیں ہم
آج بھی ایک تعلق ہے ترے سات ہمیں
رنگ و مستی کے جزیروں میں لیے پھرتے ہیں
اس کی پائل سے چرائے ہوئے نغمات ہمیں
شکیب جلالی

پہروں چوائو ان نے رکھا بات بات کا

دیوان چہارم غزل 1314
قصہ کہیں تو کیا کہیں ملنے کی رات کا
پہروں چوائو ان نے رکھا بات بات کا
جرأت سے گرچہ زرد ہوں پر مانتا ہے کون
منھ لال جب تلک نہ کروں پانچ سات کا
کیونکر بسر کرے غم و غصہ میں ہجر کے
خوگر جو ہو کسو کے کوئی التفات کا
جاگہ سے لے گیا ہمیں اس کا خرام ناز
ٹھہرائو ہوسکا نہ قرار و ثبات کا
ڈرتا ہوں مالکان جزا چھاتی دیکھ کر
کہنے لگیں نہ واہ رے زخم اس کے ہاتھ کا
واعظ کہے سو سچ ہے ولے مے فروش سے
ہم ذکر بھی سنا نہیں صوم و صلوٰت کا
بھونکا کریں رقیب پڑے کوے یار میں
کس کے تئیں دماغ عفف ہے سگات کا
ان ہونٹوں کا حریف ہو ظلمات میں گیا
پردے میں رو سیاہ ہے آب حیات کا
عالم کسو حکیم کا باندھا طلسم ہے
کچھ ہو تو اعتبار بھی ہو کائنات کا
گر یار میر اہل ہے تو کام سہل ہے
اندیشہ تجھ کو یوں ہی ہے اپنی نجات کا
میر تقی میر

دن گذر جائیں ہیں پر بات چلی جاتی ہے

دیوان اول غزل 594
کچھ تو کہہ وصل کی پھر رات چلی جاتی ہے
دن گذر جائیں ہیں پر بات چلی جاتی ہے
رہ گئے گاہ تبسم پہ گہے بات ہی پر
بارے اے ہم نشیں اوقات چلی جاتی ہے
ٹک تو وقفہ بھی کر اے گردش دوراں کہ یہ جان
عمر کے حیف ہی کیا سات چلی جاتی ہے
یاں تو آتی نہیں شطرنج زمانہ کی چال
اور واں بازی ہوئی مات چلی جاتی ہے
روز آنے پہ نہیں نسبت عشقی موقوف
عمر بھر ایک ملاقات چلی جاتی ہے
شیخ بے نفس کو نزلہ نہیں ہے ناک کی راہ
یہ ہے جریان منی دھات چلی جاتی ہے
خرقہ مندیل و ردا مست لیے جاتے ہیں
شیخ کی ساری کرامات چلی جاتی ہے
ہے موذن جو بڑا مرغ مصلی اس کی
مستوں سے نوک ہی کی بات چلی جاتی ہے
پائوں رکتا نہیں مسجد سے دم آخر بھی
مرنے پر آیا ہے پر لات چلی جاتی ہے
ہر سحر درپئے آرام مے آشاماں ہے
مکر و طامات کی اک گھات چلی جاتی ہے
ایک ہم ہی سے تفاوت ہے سلوکوں میں میر
یوں تو اوروں کی مدارات چلی جاتی ہے
میر تقی میر

سینے پہ ایک درد کی سل رکھ کے بات کر

مجید امجد ۔ غزل نمبر 25
گہرے سُروں میں عرضِ نوائے حیات کر
سینے پہ ایک درد کی سل رکھ کے بات کر
یہ دوریوں کا سیلِ رواں، برگِ نامہ بھیج
یہ فاصلوں کے بندِ گراں، کوئی بات کر
تیرا دیار، رات، مری بانسری کی لے
اس خوابِ دل نشیں کو مری کائنات کر
میرے غموں کو اپنے خیالوں میں بار دے
ان الجھنوں کو سلسلۂ واقعات کر
آ، ایک دن، میرے دلِ ویراں میں بیٹھ کر
اس دشت کے سکوتِ سخن جُو سے بات کر
امجد نشاطِ زیست اسی کشمکش میں ہے
مرنے کا قصد، جینے کا عزم، ایک سات کر!
مجید امجد

کس قیامت کی رات گزری ہے

مجید امجد ۔ غزل نمبر 78
دل سے ہر گزری بات گزری ہے
کس قیامت کی رات گزری ہے
چاندنی، نیم وا دریچہ، سکوت
آنکھوں آنکھوں میں رات گزری ہے
ہائے وہ لوگ، خوبصورت لوگ
جن کی دُھن میں حیات گزری ہے
کسی بھٹکے ہوئے خیال کی موج
کتنی یادوں کے سات گزری ہے
تمتماتا ہے چہرۂ ایام
دل پہ کیا واردات گزری ہے
پھر کوئی آس لڑکھڑائی ہے
کہ نسیمِ حیات گزری ہے
بجھتے جاتے ہیں دکھتی پلکوں پہ دیپ
نیند آئی ہے، رات گزری ہے
مجید امجد

نہ اب وہ ان کی بےرخی نہ اب وہ التفات ہے

مجید امجد ۔ غزل نمبر 22
یہ کیا عجیب راز ہے، سمجھ سکوں تو بات ہے
نہ اب وہ ان کی بےرخی نہ اب وہ التفات ہے
مری تباہیوں کا بھی فسانہ کیا فسانہ ہے
نہ بجلیوں کا تذکرہ نہ آشیاں کی بات ہے
یہ کیا سکوں ہے! اس سکوں میں کتنے اضطراب ہیں!
یہ کس کا میرے سینے پر خنک خنک سا ہات ہے
نگاہ میں بسا بسا، نگاہ سے بچا بچا
رکا رکا، کھچا کھچا، یہ کون میرے سات ہے؟
چراغ بجھ چکے، پتنگے جل چکے، سحر ہوئی
مگر ابھی مری جدائیوں کی رات رات ہے
مجید امجد