ٹیگ کے محفوظات: ساتھی

ساتھی

میں اس کو پانا بھی چاہوں

تو یہ میرے لیے ناممکن ہے

وہ آگے آگے تیز خرام

میں اس کے پیچھے پیچھے

اُفتاں خیزاں

آوازیں دیتا

شور مچاتا

کب سے رواں ہوں

برگِ خزاں ہوں !

جب میں اُکتا کر رک جاؤں گا

وہ بھی پل بھر کو ٹھہر کر

مجھ سے آنکھیں چار کرے گا

پھر اپنی چاہت کا اقرار کرے گا

پھر میں

منہ موڑ کے

تیزی سے گھر کی جانب لوٹوں گا

اپنے نقشِ قدم روندوں گا

اب وہ دل تھام کے

میرے پیچھے لپکتا آئے گا

ندی نالے

پتھر پَربَت پھاند تا آجائے گا

میں آگے آگے

وہ پیچھے پیچھے

دونوں کی رفتار ہے اک جیسی

پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے

وہ مجھ کو

یا میں اس کو پالوں

شکیب جلالی

ساتھی

پھول کی خوشبو ہنستی آئی

میرے بسیرے کو مہکانے

میں خوشبو میں، خوشبو مجھ میں

اس کو میں جانوں، مجھ کو وہ جانے

مجھ سے چھو کر، مجھ میں بس کر

اس کی بہاریں، اس کے زمانے

لاکھوں پھولوں کی مہکاریں

رکھتے ہیں گلشن ویرانے

مجھ سے الگ ہیں، مجھ سے جدا ہیں

میں بیگانہ، وہ بیگانے

ان کو بکھیرا، ان کو اڑایا

دستِ خزاں نے، موجِ صبا نے

بھولا بھٹکا، ناداں قطرہ

آنکھوں کی پتلی کو سجانے

آنسو بن کر دوڑا آیا

میری پلکیں اس کے ٹھکانے

اس کا تھرکنا، اس کا تڑپنا

میرے قصے، میرے فسانے

اس کی ہستی میری ہستی

اس کے موتی میرے خزانے

باقی سارے گوہرپارے

خاک کے ذرّے، ریت کے دانے

پربت کی اونچی چوٹی سے

دامن پھیلایا جو گھٹا نے

ٹھنڈی ہوا کے ٹھنڈے جھونکے

بےخود، آوارہ، مستانے

اپنی ٹھنڈک لے کر آئے

میری آگ میں گھل مل جانے

ان کی ہستی کا پیراہن

میری سانس کے تانے بانے

ان کے جھکولے، میری امنگیں

ان کی نوائیں، میرے ترانے

باقی سارے طوفانوں کو

جذب کیا پہنائے فضا نے

فطرت کی یہ گوناگونی

گلشن، بن، وادی، ویرانے

کانٹے، کلیاں، نور، اندھیرا

انجمنیں، شمعیں، پروانے

لاکھوں شاطر، لاکھوں مہرے

پھیلے ہیں شطرنج کے خانے

جانتا ہوں میں یہ سب کیا ہیں

صہبا سے خالی پیمانے

بھوکی مٹی کو سونپے ہیں

دنیا نے اپنے نذرانے

جس نے میرا دامن تھاما

آیا جو مجھ میں بس جانے

میرے طوفانوں میں بہنے

میری موجوں میں لہرانے

میرے سوزِ دل کی لو سے

اپنے من کی جوت جگانے

زیست کی پہنائی میں پھیلے

موت کی گیرائی کو نہ جانے

اس کا بربط میرے نغمے

اس کے گیسو میرے شانے

میری نظریں اس کی دنیا

میری سانسیں اس کے زمانے

مجید امجد

کیسے سمجھ لیتا میں اپنا ساتھی اس کو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 230
وہ امریکا تھی ہر بات روا تھی اس کو
کیسے سمجھ لیتا میں اپنا ساتھی اس کو
جنگ نہیں ہو سکتی تھی اس بے پرواسے
میں نے فنا ہونا تھا اور بقا تھی اس کو
میرے ساتھ جہاں تھا پھر بھی ہار گیا میں
ایک مقدس ماں کی صرف دعا تھی اس کو
انجانے میں بھیگ گئی تھیں جلتی پلکیں
کچھ کہنے کی اور ضرورت کیا تھی اس کو
اپنے پیٹ پہ پتھر باندھ کے جو پھرتا تھا
بخش دیا ہے ایک سخی نے ہاتھی اس کو
دیکھ کے چہرہ کو منصور کہا پھولوں نے
راس میانوالی کی آب و ہوا تھی اس کو
منصور آفاق