ٹیگ کے محفوظات: سائے

آندھی کب آداب اپنائے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 73
آئے اور کہرام مچائے
آندھی کب آداب اپنائے
ہم پہ نگاہ پڑی ہے رُت کی
اُڑتی ریت ہمیں سہلائے
دکھلائیں ہر قد کو بڑھا کے
پچھلے پہر کے بڑھتے سائے
راہی ہمیشہ راہ نکالے
سانپ ہمیشہ پھن پھیلائے
بندہ خوشی خوشی کو پا کر
بچوں ایسی پینگ جُھلائے
وقت کی اَن جانی چالوں سے
کوہ بدن کا کُھرتا جائے
ماجد پائے رواں کیوں ٹھہرے
جب تک سانس نہ رُکنے پائے
ماجد صدیقی

چراغ بجھنے پہ آئے تو پھڑپھڑائے بہت

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 43
دمِ زوال ، رعونت زباں پہ لائے بہت
چراغ بجھنے پہ آئے تو پھڑپھڑائے بہت
یہی تو ڈُوبتے سُورج کا اِک کرشمہ ہے
بڑھائے قامتِ کوتاہ تک کے، سائے بہت
قلم کے چاک سے پھوٹے وہ، مثل بیلوں کے
جو لفظ ہم نے زباں کے تلے دبائے بہت
ستم ستم ہے کوئی جان دار ہو اُس کو
نگل کے آب بھی اِک بار تھرتھرائے بہت
ہمارے گھر ہی اُترتی نہ کیوں سحر ماجد
تمام رات ہمِیں تھے جو کلبلائے بہت
ماجد صدیقی

اُس ناری کے رنگ چُرائے ہم نے بھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 152
اِن ہونٹوں پر پھول کھِلائے ہم نے بھی
اُس ناری کے رنگ چُرائے ہم نے بھی
ہم بھی لائے اِن تک زہر تمّنا کا
امرت کو یہ لب ترسائے ہم نے بھی
لوٹ کے رنجش اور بھی اپنے آپ سے تھی
اہل حشم کو زخم دکھائے ہم نے بھی
سنگ بھگوئے پہلے اوس سے آنکھوں کی
اور پھر اُن میں بیج اُگائے ہم نے بھی
دے کے ہمیں پھر خود ہی زمیں نے چاٹ لئے
پھیلائے تھے کیا کچھ سائے ہم نے بھی
اچّھے دنوں کی یاد کے اُجلے پھولوں سے
دیکھ تو، کیا گلدان سجائے ہم نے بھی
چہرے پر آیات سجا کر اشکوں کی
ماجدؔ کیا کیا درس دلائے ہم نے بھی
ماجد صدیقی

یہاں دھوپ آ نہیں سکتی وہاں سائے نہیں جاتے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 114
لحد اور حشر میں یہ فرق کم پائے نہیں جاتے
یہاں دھوپ آ نہیں سکتی وہاں سائے نہیں جاتے
کسی محفل میں بھی ایسے چلن پائے نہیں جاتے
کہ بلوائے ہوئے مہماں اٹھوائے نہیں جاتے
زمیں پر پاؤں رکھنے دے انھیں اے نازِ یکتائی
کہ اب نقشِ قدم ان کے کہیں پائے نہیں جاتے
تجھے اے دیدہ فکر کیوں ہے دل کے زخموں کی
کہ بے شبنم کے بھی یہ پھول مرجھائے نہیں جاتے
جنوں والوں کو کیا سمجھاؤ گے یہ وہ زمانہ ہے
خِرد والے خِرد والوں سے سمجھائے نہیں جاتے
وقارِ عشق یوں بھی شمع کی نظروں میں کچھ کم ہے
پتنگے خود چلے آتے ہیں بلوائے نہیں جاتے
فضیلت ہے یہ انساں کی وہاں تک پہنچاتا ہے
فرشتے کیا فرشتوں کے جہاں سائے نہیں جاتے
بس اتنی بات پر چھینی گئی ہے رہبری ہم سے
کہ ہم سے کارواں منزل پہ لٹوائے نہیں جاتے
قمر کی صبح پوچھئے سورج کی کرنوں سے
ستارے تو گوآ ہی کے لیے آئے نہیں جاتے
قمر جلالوی

میں اس گلی میں اکیلا تھا اور سائے بہت

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 22
وہاں کی روشنیوں نے بھی ظلم ڈھائے بہت
میں اس گلی میں اکیلا تھا اور سائے بہت
کسی کے سر پہ کبھی ٹوٹ کرا گرا ہی نہیں
اس آسماں نے ہوا میں قدم جمائے بہت
نہ جانے رت کا تصرف تھا یا نظر کا فریب
کلی وہی تھی مگر رنگ جھلملائے بہت
ہوا کا رخ ہی اچانک بدل گیا ورنہ
مہک کے قافلے صحرا کی سمت آئے بہت
یہ کائنات ہے میری ہی خاک کا ذرہ
میں اپنے دشت سے گزارا تو بھید پائے بہت
جو موتیوں کی طلب نے کبھی اداس کیا
تو ہم بھی راہ سے کنکر سمیٹ لائے بہت
بس ایک رات ٹھہرنا ہے کیا گلہ کیجے
مسافروں کو غنیمت ہے یہ سرائے بہت
جمی رہے گی نگاہوں پہ تیرگی دن بھر
کہ رات خواب میں تارے اتر کے آئے بہت
شکیبؔ کیسی اڑان، اب وہ پر ہی ٹوٹ گئے
کہ زیرِ دام جب آئے تھے ، پھڑپھڑائے بہت
شکیب جلالی

زرد اداسی کی وحشت ہے اور فضائے شام خزاں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 83
زرد ہوائیں ، زرد آوازیں، زرد سرائے شام خزاں
زرد اداسی کی وحشت ہے اور فضائے شام خزاں
شیشے کی دیوار و در ہیں اور پاس آداب کی شام
میں ہوں میری بیزاری ہے اور صحرائے شام خزاں
سورج پیڑوں پار جھکا ہے شاخوں میں لالی پھوٹی
مہکے ہیں پھر اک گم گشتہ رنگ کے سائے شام خزاں
پیلے پتوں کی سمتوں میں ناچ اٹھے ہیں سبز ملال
اب تک بے احوال نہیں ہے موج ہوائے شام خزاں
تنہائی کا اک جنگل ہے سناٹا ہے اور ہوا
پیڑوں کے پیلے پتے ہیں نغمہ سرائے شام خزاں
جون ایلیا

ہوئے کتنے دن اس کوچے سے آئے، میں نہیں گِنتا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 8
ہیں موسم رنگ کے کتنے گنوائے، میں نہیں گِنتا
ہوئے کتنے دن اس کوچے سے آئے، میں نہیں گِنتا
بھلا خود میں کب اپنا ہوں، سو پھر اپنا پرایا کیا
ہیں کتنے اپنے اور کتنے پرائے میں نہیں گِنتا
لبوں کے بیچ تھا ہر سانس اک گنتی بچھڑنے کی
مرے وہ لاکھ بوسے لے کے جائے میں نہیں گِنتا
وہ میری ذات کی بستی جو تھی میں اب وہاں کب ہوں
وہاں آباد تھے کِس کِس کے سائے میں نہیں گِنتا
بھلا یہ غم میں بھولوں گا کہ غم بھی بھول جاتے ہیں
مرے لمحوں نے کتنے غم بُھلائے میں نہیں گِنتا
تُو جن یادوں کی خوشبو لے گئی تھی اے صبا مجھ سے
انہیں تُو موج اندر موج لائے میں نہیں گِنتا
وہ سارے رشتہ ہائے جاں کے تازہ تھے جو اس پل تک
تھے سب باشندہء کہنہ سرائے، میں نہیں گِنتا
جون ایلیا

بُلبُل کے کاروبارپہ ہیں خندہ ہائے گُل

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 132
ہے کس قدر ہلاکِ فریبِ وفائے گُل
بُلبُل کے کاروبارپہ ہیں خندہ ہائے گُل
آزادئ نسـیم مبارک کہ ہـر طـرف
ٹوٹے پڑے ہیں حلقۂ دامِ ہوائے گُل
جو تھا ، سو موجِ رنگ کے دھوکے میں مر گیا
اے وائے ، نالۂ لبِ خونیں نوائے گُل !
خوش حال اُس حریفِ سیہ مست کا، کہ جو
رکھتا ہو مثلِ سایۂ گُل ، سر بہ پائے گُل
ایجاد کرتی ہے اُسے تیرے لیے بہار
میرا رقیب ہے نَفَسِ عطر سائے گُل
شرمندہ رکھتے ہیں مجھے بادِ بہار سے
مینائے بے شراب و دلِ بے ہوائے گُل
سطوت سے تیرے جلوۂ حُسنِ غیور کی
خوں ہے مری نگاہ میں رنگِ ادائے گُل
تیرے ہی جلوے کا ہے یہ دھوکا کہ آج تک
بے اختیار دوڑے ہے گُل در قفائے گُل
غالب ! مجھے ہے اُس سے ہم آغوشی آرزو
جس کا خیال ہے گُلِ جیبِ قبائے گُل
مرزا اسد اللہ خان غالب

جس کو شبہ ہووے نہ ہرگز جی کے ہمارے جائے سے

دیوان پنجم غزل 1744
اس مغرور کو کیا ہوتا ہے حال شکستہ دکھائے سے
جس کو شبہ ہووے نہ ہرگز جی کے ہمارے جائے سے
کیسا کیسا ہوکے جدا پہلو سے اس بن تڑپا ہے
کیا پوچھو ہو آئی قیامت سر پر دل کے لگائے سے
یمن تجرد سے میں اپنے روز جہاں سے گذرتا ہوں
وحشت ہے خورشید نمط اپنے بھی مجھ کو سائے سے
ہر کوے و ہر برزن میں یا پہر پہر وہ جویاں تھا
یا اب ننگ اسے آتا ہے پاس ہمارے آئے سے
ایک جراحت کیا تسکیں دے موت کے بھوکے صید کے تیں
شاید دل ہو تسلی اس کا زخم دگر کے کھائے سے
رنج و عنا پر درد و بلا پر صبر کیے ہم بیٹھے ہیں
کلفت الفت جاتی رہی کیا جور و ستم کے اٹھائے سے
اول تو آتے ہی نہیں ہو اور کبھو جو آتے ہو
نیچی آنکھیں کیے پھرتے ہو مجلس میں شرمائے سے
جھگڑا ناز و نیاز کا سن کر بے مزہ ہم سے تم تو ہوئے
میر سخن کو طول نہ دو بس بات بڑھے ہے بڑھائے سے
میر تقی میر

چپکے باتیں اٹھائے گئے سر گاڑے ووہیں آئے گئے

دیوان اول غزل 615
کیا کیا بیٹھے بگڑ بگڑ تم پر ہم تم سے بنائے گئے
چپکے باتیں اٹھائے گئے سر گاڑے ووہیں آئے گئے
اٹھے نقاب جہان سے یارب جس سے تکلف بیچ میں ہے
جب نکلے اس راہ سے ہوکر منھ تم ہم سے چھپائے گئے
کب کب تم نے سچ نہیں مانیں جھوٹی باتیں غیروں کی
تم ہم کو یوں ہی جلائے گئے وے تم کو ووہیں لگائے گئے
صبح وہ آفت اٹھ بیٹھا تھا تم نے نہ دیکھا صد افسوس
کیا کیا فتنے سرجوڑے پلکوں کے سائے سائے گئے
اللہ رے یہ دیدہ درائی ہوں نہ مکدر کیونکے ہم
آنکھیں ہم سے ملائے گئے پھر خاک میں ہم کو ملائے گئے
آگ میں غم کی ہو کے گدازاں جسم ہوا سب پانی سا
یعنی بن ان شعلہ رخوں کے خوب ہی ہم بھی تائے گئے
ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی بھی حد ایک آخر ہوتی ہے
کشتے اس کی تیغ ستم کے گورتئیں کب لائے گئے
خضر جو مل جاتا ہے گاہے آپ کو بھولا خوب نہیں
کھوئے گئے اس راہ کے ورنہ کاہے کو پھر پائے گئے
مرنے سے کیا میر جی صاحب ہم کو ہوش تھے کیا کریے
جی سے ہاتھ اٹھائے گئے پر اس سے دل نہ اٹھائے گئے
میر تقی میر

ہونٹوں پہ جان آئی پر آہ وے نہ آئے

دیوان اول غزل 549
کل وعدہ گاہ میں سے جوں توں کے ہم کو لائے
ہونٹوں پہ جان آئی پر آہ وے نہ آئے
زخموں پہ زخم جھیلے داغوں پہ داغ کھائے
یک قطرہ خون دل نے کیا کیا ستم اٹھائے
اس کی طرف کو ہم نے جب نامہ بر چلائے
ان کا نشاں نہ پایا خط راہ میں سے پائے
خوں بستہ جب تلک تھیں در یا رکے کھڑے تھے
آنسو گرے کروڑوں پلکوں کے ٹک ہلائے
اس جنگ جو کے زخمی اچھے نہ ہوتے دیکھے
گل جب چمن میں آئے وے زخم سب دکھائے
بڑھتیں نہیں پلک سے تا ہم تلک بھی پہنچیں
پھرتی ہیں وے نگاہیں پلکوں کے سائے سائے
پر کی بہار میں جو محبوب جلوہ گر تھے
سو گردش فلک نے سب خاک میں ملائے
ہر قطعۂ چمن پر ٹک گاڑ کر نظر کر
بگڑیں ہزار شکلیں تب پھول یہ بنائے
یک حرف کی بھی مہلت ہم کو نہ دی اجل نے
تھا جی میں آہ کیا کیا پر کچھ نہ کہنے پائے
چھاتی سراہ ان کی پائیز میں جنھوں نے
خار و خس چمن سے ناچار دل لگائے
آگے بھی تجھ سے تھا یاں تصویر کا سا عالم
بے دردی فلک نے وے نقش سب مٹائے
مدت ہوئی تھی بیٹھے جوش و خروش دل کو
ٹھوکر نے اس نگہ کی آشوب پھر اٹھائے
اعجاز عشق ہی سے جیتے رہے وگرنہ
کیا حوصلہ کہ جس میں آزار یہ سمائے
دل گر میاں انھوں کی غیروں سے جب نہ تب تھیں
مجلس میں جب گئے ہم غیرت نے جی جلائے
جیتے تو میر ہر شب اس طرز عمر گذری
پھر گور پر ہماری لے شمع گو کہ آئے
میر تقی میر

دل نے صدمے بڑے اٹھائے تھے

دیوان اول غزل 500
رنج کھینچے تھے داغ کھائے تھے
دل نے صدمے بڑے اٹھائے تھے
پاس ناموس عشق تھا ورنہ
کتنے آنسو پلک تک آئے تھے
وہی سمجھا نہ ورنہ ہم نے تو
زخم چھاتی کے سب دکھائے تھے
اب جہاں آفتاب میں ہم ہیں
یاں کبھو سرو و گل کے سائے تھے
کچھ نہ سمجھے کہ تجھ سے یاروں نے
کس توقع پہ دل لگائے تھے
فرصت زندگی سے مت پوچھو
سانس بھی ہم نہ لینے پائے تھے
میر صاحب رلا گئے سب کو
کل وے تشریف یاں بھی لائے تھے
میر تقی میر

وہ خود کو ثقلِ زمیں سے بچائے رکھتا ہے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 72
اک آشیانہ فلک پر بنائے رکھتا ہے
وہ خود کو ثقلِ زمیں سے بچائے رکھتا ہے
یہ کون اپنے کفِ جاں کی اوٹ میں رکھ کر
چراغ تیز ہوا میں جلائے رکھتا ہے
تو کیوں نہ توڑ کے دیکھوں اِسے کہ میں کیا ہوں !
یہ آئینہ مجھے مجھ سے چھپائے رکھتا ہے
وہ عقلِ کُل مجھے حیرت سے دیکھ کر پوچھے
یہ کون شخص ہے جو اپنی رائے رکھتا ہے
یہ ایک روز کی دُوری تو حشر تک نہ کٹے
وفائے عہد وہ کل پر اٹھائے رکھتا ہے
سفر میں دھوپ کے دکھ سے ہوا ہے شائستہ
یہ نخل راہ مجھے سائے سائے رکھتا ہے
آفتاب اقبال شمیم

اور کرنوں کی طرح ہاتھ میں آئے بھی نہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 400
وہ بدن کون ہے کچھ اپنا بتائے بھی نہیں
اور کرنوں کی طرح ہاتھ میں آئے بھی نہیں
دور تک برف بھری رات کے سناٹے ہیں
شہر میں یادکے ڈھلتے ہوئے سائے بھی نہیں
وصل خاموش بھی پُرشوربھی اپنے اندر
آگ محسوس بھی ہو اور جلائے بھی نہیں
کینوس میں مرے رنگوں کو رکھے قید کوئی
اورتصویر تعلق کی بنائے بھی نہیں
کوئی منصورمرے بسترِ آباد کے بیچ
مجھ کو بھی سونے بھی نہ دے اور جگائے بھی نہیں
منصور آفاق

بہتی سپردگی بھری ہائے وہ نرم آگ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 264
وہ نیلی روشنی وہ سرائے وہ نرم آگ
بہتی سپردگی بھری ہائے وہ نرم آگ
وہ موسمِ بہار کا ساحل پہ پہلادن
وہ گرم گرم شام کی چائے وہ نرم آگ
وہ تیز دھن وصال کی وہ روشنی کے گیت
وہ چار ناچتے ہوئے سائے وہ نرم آگ
ہرسمت حسنِ لمس کی بہکی ہوئی کشش
عریانیوں کو رقص میں لائے وہ نرم آگ
حسنِ طلب کی آخری حد پہ کھڑی ہوں میں
لاؤ کہیں سے ڈھونڈھ کے مائے وہ نرم آگ
منصور کیا بتاؤں میں خوابوں کی داستاں
بعداز وصال کیسے سلائے وہ نرم آگ
منصور آفاق

دور تک ساتھ لپٹے ہوئے کچھ سائے گئے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 191
ہم تری بزم سے بازار میں جب لائے گئے
دور تک ساتھ لپٹے ہوئے کچھ سائے گئے
ہائے یہ شوق کہ ہر لب پہ تھا پیغام سفر
وائے یہ وہم کہ ہر گام پہ ٹھہرائے گئے
گرچہ ہر بزم میں اک قصہ ترا چلتا تھا
پھر بھی کچھ قصّے کسی طرح نہ دہرائے گئے
روز ہم اک نئے احساس کی تصویر بنے
روز ہم اک نئی دیوار میں چنوائے گئے
جس جگہ کھوئے ہیں اپنوں کی تمنا میں ہم
وہیں غیروں کی روایات میں ہم پائے گئے
کیا وفا کرکے ہوئے سب کی نظر میں مجرم
ایک عرصہ ترے کوچے میں نہ ہم آئے گئے
ہر قدم حلقۂ صد دام چمن تھا باقیؔ
ہار زنجیر کی صورت کبھی پہنائے گئے
باقی صدیقی

راہرو کوئی نہ ٹھوکر کھائے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 29
ہر طرف بکھرے ہیں رنگیں سائے
راہرو کوئی نہ ٹھوکر کھائے
زندگی حرف غلط ہی نکلی
ہم نے معنی تو بہت پہنائے
دامن خواب کہاں تک پھیلے
ریگ کی موج کہاں تک جائے
تجھ کو دیکھا ترے وعدے دیکھے
اونچی دیوار کے لمبے سائے
بند کلیوں کی ادا کہتی ہے
بات کرنے کے ہیں سو پیرائے
بام و در کانپ اٹھے ہیں باقیؔ
اس طرح جھوم کے بادل آئے
باقی صدیقی