ٹیگ کے محفوظات: زینے

بلندیوں کے امین زینے کو ڈھونڈتا ہوں

عمارتوں میں نہاں دفینے کو ڈھونڈتا ہوں
بلندیوں کے امین زینے کو ڈھونڈتا ہوں
وہ جس کی خاطر ہمارے آبا نے کی تھی ہجرت
میں اپنے شہروں میں اُس مدینے کو ڈھونڈتا ہوں
جو لائے گھر میں مرے گہر ہائے رزقِ طیب
ہمیشہ محنت کے اُس پسینے کو ڈھونڈتا ہوں
دُکھے نہ دشمن کا دل بھی میرے سخن سے باصِرؔ
میں بات کرنے کے اُس قرینے کو ڈھونڈتا ہوں
باصر کاظمی

نہ جانے کیسی ہوا چل رہی ہے سینے میں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 157
بچے گا اب نہ کوئی بادباں سفینے میں
نہ جانے کیسی ہوا چل رہی ہے سینے میں
فضا میں اڑتے ہوئے بادلوں سے یاد آیا
کہ میں اسیر ہوا تھا اسی مہینے میں
وہ رک گیا تھا مرے بام سے اترتے ہوئے
جہاں پہ دیکھ رہے ہو چراغ زینے میں
نکال دی ہے خدا نے نباہ کی صورت
ہمارے سنگ میں اور تیرے آبگینے میں
بدن کی خاک میں کب سے دبا تھا شعلۂ عشق
عجیب چیز ملی ہے مجھے دفینے میں
عرفان صدیقی

تماشا کر کہ میں کشکول گنجینے میں رکھتا ہوں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 143
تجھے پاکر بھی تیری ہی طلب سینے میں رکھتا ہوں
تماشا کر کہ میں کشکول گنجینے میں رکھتا ہوں
اسی رستے سے وہ خورشیدِ فردا گھر میں اترے گا
سو آنکھوں کے دیئے اس رات کے زینے میں رکھتا ہوں
مجھے یہ زندگی نقصان کا سودا نہیں لگتی
میں آنے والی دُنیا کو بھی تخمینے میں رکھتا ہوں
عزیزو تم سے رازِ خوش نوائی کیا چھپانا ہے
میں دل کے چند ٹکڑے اپنے سازینے میں رکھتا ہوں
مرا رنگِ ہنر تو ایک تصویرِ خیالی ہے
میں اک سادہ سا چہرہ دل کے آئینے میں رکھتا ہوں
عرفان صدیقی

خاک طیبہ کے خزینے کی طرف آنکھیں ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 377
آسمانوں کے دفینے کی طرف آنکھیں ہیں
خاک طیبہ کے خزینے کی طرف آنکھیں ہیں
اس میں اک نام دھڑکتا ہے بڑے زور کے ساتھ
اپنی تو اپنے ہی سینے کی طرف آنکھیں ہیں
لوگ مشکل میں عبادت کریں واشنگٹن کی
شکر ہے اپنی ، مدینے کی طرف آنکھیں ہیں
روضے کی جالیاں چھونے کا شرف جس کو ملا
اُس انگوٹھی کے نگینے کی طرف آنکھیں ہیں
آرہا ہے جو سرِ عرش سے میری جانب
اُس اترے ہوئے زینے کی طرف آنکھیں ہیں
جس پہ بطحا کا سفر کرتے تھے عشاقِ رسول
اُس کرم بار سفینے کی طرف آنکھیں ہیں
جس میں آیا تھا اجالوں کا پیمبر منصور
اُس بہاروں کے مہینے کی طرف آنکھیں ہیں
منصور آفاق

خود کو کبھی بوذر کے مدینے سے نکالوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 270
مرنے سے نکالوں کبھی جینے سے نکالوں ؟
خود کو کبھی بوذر کے مدینے سے نکالوں
کچھ دھوپ چراؤں میں کسی گرم بدن کی
کمرے کو دسمبر کے مہینے سے نکالوں
جراح بلاؤں یا کوئی سنت سپیرا
کس طرح ترے درد کو سینے سے نکالوں
آ پھر ترے گیسو کی شبِ تار اٹھا کر
مہتاب سا بالی کے نگینے سے نکالوں
صحرا سا سمندر کی رگ و پے میں بچھا دوں
لیکن میں سفر کیسے سفینے سے نکالوں
ہے تیر جو سینے میں ترازو کئی دن سے
میں چاہتا ہوں اس کو قرینے سے نکالوں
افلاک سے بھی لوگ جنہیں دیکھنے آئیں
وہ خواب خیالوں کے خزینے سے نکالوں
ہر چیز سے آتی ہے کسی اور کی خوشبو
پوشاک سے کھینچوں کہ پسینے سے نکالوں
ہونٹوں کی تپش نے جو ہتھیلی پہ رکھا ہے
سورج میں اُسی آبلہ گینے سے نکالوں
ممکن ہی نہیں پاؤں ، بلندی پہ میں اتنی
تقویم کے ٹوٹے ہوئے زینے سے نکالوں
نیکی ! تجھے کیا علم کہ کیا لطف ہے اس میں
دل کیسے سیہ کار کمینے سے نکالوں
منصور دہکتے ہوئے سورج کی مدد سے
دریا کو سمندر کے دفینے سے نکالوں
منصور آفاق