ٹیگ کے محفوظات: زیاد

زبان سرخ سرِسبز دیتی ہے برباد

دیوان سوم غزل 1127
ہماری بات کو اے شمع بزم کریو یاد
زبان سرخ سرِسبز دیتی ہے برباد
ہمیں اسیر تو ہونا ہے اپنا اچھا یاد
کشش نہ دام کی دیکھی نہ کوشش صیاد
نہ دردمندی سے یہ راہ تم چلے ورنہ
قدم قدم پہ تھی یاں جاے نالہ و فریاد
ہزار فاختہ گردن میں طوق پہنے پھرے
اسے خیال نہیں کچھ وہ سرو ہے آزاد
جہاں میں اتنے ہی آشوب کیا رہیں گے بس
ابھی پڑے گا مرے خون بے گنہ سے زیاد
چمن میں اٹھتے ہیں سنّاہٹے سے اے بلبل
جگرخراش یہ نالے ہیں تیرے منھ سے زیاد
ثبات قصر و در و بام و خشت و گل کتنا
عمارت دل درویش کی رکھو بنیاد
چمن میں یار ہمیں لے گئے تھے وا نہ ہوئے
ہمارے ساتھ یہی غم یہی دل ناشاد
ہمیں تو مرنے کا طور اس کے خوش بہت آیا
طواف کریے جو ہو نخل ماتم فرہاد
نظر نہ کرنی طرف صید کے دم بسمل
یہ ظلم تازہ ہوا اس کشندے سے ایجاد
چلے نہ تیغ اگر ہم نگاہ عجز کریں
ہماری اور نہ دیکھے خدا کرے جلاد
کب ان نے دل میں کر انصاف ہم پہ لطف کیا
وہی ہے خشم وہی یاں سے جا وہی بیداد
تمام ریجھ پچائو ہیں اب تو پھر پس مرگ
کہا کنھوں نے تو کیا عزّاسمہٗ استاد
اگرچہ گنج بھی ہے پر خرابیاں ہیں بہت
نہ پھر خرابے میں اے میر خانماں برباد
میر تقی میر

ہاں کہو اعتماد ہے ہم کو

دیوان اول غزل 381
کہتے ہو اتحاد ہے ہم کو
ہاں کہو اعتماد ہے ہم کو
شوق ہی شوق ہے نہیں معلوم
اس سے کیا دل نہاد ہے ہم کو
خط سے نکلے ہے بے وفائی حسن
اس قدر تو سواد ہے ہم کو
آہ کس ڈھب سے رویئے کم کم
شوق حد سے زیاد ہے ہم کو
شیخ و پیرمغاں کی خدمت میں
دل سے اک اعتقاد ہے ہم کو
سادگی دیکھ عشق میں اس کے
خواہش جان شاد ہے ہم کو
بدگمانی ہے جس سے تس سے آہ
قصد شورو فساد ہے ہم کو
دوستی ایک سے بھی تجھ کو نہیں
اور سب سے عناد ہے ہم کو
نامرادانہ زیست کرتا تھا
میر کا طور یاد ہے ہم کو
میر تقی میر

مثالِ تیغِ رواں چل رہی ہے بادِ مراد

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 1
کنارِ سوتھ بنا ہے کنارِ رکناباد
مثالِ تیغِ رواں چل رہی ہے بادِ مراد
ہمارے کنجِ ابد عافیت میں کچھ بھی نہیں
یہ کارگاہِ عناصر یہ عالمِ ایجاد
یہ دل بھی دیکھ کہ اس خانہ باغِ ہجراں میں
وہی ہے آج بھی جاناں نظامِ بست و کشاد
سوادِ یاد میں چھائی ہوئی ہیں چھاؤنیاں
مسافرانِ جہانِ وصال زندہ باد
پسِ غبارِ مسافت چراغ جلتے رہیں
خدا رکھے یہ پراسرار بستیاں آباد
اب اس کے آگے جو کچھ فیصلہ ہو قسمت کا
ترے سمند بھی میرے غزال بھی آزاد
فقیر جاتے ہیں پھیرا لگا کے ڈیرے کو
مدام دولتِ دولت سرائے یار زیاد
عرفان صدیقی