ٹیگ کے محفوظات: زہر

جینے کی دوا پائی اُسی زہر میں ہم نے

کھینچا تھا کبھی غم جو تِرے شہر میں ہم نے
جینے کی دوا پائی اُسی زہر میں ہم نے
جانا یہ بالآخر کہ نبھانا نہیں ممکن
وہ عہد کیا ہو گا کسی لہر میں ہم نے
جو اِتنی کٹھن رات کی کاوش کا ثمر تھی
اُس صبح کو دیکھا نہیں دوپہر میں ہم نے
ہے کونسا گوشہ جو نظر میں نہیں اپنی
اک عُمر گزاری ہے اِسی شہر میں ہم نے
گھبرا گئے بس تم تو کنارے ہی پہ باصرِؔ
ہاں تیرنا سیکھا تھا اِسی نہر میں ہم نے
باصر کاظمی

دل خرابہ جیسے دلی شہر ہے

دیوان پنجم غزل 1775
دیدئہ گریاں ہمارا نہر ہے
دل خرابہ جیسے دلی شہر ہے
آندھی آئی ہو گیا عالم سیاہ
شور نالوں کا بلاے دہر ہے
دل جو لگتا ہے تڑپنے ہر زماں
اک قیامت ہے غضب ہے قہر ہے
بہ نہیں ہوتا ہے زخم اس کا لگا
آب تیغ یار یکسر زہر ہے
یاد زلف یار جی مارے ہے میر
سانپ کے کاٹے کی سی یہ لہر ہے
میر تقی میر

اُترے وُہ آفتاب لہو کے سپہر سے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 65
سایوں سے ہو کر برہنہ زمیں جس کے قہر سے
اُترے وُہ آفتاب لہو کے سپہر سے
نشے کے شہ نشین پہ کچھ دیر بیٹھ کر
آؤ نا انتقام لیا جائے دیر سے
ہرچند دی خرام کی مہلت ہواؤں نے
لیکن خراجِ مرگ لیا لہر لہر سے
بنجر پڑی ہوئی ہے زمیں جسم و جان کی
سیراب کر اسے کبھی سانسوں کی نہر سے
کب تک بچے گا اپنے تعاقب سے دیکھئے
لے کر مزاجِ شہر، وُہ نکلا ہے شہر سے
ہے جامِ خوابِ عشرت فردا بہت، مجھے
میں مر نہیں سکا ہوں کسی دکھ کے زہر سے
آفتاب اقبال شمیم

واقعہ ہے یہ ستمبر کی کسی سہ پہر کا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 65
ہانپتی ندی میں دم ٹوٹا ہوا تھا لہر کا
واقعہ ہے یہ ستمبر کی کسی سہ پہر کا
سرسراہٹ رینگتے لمحے کی سرکنڈوں میں تھی
تھا نشہ ساری فضا میں ناگنوں کے زہر کا
تھی صدف میں روشنی کی بوند تھرّائی ہوئی
جسم کے اند کہیں دھڑکا لگا تھا قہر کا
دل میں تھیں ایسے فساد آمادہ دل کی دھڑکنیں
ہو بھرا بُلوائیوں سے چوک جیسے شہر کا
آسماں اترا کناروں کو ملانے کے لئے
یہ بھی پھر دیکھا کہ پُل ٹوٹا ہوا تھا نہر کا
عیش بے معیاد ملتی، پر کہاں ملتی تجھے
میری مٹی کی مہک میں شائبہ ہے دہر کا
آفتاب اقبال شمیم

اسے بھی چھوڑ دیا شہر کی طرح میں نے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 563
سلوک خود سے کیا دھر کی طرح میں نے
اسے بھی چھوڑ دیا شہر کی طرح میں نے
گزار دی ہے طلب کی سلگتی گلیوں میں
تمام زندگی دوپہر کی طرح میں نے
اُس ایک لفظ سے نیلاہٹیں ابھرآئی
اتار دل میں لیا زہر کی طرح میں نے
بسر کیا ہے جدائی کی تلخ راتوں میں
اسے بھی مرگ نما قہر کی طرح میں نے
وہ بند توڑنے والا تھا ، چشمۂ احساس
بہا دیا ہے کسی نہر کی طرح میں نے
وہ چل رہی تھی سمندرکی ریت پر منصور
جسے سمیٹ لیا لہر کی طرح میں نے
منصور آفاق

موج میں لہر میں ہم برہنہ ہوئے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 507
کشف کے قہر میں ہم برہنہ ہوئے
موج میں لہر میں ہم برہنہ ہوئے
رنگ گرتے رہے رقصِ مجذوب پر
نور کی نہر میں ہم برہنہ ہوئے
دیکھنے والا کوئی دکھائی نہ دے
اس لئے شہر میں ہم برہنہ ہوئے
واعظِ سگ بیاں سے نکلتی ہوئی
جھاگ کے زہر میں ہم برہنہ ہوئے
اک ابھی خاک سے شخص ڈھانپا گیا
اور پھر دہر میں ہم برہنہ ہوئے
اسم اللہ کا بس تصور کیا
پھر اُسی سحر میں ہم برہنہ ہوئے
ایک چہرہ اچانک گریزاں ہوا
غم کی دوپہر میں ہم برہنہ ہوئے
اور کیا کہتے منصور طوفان سے
شورشِ بحر میں ہم برہنہ ہوئے
منصور آفاق

سِر ساڈے وختاں دی، شُوکدی دوپہر سی

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 19
بَنّے بَنّے مہکدی، گلاباں والی لہر سی
سِر ساڈے وختاں دی، شُوکدی دوپہر سی
لبھ کے وی اوہنوں، اوہنوں لبھنے دا دُکھ سی
سماں سی وصال دا تے، اوہ وی قہر و قہر سی
خورے کس اگّی اساں، دونواں نوں سی پھُوکیا
میں وی رَتو رَت ساں، تے اوہ وی زہر و زہر سی
سماں ساڈی ٹور دا وی، نقشہ سی گور دا
ہار گئے ساں جتھے، اُتھوں قدماں تے شہر سی
اکھاں وچوں اتھرو تے، مُک گئے نیں ماجداُ
عمراں توں لمی، تیری ہِیک کدوں ٹھہر سی
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)