ٹیگ کے محفوظات: زوال

شاطِر ہے تو اگر تو اب چل کوئی چال مختلف

کرنا ہے گر مجھے شکار لا کوئی جال مختلف
شاطِر ہے تو اگر تو اب چل کوئی چال مختلف
تیرے یہ سارے شعبدے میرے لیے نہیں نئے
کر کے دکھا کبھی مجھے کوئی کمال مختلف
لگتے ہیں یہ جو کامیاب ہیں جیسے آب پر حباب
پیشِ نگہ انہیں نہ رکھ ڈھونڈ مثال مختلف
جن کو ملیں بلندیاں دیکھیں اُنہوں نے پستیاں
ہوتی ہے ہر دفعہ مگر وجہِ زوال مختلف
تو نے کہی سُنی سُنائی مجھ سے سُنی سُنائی سُن
چاہے اگر نئے جواب پوچھ سوال مختلف
میری بہار اور خزاں میرے لہو میں ہے نہاں
مریخ و ارض سے مرے ہیں ماہ و سال مختلف
ایسی چلی دمِ سحر شام تلک کیا نہال
بادِ صبا سے تھی بہت موجِ خیال مختلف
باصر کاظمی

اور لمبی خیال کی گھڑیاں

مختصر ہیں وصال کی گھڑیاں
اور لمبی خیال کی گھڑیاں
آپ تھے ہم تھے اور تنہائی
وہ بھی تھیں کیا کمال کی گھڑیاں
آگ بھڑکا گئیں مرے دل کی
موسمِ برشگال کی گھڑیاں
چڑھتے سورج تُو اب تو آنکھیں کھول
سر پہ آئیں زوال کی گھڑیاں
ہر نیا سال ہم سے کہتا ہے
خوب تھیں پچھلے سال کی گھڑیاں
باصر کاظمی

کیا کیا نہ ہمیں خیال آئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 16
محتاج کو جب سے ٹال آئے
کیا کیا نہ ہمیں خیال آئے
کیا یہ بھی اثر ہے بددُعا کا
سُورج کو جو نت زوال آئے
ہے نام کا بھی جو شیرِ بیشہ
گیدڑ کی اُسے نہ چال آئے
ہے جس کے قلم میں عدلِ دوراں
کیونکر نہ اُسے جلال آئے
اُس شخص سے خیر کی طلب کیا
ماجدؔ، جِسے دیکھ بھال آئے
ماجد صدیقی

لہو میں تلخیٔ شیریں دمِ وصال کی تھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 3
نظر میں تازگی عُریانیٔ جمال کی تھی
لہو میں تلخیٔ شیریں دمِ وصال کی تھی
طلوع میں بھی مرے شوخیاں تو تھیں لیکن
مزہ تھا اُس میں جو ساعت مرے زوال کی تھی
وگرنہ تجھ سا طرحدار مانتا کب تھا
جو تھی تو اس میں کرامت مرے سوال کی تھی
بدستِ شوق فقط میں ہی تیغِ تیز نہ تھا
حیا کے ہاتھ میں صُورت تری بھی ڈھال کی تھی
فروِغ نُور تھا جس سے شبِ طلُوعِ بدن
سرِ چراغ وُہ سُرخی ترے ہی گال کی تھی
کنارِ شوق تلک شغلِ کسبِ لُطف گیا
کوئی بھی فکر نہ جیسے ہمیں مآل کی تھی
نہ جس سے تھی کبھی درکار مخلصی ماجدؔ
گرفت مجھ پہ وہ کرنوں کے نرم جال کی تھی
ماجد صدیقی

ملے جو ہم تو لبوں پر سوال کیا کیا تھے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 22
نظر میں واہمے، دل میں خیال کیا کیا تھے
ملے جو ہم تو لبوں پر سوال کیا کیا تھے
وُہ کرکے وار چلے تو غرور سے لیکن
قدم اُنہیں بھی اُٹھانے محال کیا کیا تھے
زمیں اجاڑ، فضا پُر شرر، فلک عریاں
پئے عذاب نظر کو وبال کیا کیا تھے
مہک ہماری لگی بھی تو ہاتھ صرصر کے
کسے جتائیں کہ اپنے کمال کیا کیا تھے
چٹک گلوں کی کہیں دُھول کا سکوت کہیں
رُتوں کے رنگ سجے ڈال ڈال کیا کیا تھے
بہ شکلِ خواب تھا امکانِ وصلِ یار سدا
عُروج کیا تھے ہمارے زوال کیا کیا تھے
رُتوں نے عہد سبھی محو کر دئیے، ورنہ
حروفِ ربط لکھے چھال چھال کیا کیا تھے
تھا ابتدا سے یہی حبس، ہے جو اَب ماجدؔ
نہ پوچھ مجھ سے مرے ماہ وسال کیا کیا تھے
ماجد صدیقی

پہنچا ہے اُس کا ذکر ہر اک بُک سٹال پر

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 40
فن سے مرے کہ ہے جو فرازِ کمال پر
پہنچا ہے اُس کا ذکر ہر اک بُک سٹال پر
ہونٹوں پہ رقص میں وُہی رنگینی نگاہ
محفل جمی ہوئی کسی ٹیبل کی تال پر
شیشے کے اِک فریم میں کچھ نقش قید تھے
میری نظر لگی تھی کسی کے جمال پر
ساڑھی کی سبز ڈال میں لپٹی ہوئی بہار
کیا کچھ شباب تھا نہ سکوٹر کی چال پر
ہنستی تھی وہ تو شوخیِ خوں تھی کُچھ اس طرح
جگنو سا جیسے بلب دمکتا ہو گال پر
رکھا بٹن پہ ہاتھ تو گھنٹی بجی اُدھر
در کھُل کے بھنچ گیا ہے مگر کس سوال پر
میک اَپ اُتر گیا تو کھنڈر سی وہ رہ گئی
جیسے سحر کا چاند ہو ماجدؔ زوال پر
ماجد صدیقی

بچھڑ گئے تو پھر ترا خیال کیوں نہیں رہا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 15
شکستِ خواب کا ہمیں ملال کیوں نہیں رہا
بچھڑ گئے تو پھر ترا خیال کیوں نہیں رہا
اگر یہ عشق ہے تو پھر وہ شدتیں کہاں گئیں
اگر یہ وصل ہے تو پھر محال کیوں نہیں رہا
وہ زلف زلف رات کیوں بکھر بکھر کے رہ گئی
وہ خواب خواب سلسلہ بحال کیوں نہیں رہا
وہ سایہ جو بجھا تو کیا بدن بھی ساتھ بجھ گیا
نظر کو تیرگی کا اب ملال کیوں نہیں رہا
وہ دور جس میں آگہی کے در کھلے تھے کیا ہوا
زوال تھا تو عمر بھر زوال کیوں نہیں رہا
کہیں سے نقش بجھ گئے کہیں سے رنگ اڑ گئے
یہ دل ترے خیال کو سنبھال کیوں نہیں رہا
عرفان ستار

وہ جو اس کی صبحِ عروج تھی وہی میرا وقتِ زوال تھا

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 23
اسے اپنے فردا کی فکر تھی وہ جو میرا واقفِ حال تھا
وہ جو اس کی صبحِ عروج تھی وہی میرا وقتِ زوال تھا
کہاں جاؤ گےمجھے چھوڑ کے، میں یہ پوچھ پوچھ کے تھک گئی
وہ جواب مجھ کو دے نہ سکا وہ تو خود سراپا سوال تھا
وہ ملا تو صدیوں کے بعد بھی میرے لب پر کوئی گلہ نہ تھا
اسے میری چپ نے رلا دیا جسے گفتگو پر کمال تھا
پروین شاکر

تیری مثال دے کے ہم تیری مثال ہو گئے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 170
نام ہی کیا نشاں ہی کیا خواب و خیال ہو گئے
تیری مثال دے کے ہم تیری مثال ہو گئے
سایہ ذات سے بھی رم، عکس صفات سے بھی رم
دشتِ غزل میں آ کے دیکھ ہم تو غزال ہو گئے
کتنے ہی نشہ ہائے ذوق، کتنے ہی جذبہ ہائے شوق
رسمِ تپاکِ یار سے رو بہ زوال ہو گئے
عشق ہے اپنا پائیدار، اس کی وفا ہے استوار
ہم تو ہلاک۔ ورزشِ فرض۔ محال ہو گئے
کیسے زمیں پرست تھے عہدِ وفا کے پاس دار
اڑ کے بلندیوں میں ہم، گرد ملال ہو گئے
قربِ جمال اور ہم، عیش و وصال اور ہم؟
ہاں یہ ہوا کہ ساکنِ شہرِ جمال ہو گئے
جادو شوق میں پڑا قحطِ غبارِ کارواں
واں کے شجر تو سر بہ سر دست سوال ہو گئے
کون سا قافلہ ہے یہ، جس کے جرس کا ہے یہ شور
میں تو نڈھال ہو گیا، ہم تو نڈھال ہو گئے
خار بہ خار گل بہ گل، فصلِ بہار آ گئی
فصلِ بہار آ گئی۔ زخم بحال ہو گئے
شور اٹھا مگر تجھے لذت گوش تو ملی
خون بہا مگر ترے ہاتھ تو لال ہو گئے
ہم نفسانِ وضع دار، مستعانِ بردبار
ہم تو تمہارے واسطے ایک وبال ہو گئے
جون کرو گے کب تلک اپنا مثالیہ تلاش
اب کئی ہجر ہو چکے، اب کئی سال ہو گئے
جون ایلیا

فغاں کہ اب وہ ملالِ ملال ہے بھی نہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 136
جو حال خیز ہو دل کا وہ حال ہے بھی نہیں
فغاں کہ اب وہ ملالِ ملال ہے بھی نہیں
تُو آ کے بے سروکارانہ مار ڈال مجھے
کہ تیغ تھی بھی نہیں اور ڈھال ہے بھی نہیں
مرا زوال ہے اس کے کمال کا حاصل
مرا زوال تو میرا زوال ہے بھی نہیں
کیا تھا جو لبِ خونیں سے اس پہ میں نے سخن
کمال تھا بھی نہیں اور کمال ہے بھی نہیں
وہ اک عجیب زلیخا ہے، یعنی بے یوسف
ہمارے مصر میں اس کی مثال ہے بھی نہیں
تُو ایک کہنہ متاعِ دکانِ شرم ہے، شرم!
ترے بدن کا کوئی حال، حال ہے بھی نہیں
وہ کیا تھی ایک عروسِ ہزار شوہر تھی
سو اب مجھے غمِ ہجر و وصال ہے بھی نہیں
تری گلی میں تو کوڑے کے ڈھیر ہیں جب سے
تری گلی میں کمینوں کا کال ہے بھی نہیں
جون ایلیا

اُس کو خیال بھی نہیں، اپنا خیال بھی نہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 135
حال یہ ہے کہ خواہشِ پُرسشِ حال بھی نہیں
اُس کو خیال بھی نہیں، اپنا خیال بھی نہیں
اے شجرِ حیاتِ شوق، ایسی خزاں رسیدگی؟
پوششِ برگ و گُل تو کیا، جسم پہ چھال بھی نہیں
مُجھ میں وہ شخص ہو چکا جس کا کوئی حساب تھا
سُود ہی کیا، زیاں ہے کیا، اس کا سوال بھی نہیں
مست ہیں اپنے حال میں دل زدگان و دلبراں
صُلح و سلام تو کُجا، بحث و جدال بھی نہیں
تُو میرا حوصلہ تو دیکھ، داد تو دے کہ اب مجھے
شوقِ کمال بھی نہیں، خوفِ زوال بھی نہیں
خیمہ گہ نگاہ کو لوٹ لیا گیا ہے کیا؟
آج افق کے دوش پر گرد کی شال بھی نہیں
اف یہ فضا سے احتیاط تا کہیں اڑ نہ جائیں ہم
بادِ جنوب بھی نہیں، بادِ شمال بھی نہیں
وجہ معاشِ بے دلاں، یاس ہے اب مگر کہاں
اس کے درود کا گماں، فرضِ محال بھی نہیں
غارتِ روز و شب کو دیکھ، وقت کا یہ غضب تو دیکھ
کل تو نڈھال بھی تھا میں، آج نڈھال بھی نہیں
میرے زبان و ذات کا ہے یہ معاملہ کہ اب
صبحِ فراق بھی نہیں، شامِ وصال بھی نہیں
پہلے ہمارے ذہن میں حسن کی اک مثال تھی
اب تو ہمارے ذہن میں کوئی مثال بھی نہیں
میں بھی بہت عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بس
خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں
جون ایلیا

بس ایک خیال چاہیے تھا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 33
کب اس کا وصال چاہیے تھا
بس ایک خیال چاہیے تھا
کب دل کو جواب سے غرض تھی
ہونٹوں کو سوال چاہیے تھا
شوق ایک نفس تھا اور وفا کو
پاسِ مہ و سال چاہیے تھا
اک چہرۂِ سادہ تھا جو ہم کو
بے مثل و مثال چاہیے تھا
اک کرب میں ذات و زندگی ہیں
ممکن کو محال چاہیے تھا
میں کیا ہوں بس ملالِ ماضی
اس شخص کو حال چاہیے تھا
ہم تم جو بچھڑ گئے ہیں ہم کو
کچھ دن تو ملال چاہیے تھا
وہ جسم جمال تھا سراپا
اور مجھ کو جمال چاہیے تھا
وہ شوخِ رمیدہ مجھ کو اپنی
بانہوں میں نڈھال چاہیے تھا
تھا وہ جو کمالِ شوقِ وصلت
خواہش کو زوال چاہیے تھا
جو لمحہ بہ لمحہ مل رہا ہے
وہ سال بہ سال چاہیے تھا
جون ایلیا

شاید وہ میرا خوب تھا، شاید خیال تھا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 26
افسانہ ساز جس کا فراق و وصال تھا
شاید وہ میرا خوب تھا، شاید خیال تھا
یادش بخیر زخمِ تمنا کی فصلِ رنگ
بعد اس کے ہم تھے اور غمِ اندمال تھا
دشتِ گماں میں نالہءِ لیلیٰ تھا گرم خیز
شہرِ زیاں میں قیس اسیرِ عیال تھا
خونِ جگر کھپا کے مصور نے یک نظر
دیکھا تو اک مرقعِ بے خدّ و خال تھا
کل شورِ عرض گاہِ سوال و جواب میں
جو بھی خموش تھا وہ عجب باکمال تھا
ہم ایک بےگذشتِ زمانہ زمانے میں
تھے حال مستِ خال جو ہر دم بحال تھا
پُرحال تھا وہ شب مرے آغوش میں مگر
اس حال میں بھی اس کا تقرّب محال تھا
تھا مست اس کے ناف پیالے کا میرا دل
اس لب کی آرزو میں مرا رنگ لال تھا
اس کے عروج کی تھی بہت آرزو ہمیں
جس کے عروج میں ہی ہمارا زوال تھا
اب کیا حسابِ رفتہ و آئندہ ءِ گماں
اک لمحہ تھا جو روز و شب و ماہ و سال تھا
کل ایک قصرِ عیش میں بزمِ سخن تھی جون
جو کچھ بھی تھا وہاں وہ غریبوں کا مال تھا
جون ایلیا

زوال

آہ پایندہ نہیں،

درد و لذت کا یہ ہنگامِ جلیل!

پھر کئی بار ابھی آئیں گے لمحاتِ جنوں

اس سے شدت میں فزوں، اس سے طویل

پھر بھی پائندہ نہیں!

آپ ہی آپ کسی روز ٹھہر جائے گا

تیرے جذبات کا دریائے رواں

تجھے معلوم نہیں،

کس طرح وقت کی امواج ہیں سرگرمِ خرام؟

تیرے سینے کا درخشندہ جمال

کر دیا جائے گا بیگانہ ءِ نور

نکہت و رنگ سے محرومِ دوام!

تجھے معلوم نہیں؟

اس دریچے میں سے دیکھ

خشک، بے برگ، المناک د رختوں کا سماں

کیسا دل دوز سکوت!

زیرِ لب نالہ کشِ جورِ خزاں

چودھویں رات کا مہتابِ جواں!

ان کے اس پار سے ہے نزد طلوع؛

تجھے معلوم نہیں،

ایک دن تیرا جنوں خیز شباب

تیرے اعضا کا جمال

کر دیا جائے گا اس طرح سے محرومِ فسوں؟

اور پھر چاند کے مانند محبت کے خیال

سارے اس عہد کے گزرے ہوئے خواب

تیرے ماضی کے افق پر سے ہویدا ہوں گے

تجھے معلوم نہیں!

ن م راشد

مہندی لگی قدم سے ہوئے پائمال ہم

دیوان دوم غزل 860
بخت سیہ کی نقل کریں کس سے چال ہم
مہندی لگی قدم سے ہوئے پائمال ہم
کیونکر نہ اس چمن میں ہوں اتنے نڈھال ہم
یاں پھول سونگھ سونگھ رہے ماہ و سال ہم
یا ہر گلی میں سینکڑوں جس جا ملیح تھے
یا زلف و خط کو دیکھتے ہیں خال خال ہم
گذرے ہے جی میں گہ وہ دہن گاہ وہ کمر
کیا جانیں لوگ رکھتے ہیں کیا کیا خیال ہم
جاتیں نہیں اٹھائی یہ اب سرگرانیاں
مقدور تک تو اپنے گئے ٹال ٹال ہم
لوہو کہاں ہے گریۂ خونیں سے تن کے بیچ
کرتے ہیں منھ کو اپنے طمانچوں سے لال ہم
وہ تو ہی ہے کہ مرتے ہیں سب تیرے طور پر
حور و پری کو جان کے کب ہیں دوال ہم
گذرے ہے بسکہ اس کی جدائی دلوں پہ شاق
منھ نوچ نوچ لے ہیں علی الاتصال ہم
منظور سجدہ ہے ہمیں اس آفتاب کا
ظاہر میں یوں کریں ہیں نماز زوال ہم
ظاہر ہوئے تمھیں بھی ہمارے دم اور ہوش
آئے نہ پھر تمھارے گئے ٹک بحال ہم
مطلق جہاں میں رہنے کو جی چاہتا نہیں
اب تم بغیر اپنے ہوئے ہیں وبال ہم
نقصان ہو گا اس میں نہ ظاہر کہاں تلک
ہوویں گے جس زمانے کے صاحب کمال ہم
تھا کب گماں ملے گا وہ دامن سوار میر
کل راہ جاتے مفت ہوئے پائمال ہم
میر تقی میر

تمھارے ساتھ گرفتار حال اپنا ہوں

دیوان اول غزل 328
مثال سایہ محبت میں جال اپنا ہوں
تمھارے ساتھ گرفتار حال اپنا ہوں
سرشک سرخ کو جاتا ہوں جو پیے ہر دم
لہو کا پیاسا علی الاتصال اپنا ہوں
اگرچہ نشہ ہوں سب میں خم جہاں میں لیک
برنگ مے عرق انفعال اپنا ہوں
مری نمود نے مجھ کو کیا برابر خاک
میں نقش پا کی طرح پائمال اپنا ہوں
ہوئی ہے زندگی دشوار مشکل آساں کر
پھروں چلوں تو ہوں پر میں وبال اپنا ہوں
ترا ہے وہم کہ یہ ناتواں ہے جامے میں
وگرنہ میں نہیں اب اک خیال اپنا ہوں
بلا ہوئی ہے مری گوکہ طبع روشن میر
ہوں آفتاب ولیکن زوال اپنا ہوں
میر تقی میر

تھے جیب میں جو سکّے، رستے میں اُچھال آئے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 66
لو حسرت ناداری، ہم دل سے نکال آئے
تھے جیب میں جو سکّے، رستے میں اُچھال آئے
سر کہنیوں پر ٹیکے، بیٹھے ہیں پیا سے ہم
منہ بند شرابوں میں شاید کہ اُبال آئے
تاریک مناظر نے آنکھوں کے نگر لوٹے
ہم منزلِ خواہش سے بے نقد خیال آئے
برسیں مری آنکھوں پر جب ٹوٹ کے دوپہریں
شاید مرے اندر کے سایوں کو زوال آئے
ہم خوار ہوئے کتنے انکار کے صحرا میں
سوچوں میں بگولے سے بن بن کے سوال آئے
جو جان کے گوہر سے قیمت میں زیادہ تھی
لو طاقِ زیاں میں ہم وُہ چیز سنبھال آئے
آفتاب اقبال شمیم

کچھ ربط ہے ضرور خوشی سے ملال کا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 14
پھر کیوں اُداس کر گیا مثردہ وصال کا
کچھ ربط ہے ضرور خوشی سے ملال کا
تھم ہی نہ جائے کثرت اشیا کے بوجھ سے
کیا وقت آ پڑا ہے زمیں پر زوال کا
مٹ جائے دل سے حسرتِ اظہار کی خلش
اک روز ایک شعر کہو اس کمال کا
رہتا ہوں ملکِ غم کی عروس البلاد میں
افسوس ہی ثمر ہے جہاں کی سفال کا
کچھ لت ہی پڑ گئی ہے پرانی شراب کی
جیتا ہوں کل میں گرچہ زمانہ ہے حال کا
شاید کہ حسن وقت سے باہر کی چیز ہے
دیکھا اُسے تو فرق مٹا ماہ و سال کا
ہے میرے دم سے غیب کا حاضر سے رابطہ
ڈھونڈو نا! کوئی آدمی میری مثال کا
آفتاب اقبال شمیم

شبِ سفر میں کبھی ساعتِ زوال بھی آئے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 242
کہیں خیام لگیں قریہ وصال بھی آئے
شبِ سفر میں کبھی ساعتِ زوال بھی آئے
کسی اُفق پہ تو ہو اتصالِ ظلمت و نور
کہ ہم خراب بھی ہوں اور وہ خوش خصال بھی آئے
سخن میں کب سے ہے روشن، یہ کیا ضروری ہے
کہ وہ ستارہ سرِ مطلعِ مثال بھی آئے
سنا ہے سیر کو نکلی ہوئی ہے موجِ نشاط
عجب نہیں طرفِ کوچۂ ملال بھی آئے
ہمیں عطیۂ ترکِ طلب قبول نہ تھا
سو ہم تو اس کی عنایت پہ خاک ڈال بھی آئے
عرفان صدیقی

مجھ کو لے جائے گی، یہ موجِ وصال اور کہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 204
میرا جسم اور کہیں، میرا خیال اور کہیں
مجھ کو لے جائے گی، یہ موجِ وصال اور کہیں
زیرِ افلاک ستاروں کا سفر جاری ہے
اب کے نکلیں گے ہم اے شامِ زوال اور کہیں
دور تک آئنے ویران ہیں آنکھوں کی طرح
ڈھونڈنے جائیے اپنے مہ و سال اور کہیں
کچھ اسی دشت پہ موقوف نہیں تیرِ ستم
زندگی ہے تو ہدف ہوں گے غزال اور کہیں
اس سے اک حرفِ دل آزار کا رشتہ ہی سہی
یوں بھی ہوتی ہے کہاں پرسشِ حال اور کہیں
عرفان صدیقی

یہ سب کرشمے ہوائے وصال ہی کے تو ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 172
سخن میں رنگ تمہارے خیال ہی کے تو ہیں
یہ سب کرشمے ہوائے وصال ہی کے تو ہیں
کہا تھا تم نے کہ لاتا ہے کون عشق کی تاب
سو ہم جواب تمہارے سوال ہی کے تو ہیں
ذرا سی بات ہے دل میں اگر بیاں ہوجائے
تمام مسئلے اظہارِ حال ہی کے تو ہیں
یہاں بھی اس کے سوا اور کیا نصیب ہمیں
ختن میں رہ کے بھی چشمِ غزال ہی کے تو ہیں
جسارتِ سخنِ شاعراں سے ڈرنا کیا
غریب مشغلۂ قیل و قال ہی کے تو ہیں
ہوا کی زد پہ ہمارا سفر ہے کتنی دیر
چراغ ہم کسی شامِ زوال ہی کے تو ہیں
عرفان صدیقی

بہنے لگی رگوں میں کرن اشتعال کی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 464
تشریف آوری تھی چراغِ خیال کی
بہنے لگی رگوں میں کرن اشتعال کی
شاید جنم جنم کی اداسی ہے میرے ساتھ
صدیاں پڑی ہیں صحن میں شامِ ملال کی
میں نے تمام عمر گزاری شبِ فراق
میں شکل جانتا نہیں صبحِ وصال کی
ہے کوئی مادھولال میرے انتظارمیں
آواز آرہی ہے کہیں سے دھمال کی
پچھلے پہر میں گزری ہے منصور زندگی
میری شریکِ عمر ہے ساعت زوال کی
منصور آفاق

ڈرائیں گی یہ غمِ ذوالجلال کی آنکھیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 354
پلیز جمع کرومت ملال کی آنکھیں
ڈرائیں گی یہ غمِ ذوالجلال کی آنکھیں
جواب دو کہ فریضہ یہی تمہارا ہے
ہیں انتظار میں ، میرے سوال کی آنکھیں
بڑا ہے شوق مسافر نوازیوں کا انہیں
بچھا رہے ہیں شجر اپنی چھال کی آنکھیں
مرا خیال ہے تارے نہیں یہ آنکھیں ہیں
شبِ فراق میں صبحِ وصال کی آنکھیں
حنوط کرنا پڑے گا چراغِ شام مجھے
کھلی ہوئی افق پر زوال کی آنکھیں
کٹا ہوا یہ کوئی کیک تو نہیں منصور
پڑی ہیں تھال میں اک اور سال کی آنکھیں
منصور آفاق

طلب شکستہ کا آخر ملال ختم ہوا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 68
فراق و رابطہ کا احتمال ختم ہوا
طلب شکستہ کا آخر ملال ختم ہوا
وہ بجھ گئی ہے تمناجو آگ رکھتی تھی
وہ ہجر راکھ ہوا، وہ وصال ختم ہوا
کوئی بھی اپنے مقاصد میں پیش رفت نہیں
یونہی حیات کا اک اور سال ختم ہوا
ہم اس کی سمت چلے وہ کسی کی سمت چلا
سوال کرنے سے پہلے سوال ختم ہوا
چلی تو جھونک گئی دھول ساری آنکھوں میں
رکی ہوا تو چمن کا جمال ختم ہوا
بجھی ہوئی ہے انگیٹھی سیہ دسمبر میں
اے چوبِ سوختہ تیرا کمال ختم ہوا
کسی کے واسطے افلاک پستیاں منصور
بلندیوں پہ کسی کا زوال ختم ہوا
منصور آفاق