ٹیگ کے محفوظات: زنگ

اک جمع لڑکوں کا بھی لے لے کے سنگ آیا

دیوان سوم غزل 1058
کرتا جنوں جہاں میں بے نام و ننگ آیا
اک جمع لڑکوں کا بھی لے لے کے سنگ آیا
شب شمع کی بھی جھپکی مجلس میں لگ گئی تھی
سرگرم شوق مردن جس دم پتنگ آیا
فتنے فساد اٹھیں گے گھر گھر میں خون ہوں گے
گر شہر میں خراماں وہ خانہ جنگ آیا
ہر سر نہیں ہے شایاں شور قلندری کا
گو شیخ شہر باندھے زنجیر و زنگ آیا
چسپاں ہے اس بدن سے پیراہن حریری
اتنی بھی تنگ پوشی جی اب تو تنگ آیا
باتیں ہماری ساری بے ڈھنگیاں ہیں وے ہی
بوڑھے ہوئے پہ ہم کو اب تک نہ ڈھنگ آیا
بشرے کی اپنے رونق اے میر عارضی ہے
جب دل کو خوں کیا تو چہرے پہ رنگ آیا
میر تقی میر

میں بھی سونا ہوں مگر زنگ بہت ہے مجھ میں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 166
تول مت مجھ کو کہ پاسنگ بہت ہے مجھ میں
میں بھی سونا ہوں مگر زنگ بہت ہے مجھ میں
آؤ میں تم کو تمہارے کئی چہرے دکھلاؤں
آئنہ خانہ ہوں‘ نیرنگ بہت ہے مجھ میں
میرا دشمن مرے سینے سے اترتا ہی نہیں
غالباً حوصلۂ جنگ بہت ہے مجھ میں
اس نے کیا سوچ کے چھیڑا تھا‘ میں کیا بول اٹھا
تار کوئی غلط آہنگ بہت ہے مجھ میں
اتنی افسردہ نہ ہو کوچۂ قاتل کی ہوا
چھو کے تو دیکھ‘ ابھی رنگ بہت ہے مجھ میں
عرفان صدیقی