ٹیگ کے محفوظات: زندانی

اُنہی لفظوں کی نگرانی بہت ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 119
جنوں کی جن میں تابانی بہت ہے
اُنہی لفظوں کی نگرانی بہت ہے
خرد کی سلطنت کیسی کہ اِس پر
اِسی اک دل سا زندانی بہت ہے
انا سے دست برداری جہاں ہو
وہاں جینے میں آسانی بہت ہے
ابھی مشکل ہے صحرا سے نکلنا
کہ چھالوں میں ابھی پانی بہت ہے
طلب کا دشت ہے اور بے دلی کی
مزاجوں میں فراوانی بہت ہے
نکھرتی ہے بڑی مُدّت میں ماجدؔ!
زمیں چہرے کی بارانی بہت ہے
ماجد صدیقی

ان نے جو اس طول سے کھینچا پریشانی کے تیں

دیوان دوم غزل 869
کن نے لپٹے بال دکھلائے ترے مانی کے تیں
ان نے جو اس طول سے کھینچا پریشانی کے تیں
کشتۂ انداز کس کا تھا نہ جانا وہ جواں
لے رہے تھے کچھ ملک اک نعش قربانی کے تیں
چشم کم سے اشک خونیں کو نہ دیکھو زینہار
ڈھونڈتے ہیں مردم اس یاقوت سیلانی کے تیں
طائران خوش معاش اس باغ کے ہم تھے کبھو
اب ترستے ہیں قفس میں اک پر افشانی کے تیں
ہے جہان تنگ سے جانا بعینہ اس طرح
قتل کرنے لے چلیں ہیں جیسے زندانی کے تیں
یہ کہاں بنت العنب سے اٹھتی ہیں کیفیتیں
ہونٹوں سے کیا اس کے نسبت ایسی مستانی کے تیں
دل جو پانی ہو تو آئینہ ہے روے یار کا
خانہ آبادی سمجھ اس خانہ ویرانی کے تیں
فہم میں میرے نہ آیا پردہ در ہے طفل اشک
روئوں کیا اے ہم نشیں میں اپنی نادانی کے تیں
کچھ نظر میں نے نہ کی جی کے زیاں پر اپنے ہائے
دوست میں رکھے گیا اس دشمن جانی کے تیں
جب جلے چھاتی بہت تب اشک افشاں ہو نہ میر
کیا جو چھڑکا اس دہکتی آگ پر پانی کے تیں
میر تقی میر

یاددہ ہے وہ کسو چشم کی گریانی کا

دیوان اول غزل 3
نکلے ہے چشمہ جو کوئی جوش زناں پانی کا
یاددہ ہے وہ کسو چشم کی گریانی کا
لطف اگر یہ ہے بتاں صندل پیشانی کا
حسن کیا صبح کے پھر چہرئہ نورانی کا
کفر کچھ چاہیے اسلام کی رونق کے لیے
حسن زنار ہے تسبیح سلیمانی کا
درہمی حال کی ہے سارے مرے دیواں میں
سیر کر تو بھی یہ مجموعہ پریشانی کا
جان گھبراتی ہے اندوہ سے تن میں کیا کیا
تنگ احوال ہے اس یوسف زندانی کا
کھیل لڑکوں کا سمجھتے تھے محبت کے تئیں
ہے بڑا حیف ہمیں اپنی بھی نادانی کا
وہ بھی جانے کہ لہو رو کے لکھا ہے مکتوب
ہم نے سر نامہ کیا کاغذ افشانی کا
اس کا منھ دیکھ رہا ہوں سو وہی دیکھوں ہوں
نقش کا سا ہے سماں میری بھی حیرانی کا
بت پرستی کو تو اسلام نہیں کہتے ہیں
معتقد کون ہے میر ایسی مسلمانی کا
میر تقی میر

کس پر نہ کھُلا راز پریشانیِ دل کا

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 25
کس شہر نہ شُہرہ ہُوا نادانیِ دل کا
کس پر نہ کھُلا راز پریشانیِ دل کا
آؤ کریں محفل پہ زرِ زخم نمایاں
چرچا ہے بہت بے سر و سامانیِ دل کا
دیکھ آئیں چلو کوئے نگاراں کا خرابہ
شاید کوئی محرم ملے ویرانیِ دل کا
پوچھو تو ادھر تیر فگن کون ہے یارو
سونپا تھا جسے کام نگہبانیِ دل کا
دیکھو تو کدھر آج رُخِ بادِ صبا ہے
کس رہ سے پیام آیا ہے زندانیِ دل کا
اُترے تھے کبھی فیض وہ آئینۂ دل میں
عالم ہے وہی آج بھی حیرانیِ دل کا
فیض احمد فیض

زندانی

دردوں کے مارے دو قیدی!

زنجیروں کی جھنکاروں میں

اک غمگیں سا، اک حیراں سی

کالی کالی کوٹھڑیوں میں

دونوں کی نظروں پر پہرے

ہونٹوں پر مہریں چسپاں سی

لاکھوں آرزوئیں، امیدیں

دوزخ کے ناگوں کی صورت

سینوں میں غلطاں غلطاں سی

سہمے سہمے سے قدموں کی

آہٹ کان میں آ جاتی ہے

آہٹ! مدھم سی، بےجاں سی

تو اک چرخے کی گھوں گھوں میں

گم سی ہو کر رہ جاتی ہے

خوف زدہ، پُرمعنی کھانسی

پھر وہی جلادوں کی نگاہیں

پھر وہی سنگینوں کی نوکیں

پھر وہی خنجر، پھر وہی پھانسی

مجید امجد

سر پہ چھایا تو ہے کچھ ابر پریشانی سا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 14
دیکھیے خون میں کیا اٹھتا ہے طغیانی سا
سر پہ چھایا تو ہے کچھ ابر پریشانی سا
ہاتھ میں موجِ ہوا پاؤں تلے ریگِ رواں
سرو ساماں ہے بہت‘ بے سرو سامانی سا
سیکھ لی کس نے مری شکرگزاری کی ادا
ریت پر ایک نشاں اور ہے پیشانی سا
یہ زمیں اِتنی پُراَسرار بنانے والے
کوئی عالم مری آنکھوں کو بھی حیرانی سا
وہ کسی ساعتِ حاصل سا وصال آمادہ
میں کسی لمحۂ نایاب کا زندانی سا
عرفان صدیقی