ٹیگ کے محفوظات: زنجیریں

زنجیریں

دم بخود سارے شگوفے تھے مہک سے محروم

نکہتِ گُل کی پھواروں پہ کڑے پہرے تھے

چمپئی بیل کی سیّال نمُو پر قدغن

سرو و سوسن کی قطاروں پہ کڑے پہرے تھے

غم کے تاریک لبادوں میں سمن زار اسیر

تیرگی پوش چناروں پہ کڑے پہرے تھے

گیت محبوس عنادل کے لبوں پر تالے

اس گھڑی زمزمہ کاروں پہ کڑے پہرے تھے

پھر ہوا شور کہ وہ طوق و سِلاسل ٹوٹے

تیرہ و تار دریچوں سے اُجالے پھوٹے

اک مسرّت کی کرن تیر گئی گلشن میں

اب شعاعِ گُل و انجم پہ کوئی قید نہیں

لالہِ وقت کے ہونٹوں پہ ستارے ابھرے

پھول سمجھے کہ تبسّم پہ کوئی قید نہیں

بند کلیوں کے چٹکنے کی کھنک لہرائی

جس طرح اذنِ تکلّم پہ کوئی قید نہیں

گھنگھرو باندھ کے پاؤں میں صبا اٹھلائی

جس طرح رقص و ترنّم پہ کوئی قید نہیں

لیکن افسوس کہ زنجیر صدا دیتی ہے

ہر اُبھرتی ہوئی آواز دبا دیتی ہے

شکیب جلالی

آنکھوں کی سنہری جھیلوں میں تصویریں سجدہ کرتی ہیں

آکاش کے ماتھے کی اُجلی تحریریں سجدہ کرتی ہیں
آنکھوں کی سنہری جھیلوں میں تصویریں سجدہ کرتی ہیں
وہ جال ہوں کالی زُلفوں کے یا تا ر ہوں سونے چاندی کے
دیوانے ہیں ہم دیوانوں کو زنجیریں سجدہ کرتی ہیں
ان نازک نازک پوروں سے سنگین لکیریں ڈالی ہیں
تدبیر کے زانو پر اکثر تقدیریں سجدہ کرتی ہیں
مے رنگ لہو کے دانوں کی مالا پہنائی جاتی ہے
بے باک گُلو کی عظمت کو شمشیریں سجدہ کرتی ہیں
پلکوں پہ لرزتے اشکوں کی توقیر نہ جانے کیا ہو گی
کہتے ہیں سُلگتی آہوں کو تاثیریں سجدہ کرتی ہیں
کس آس پہ اپنے شانوں پر ہم بوجھ اٹھائیں محلوں کے
یہ شوخ کَلس جھک جاتے ہیں تعمیریں سجدہ کرتی ہیں
آداب وہی ہیں الفت کے، ترتیب نے پہلو بدلے ہیں
جب رانجھے سجدہ کرتے تھے اب ہیریں سجدہ کرتی ہیں
شکیب جلالی