ٹیگ کے محفوظات: زمین

مگر کمند ابھی دستِ سبکتگین میں ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 331
لہو رکاب پہ ہے اور شکار زمین میں ہے
مگر کمند ابھی دستِ سبکتگین میں ہے
اُسے بھی فکر ہے اسٹیج تک، پہنچنے کی
جو شخص اَبھی صفِ آخر کے حاضرین میں ہے
جو دیکھ لے وہ برہنہ دِکھائی دینے لگے
عجیب طرح کی تصویر میگزین میں ہے
فقط یہ بڑھتا ہوا دستِ دوستی ہی نہیں
ہمیں قبول ہے وہ بھی جو آستین میں ہے
مٹھائیوں میں ملی کرکراہٹیں جیسے
گماں کی طرح کوئی شے مرے یقین میں ہے
نمو پذیر ہوں میں اَپنی فکر کی مانند
مرا وجود مرے ذہن کی زمین میں ہے
عرفان صدیقی

پھر اپنے آپ پہ کرنے لگا یقین بھی میں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 167
بہت دنوں تو رہا اپنا نکتہ چین بھی میں
پھر اپنے آپ پہ کرنے لگا یقین بھی میں
مری طرف ہی دواں ہے مری کمندِ ہوس
یہاں غزال بھی میں ہوں سبکتگین بھی میں
عذاب مجھ سے مجھی پر اترتے رہتے ہیں
فرازِ عرش بھی میں‘ پستیِ زمین بھی میں
اب اپنے آپ کو کس طرح بے بہا کہیے
نگیں شناس بھی میں‘ دانۂ نگین بھی میں
گدا و شاہ سے میرا تپاک ایک سا ہے
کہ کج کلاہ بھی میں‘ بوریا نشیں بھی میں
مجھے وہ آنکھ نہ دیکھے تو میں ہی سب سے خراب
وہ انتخاب جو کر لے تو بہترین بھی میں
عرفان صدیقی

ہے اعتراض فلسطین کے مکین پہ بھی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 474
حجاب پہ بھی ہے اور چادرِ مہین پہ بھی
ہے اعتراض فلسطین کے مکین پہ بھی
جدال ایک نظامِ معاش پر بھی ہے
جہاد قضیۂ ملکیتِ زمین پہ بھی
ہے پیداوار کے سرچشموں پہ بھی ٹکراؤ
ہے ایک غزوہ جہاں میں فروغِ دین پہ بھی
وہ کور چشم مرے عہد کے خدا جن کو
دکھائی داغ دئیے صبحِ بہترین پہ بھی
مرے لئے تو وہ پیشانیاں سیہ منصور
شکن شکن ہوئیں جو لہجۂ متین پہ بھی
منصور آفاق

میں آؤں گا پلٹ کر، میرایقین رکھنا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 48
سورج نکل پڑا ہے گھوڑے پہ زین رکھنا
میں آؤں گا پلٹ کر، میرایقین رکھنا
شیوہ یہی رہا ہے اپنے حسب نسب میں
اچھی شراب پینا ، ساتھی حسین رکھنا
بے شک روایتوں سے کرنا گریز لیکن
نازک خیال رکھنا،لہجہ متین رکھنا
کس کو بتایا جائے اِس اجنبی نگر میں
خالی مکان میں ہے کوئی مکین رکھنا
میں جارہا ہوں آگے ،دشمن پہاڑیوں پر
میرے لئے وطن میں دوگز زمین رکھنا
فنِ سپہ گری ہے دونوں طرف برابر
تلوار ہاتھ میں تم بس بہترین رکھنا
منصور ڈوب جانا دریا میں فلسفوں کے
لیکن بچا کے اپنا دینِ مبین رکھنا
منصور آفاق