ٹیگ کے محفوظات: زلزلے

ہجراں میں اس کے ہم کو بہتیرے مشغلے ہیں

دیوان سوم غزل 1206
روتے ہیں نالہ کش ہیں یا رات دن جلے ہیں
ہجراں میں اس کے ہم کو بہتیرے مشغلے ہیں
جوں دود عمر گذری سب پیچ و تاب ہی میں
اتنا ستا نہ ظالم ہم بھی جلے بلے ہیں
مرنا ہے خاک ہونا ہو خاک اڑتے پھرنا
اس راہ میں ابھی تو درپیش مرحلے ہیں
کس دن چمن میں یارب ہو گی صبا گل افشاں
کتنے شکستہ پر ہم دیوار کے تلے ہیں
جب یاد آگئے ہیں پاے حنائی اس کے
افسوس سے تب اپنے ہم ہاتھ ہی ملے ہیں
تھا جو مزاج اپنا سو تو کہاں رہا ہے
پر نسبت اگلی تو بھی ہم ان دنوں بھلے ہیں
کچھ وہ جو کھنچ رہا ہے ہم کانپتے ہیں ڈر سے
یاں جوں کمان گھر میں ہر وقت زلزلے ہیں
اک شور ہی رہا ہے دیوان پن میں اپنے
زنجیر سے ہلے ہیں گر کچھ بھی ہم ہلے ہیں
پست و بلند دیکھیں کیا میر پیش آئے
اس دشت سے ہم اب تو سیلاب سے چلے ہیں
میر تقی میر